تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نماز اور خطبے کا ایک اور فرق
نماز اور خطبۂ جمعہ کے درمیان ایک فرق اور بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ نماز میں جتنی چیزیں پڑھی جاتی ہیں، وہ سب لفظاً لفظاً معین کر دی گئی ہیں۔ جو شخص عربی نہ جانتا ہو، وہ تھوڑا سا وقت صرف کر کے بآسانی اُن کا ترجمہ یاد کر سکتا ہے، یا اُن کے مفہومات ذہن نشین کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے نماز کے عربی میں ہونے سے اس امر کا کوئی خوف نہیں ہے کہ عربی نہ جاننے والے ان عبارات کے معنوی فوائد سے بالکل ہی محروم رہ جائیں گے جنھیں نماز میں وہ پڑھتے ہیں۔ بخلاف اس کے خطبۂ جمعہ کے لیے کوئی عبارت مقرر نہیں ہے۔ ہر جمعہ کو ایک نیا خطبہ ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ پہلے سے یاد کر لینا، یا اس کا مفہوم ذہن نشین کر کے آنا لوگوں کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا خطبے کے لیے عربی کو لازم کر دینے کا نتیجہ قطعاً یہی ہے کہ غیر عربی دان لوگوں کے حق میں وہ محض ایک بے معنی چیز اور ایک بے جان مذہبی رسم بن کر رہ جائے، اور شارع کے وہ تمام مقاصد فوت ہو جائیں جن کے لیے اس نے جمعہ کا خطبہ مشروع کیا ہے۔ ایک معمولی عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ترکی بولنے والوں کے سامنے سنسکرت میں تقریر کرنا اور فارسی زبان والوں کو جرمن زبان میں مخاطب کرنا محض ایک مہمل حرکت ہے۔ پھر شارع حکیم کے متعلق یہ کیوں کر گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ احکامِ دین کی تفہیم اور مکارمِ اخلاق کی تعلیم کے لیے کسی ایسی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دے گا جس کو سامعین سمجھتے ہی نہ ہوں۔