مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خلاصہ مباحث گزشتہ

یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے، اس سے تین باتیں واضح ہو جاتی ہیں:

ایک یہ کہ خطبہ نماز کا جزو نہیں ہے، لہٰذا نماز کے لیے عربی زبان کے لازم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خطبے کے لیے بھی عربیت واجب ہو۔

دوسرے یہ کہ خطبے کا طریقہ مقرر کرنے سے شارع کے پیشِ نظر جس قدر مقاصد ہیں، وہ سب کے سب ایسی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں جبکہ خطبہ کسی ایسی زبان میں پڑھا جائے جس کو سامعین نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے نماز جن مقاصد کے لیے شارع نے فرض کی ہے، ان میں سے کوئی اہم مقصد مصلیوں کے عدمِ فہم سے فوت نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ عدمِ فہم سے نماز میں تو محض ایک جزئی سا نقصان آتا ہے مگر خطبے میں اس سے کلی نقصان واقع ہو جاتا ہے۔

تیسرے یہ کہ نماز میں عدمِ فہم سے جو ایک جزئی سا نقصان واقع ہوتا ہے، وہ بھی نماز کا ترجمہ یاد کر کے بآسانی رفع کیا جا سکتا ہے، لیکن خطبے میں اس سے جو کلی نقصان واقع ہوتا ہے، اسے رفع کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔