تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فرضیت جمعہ کی حکمت
اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ تمام فرض عبادات میں شارع کا رجحان اجتماعیت کی جانب ہے، اور وہ ان میں سے ہر ایک میں موقع و محل کی مناسبت کے لحاظ سے انفرادیت اور انتشار کو زیادہ سے زیادہ گھٹانے اور اجتماعیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ نمازِ پنجگانہ میں اس کا موقع نہ تھا کہ جماعت کو فرض کر دیا جاتا، کیونکہ ہرروز ہر شخص کے لیے پانچ مرتبہ جماعت کے التزام کو فرض کر دینے میں بہت زیادہ حرج تھا، اس لیے صرف جماعت کی تاکید کر کے چھوڑ دیا گیا اور اجازت دے دی گئی کہ اگر کوئی شخص کسی وقت کی نماز باجماعت ادا نہ کر سکے تو تنہا پڑھ لے۔ یہ ڈھیل جو شخصی حالات و ضروریات کے لحاظ سے دی گئی تھی، اس کی تلافی کے لیے ہفتے میں ایک مرتبہ ایک ایسی نماز فرض کر دی گئی جو بغیر جماعت کے ادا ہی نہیں ہوتی۔ یہی نماز جمعہ ہے۔ اور یہ فرض چونکہ اس رعایت کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے عائد کیا گیا ہے جو نماز پنجگانہ میں انفرادیت اور انتشار کو ایک حد تک راہ دیتی ہے، اس لیے شارع کا منشا یہ ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے میں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو اور جہاں تک ہو سکے تفریق و انتشار کو دور کیا جائے۔