تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
شرعی نقطۂ نظر
یہاں تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے، وہ خالص اجتماعی نقطۂ نظر سے تھا۔ اب ہم شریعت اسلام کے نقطۂ نظر سے اس مسئلے پر ایک نگاہ ڈالیں گے۔
اسلام دینِ فطرت ہے۔ وہ ہر معاملے میں وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو عقلِ عام اور فطرتِ سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ آپ رنگین عینکیں اتار کر صاف نگاہ سے معاملات کو ان کی حقیقی وفطری صورت میں دیکھیے۔ اس طرح کے مشاہدے سے جس نتیجے پر آپ پہنچیں گے وہ بعینہ وہی نتیجہ ہوگا جس پر اسلام پہنچا ہے۔ وہ کوئی خاص لباس اور کوئی خاص طرزِ زندگی انسان کے لیے مقرر نہیں کرتا، بلکہ فطری طور پر جس طرزِ زندگی اور وضع لباس نے نشوونما پایا ہے، اس کو جوں کا توں تسلیم کرلیتا ہے۔ البتہ خالص اخلاقی اور اجتماعی نقطۂ نظر سے وہ چند اصول مقرر کرتا ہے، اور چاہتا ہے کہ ہر قوم اپنے قومی لباس اور طرزِ معاشرت میں ان اصولوں کے مطابق اصلاح کرلے۔
ان میں سب سے پہلی چیز ستر کے حدود ہیں۔ اخلاق کے نقطۂ نظر سے اسلام اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ تمام مرد، خواہ وہ کسی ملک اور کسی قوم کے ہوں، لازمی طور پر اپنے جسم کے اُن حصوں کو چھپائیں جو ناف اور گھٹنے کے درمیان ہیں۔ اور تمام عورتیں، خواہ زمین کے کسی خطے میں رہتی ہوں، چہرے اور ہاتھ پاؤں کے سوا اپنے پورے جسم کو مستور [ واضح رہے کہ یہ عورت کے لیے ستر کے حدود ہیں، نہ کہ حجاب کے، ستر وہ چیز ہے جسے عورت کو اپنے شوہر کے سوا ہر ایک سے چھپانا چاہیے۔ خواہ وہ اس کا باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اور حجاب اس سے زائد ایک چیز کا نام ہے جس میں قریبی رشتہ داروں اور غیر مردوں کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا کہ عورتیں اپنی خانگی زندگی کے حدود سے باہر اپنے حسن اور اپنی آرائش کی نمائش کرتی پھریں۔]رکھیں۔ اگر کسی قوم کی وضع لباس ایسی ہو کہ ستر کی یہ شرطیں اس میں پوری نہ ہوتی ہوں تو اسلام اس سے مطالبہ کرے گا کہ اپنی وضع میں ان شرطوں کے مطابق اصلاح کرلے۔ اور جب وہ اصلاح کرلے گی تو اسلام کا منشا پورا ہو جائے گا۔ پھر اس کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس تراش خراش کا لباس پہنتی ہے۔
دوسری ضروری اصلاح جو اسلام نے تجویز کی ہے، وہ یہ ہے کہ مرد ریشم کا لباس اور سونے چاندی کے زیورات پہننا چھوڑ دیں۔ اور مرد اور عورتیں سب ایسے لباس پہننے سے احتراز کریں جن سے فخر و غرور، بے جا نمائش اور عیش پسندی کا اظہار ہو۔ وہ تکبر کے لباس جو زمین پر لٹکتے ہوئے چلتے ہیں۔[ اس کی ایک نمایاں مثال وہ مخصوص لباس ہیں جو بادشاہ، پوپ اور پادری، ہائی کورٹوں کے جج اور اسی طرح کے بعض اونچے اہل مناصب خاص خاص رسموں کے موقع پر پہنتے ہیں اور جو شادی کے موقع پر دلہنوں کو بھی پہنائے جاتے ہیں۔ یہ لباس اتنا لمبا ہوتا ہے کہ پیچھے کئی کئی آدمی اس کو تھامے ہوئے چلتے ہیں۔ یہی وہ لباسِ تکبر ہے، جس کے متعلق نبیؐ نے فرمایا کہ <<من جر ثوبہ خیلاء لم ینظر اللہ الیہ یوم القیٰمۃ>>۔ ”جو شخص غرور کے ساتھ اپنا کپڑا زمین پر لٹکاتا ہوا چلے گا، خدا قیامت کے روز اس کی صورت دیکھنا ہرگز پسند نہ کرے گا“۔]؎ اور جنھیں پہن کر ایک انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں اپنی بڑائی جتاتا ہے، اسلام کی نظر میں لعنت کے قابل ہیں۔ وہ فخر و ریا کے لباس جنھیں پہن کر ایک طبقے کے لوگ عام انسانوں پر اپنی شان اور ترفع کا رعب جماتے ہیں یا اپنی خوش حالی کی نمائش کرتے ہیں، اسلام کے نزدیک حرام ہیں۔ وہ بھڑکیلے لباس بھی اسلام کو پسند نہیں جن کے اندر نفس پرستی اور عیاشی کی پرورش ہوتی ہے۔ ان چیزوں کو اپنی پوشش سے خارج کر دیجیے۔ پھر آپ کے لیے وہی وضع لباس اسلامی وضع ہے جو آپ کے ملک میں رائج ہو، یا آپ کی سوسائٹی میں مستعمل ہو۔
تیسری چیز جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ شرک اور بت پرستی کی وہ مخصوص علامتیں جنہیں کسی مذہبی فرقے نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہو، آپ کے لباس سے خارج ہونی چاہئیں۔ مثلاً زنار، صلیب، تصویریں، یا ایسی ہی دوسری چیزیں جو غیر اسلامی شعائر کی تعریف میں آتی ہیں۔
ان اخلاقی و تمدنی اصلاحات کے ساتھ ہی اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ مسلمانوں کے لباس میں کوئی ایسی امتیازی چیز ضرور ہو، جس سے وہ غیر مسلموں کے مقابلے میں ممیز ہو سکتے ہوں، تاکہ وہ غیر مسلموں میں خلط ملط نہ ہو جائیں، ایک دوسرے کو پہچان سکیں اور ان کے درمیان جماعتی زندگی مستحکم ہو سکے۔ اس غرض کے لیے اسلام نے کوئی خاص وضع یا علامت مقرر نہیں کی ہے، بلکہ اسے عرفِ عام پر چھوڑ دیا ہے۔ عرب میں جب اسلامی تحریک کا آغاز ہوا تو خود رسولؐ اللہ اور دوسرے مسلمان وہی لباس پہنتے تھے جو عرب کا عام قومی لباس تھا، لیکن آنحضرتؐ نے مسلمانوں کو مشرکین عرب سے ممتاز کرنے کے لیے یہ علامت تجویز فرما دی تھی کہ مسلمان ٹوپی پر عمامہ باندھیں [ ابوداؤد ترمذی اور مستدرک میں یہ روایت آئی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: <<فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس>>۔ ”یعنی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے“۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھ لیا کہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے دائمی قانون ہے چنانچہ اب بھی بعض لوگ اس فعل کو مسنون قرار دیتے ہیں، لیکن یہ محض بے سمجھے حدیث پڑھنے کا نتیجہ ہے۔ دراصل مسنون صرف یہ ہے کہ جب مسلمان کسی ایسی قوم میں ہو، جس کے اکثر افراد غیر مسلم ہوں تو وہ اپنے لباس میں اُن سے الگ کوئی امتیازی نشان پیدا کرلے۔]؎ عام عرب یا تو صرف عمامہ باندھتے تھے یا صرف ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ٹوپی پر عمامہ باندھنا مسلمانوں کے لیے وجہِ امتیاز بن گیا، اور اتنے امتیاز کو اس غرض کے لیے کافی سمجھا گیا کہ اس نئی تحریک کے پیرو اپنے ملک کے عام باشندوں سے الگ پہچانے جاسکیں۔ بعد میں جب تمام عرب مسلمان ہو گیا تو اس علامت کی حاجت باقی نہ رہی، کیونکہ اب عربی لباس ہی اسلامی لباس بن گیا تھا، اور اس لباس کو پہننے والا کوئی شخص کافر و مشرک نہ رہا کہ اسے مسلمانوں سے ممیز کرنے کے لیے کسی امتیازی نشان کی حاجت ہوتی۔ اسی طرح جب ایران اور دوسرے ممالک میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو اوّل اوّل اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ نو مسلم یا تو عربی لباس پہنیں یا اپنے پرانے ملکی لباس میں کسی خاص علامت (مثلاً عمامہ یا خاص طرز کی عبا) کا اضافہ کرلیں۔ کیونکہ اُس وقت اُن کا ملکی لباس غیر مسلموں کا لباس تھا، اور بغیر کسی شانِ امتیاز کے اس کو استعمال کرنے کی صورت میں مسلمانوں کی الگ جماعتی زندگی کسی طرح نہیں بن سکتی تھی، مگر جب ان ممالک کے اکثر باشندے مسلمان ہو گئے، اور ان کے ملّی لباس میں وہ اخلاقی و تمدّنی اصلاحات نافذ کر دی گئیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، تو ان کے مختلف مقامی لباس بعینہٖ اسلامی لباس بن گئے۔ موجودہ زمانے میں بھی جن ممالک کے تمام یا اکثر باشندے مسلمان ہو چکے ہیں، اُن کی ملکی لباس اپنی مختلف وضعوں کے باوجود سب کے سب اسلامی لباس ہیں۔ اور جہاں مسلم اور غیر مسلم آبادی مخلوط ہے، وہاں ہر وہ لباس اسلامی لباس ہے جسے پہن کر ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم میں تمیز ہو سکے۔ اور جہاں کی ساری آبادی غیر مسلم ہے، وہاں ہر اس شخص کے لیے جو اسلام قبول کرے، یہ ضروری ہے کہ عام غیر مسلموں سے ممتاز ہونے کے لیے اپنی وضع میں کسی ایسی علامت کا اضافہ کر لے جو عموماً اسلامی نشان کی حیثیت سے معروف ہو۔