مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اختلافات اور ان کے وجوہ

یہ وہ اُمور ہیں جن پر تمام اُمت کا اتفاق ہے، کیونکہ یہ قطعی طور پر ثابت ہیں۔ ان کے علاوہ جتنے جزئی اُمور ہیں، ان میں سے کوئی بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ اسی لیے ان میں فقہا کے درمیان بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ نصابِ جماعت کیا ہو؟ جمعہ کون قائم کرے؟ خطبے دو ہونے چاہیں یا ایک ہی کافی ہے؟ وغیرہ

اسی قبیل سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لیے کس قسم کی بستی ہونی چاہیے اور اُس بستی سے کتنے فاصلے تک کے لوگوں کو نماز کے لیے آنا چاہیے۔

امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ ایسے قریوں میں جمعہ ناجائز ہے جن کے باشندے گرمی جاڑے میں کہیں اور منتقل ہو جاتے ہوں۔ ان کے سوا ایسے تمام قریوں میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے جن میں چالیس یا اس سے زیادہ عاقل و بالغ آزاد مرد موجود ہوں۔ اس کی تائید میں وہ اُس ہدایت سے استدلال کرتے ہیں جو ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ مدینہ کے بعد پہلا جمعہ جو پڑھا گیا وہ بحرین کے ایک قریہ جُواثیٰ میں تھا۔ نیز یہ روایت بھی ان کے دلائل میں سے ہے کہ حضرت عمرؓ نے اہل بحرین کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ جمعہ ادا کرو جہاں کہیں بھی ہو، مگر ان میں سے پہلی روایت میں محض قریہ کا لفظ ہے جس کا کوئی مفہوم متعین نہیں۔ کم از کم اس سے چالیس مردوں کی قید تو کسی طرح نہیں نکلتی۔ اور ہم کچھ نہیں جانتے کہ امام صاحب کے نزدیک اس قید کا ماخذ کیا ہے۔ رہی دوسری روایت تو وہ جس قدر امام صاحب کی تائید میں ہے، اسی قدر ان کے خلاف بھی ہے۔ اس سے تو جنگل اور ویرانے میں بھی اقامتِ جمعہ کا جواز نکالا جا سکتا ہے، حالانکہ امام صاحب اس کے ناجائز ہونے کو تسلیم کرتے ہیں۔

امام احمد کا مسلک امام شافعی سے ملتا جلتا ہے اور ان کے دلائل بھی وہی ہیں۔

امام صاحب کے نزدیک جمعہ کی نماز ہر ایسے قریہ میں ہو سکتی ہے جس کی آبادی مستقل ہو، خواہ اس کی آبادی چالیس مردوں سے بھی کم ہو۔

امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ جمعہ صرف مصر یعنی شہر میں قائم کیا جا سکتا ہے۔ دیہات میں قائم کرنا جائز نہیں۔