مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تفہیمات

کتابِ تفہیمات کا بنیادی مقصد قرآنی و نبوی تعلیمات کو عصری فکری الجھنوں اور عوامی غلط فہمیوں سے پاک کر کے ایک منظم، علمی اور عملی تناظر میں پیش کرنا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس مجموعۂ مضامین میں اپنے پیش نظر دو مرحلوں کی علمی کارگزاری کا تذکرہ کیا—ایک طرف اُن کی سابقہ تنقیحات جو مغربی نظریات و عملیات کی نفی اور ذہنوں کی صفائی کے لیے تھیں، اور دوسری طرف یہ تفہیمات جو مثبت، تعمیری، اور عوام الناس کے فہم کے لیے اسلام کے مرکزی مسائل کی وضاحت کرتی ہیں۔ طبعِ ششم کے دیبچے میں یہ رفتہ رفتہ واضح ہوتا ہے کہ مصنف نے مواد میں نظرِ ثانی اور ایک نیا مضمون "رسول کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی" شامل کیا، جو مجموعے کے غرض و غایت کی علمی سنجیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔ کتاب کا منطقی سفر ابتدا میں عقل و شواہد کی حدود کی نشان دہی سے شروع ہوتا ہے (بابِ 3 و 4)؛ جہاں "عقل کا فیصلہ" اور "کوتہ نظری" کے ابواب میں مولانا واضح کرتے ہیں کہ عقل بذاتِ خود انسان کے لئے بہت سی حقیقتوں کا مطلوبہ ذریعہ ہے مگر جب معاملاتِ غیب یا علت و معلول کے پوشیدہ سلسلوں کا سوال آئے تو عقل قیاس و ظن تک محدود رہ جاتی ہے اور وحی کا ذریعہ درکار ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے کائنات کے وقوعات کی حکمت کو سمجھنے میں انسان کی حدود اور خدا کے علم و مشاہدہ کے بیچ فاصلہ نمایاں کیا گیا ہے۔ · 3 اجزاء