تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تیسری دلیل
تیسری دلیل جو پیش کی جاتی ہے وہ نسبتاً زیادہ وزنی ہے۔ یعنی یہ کہ عربی زبان کے سوا دوسری زبانوں میں خطبے کے جاری ہونے سے اسلام میں لسانی قومیتوں کی بنا پڑنے کا خوف ہے۔ جمعہ تو تمام مسلمانوں کو بلالحاظ نسل اور زبان و وطن ایک جگہ جمع کرنا چاہتا ہے، مگر غیر عربی خطبہ اُن کو چھانٹ دے گا اور مختلف زبانیں بولنے والوں کے جمعے الگ الگ کرا کے چھوڑ دے گا۔
یہ خطرہ یقیناً اہمیت رکھتا ہے، مگر اس کا علاج کچھ زیادہ دشوار نہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ خطبے کا ایک حصہ تو لازماً عربی زبان میں ہو، اور اسے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، اور رسول اللہ اور آپ کے آل واصحاب پر صلوٰۃ وسلام، اور آیاتِ قرآنی کی تلاوت کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ اس کے بعد دوسرا حصہ جس میں احکام اور مواعظ اور ضروریاتِ زمانہ کے لحاظ سے اسلامی تعلیمات ہوں، وہ ایسی زبان میں ہونا چاہیے جس کو حاضرین یا اُن کی اکثریت سمجھتی ہو، اور اس غرض کے لیے بھی زیادہ تر اُن زبانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو مسلمانوں میں بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہوں۔ مثلاً ہندوستان میں صوبہ دار زبانوں اور مقامی بولیوں کے بجائے زیادہ تر اُردو زبان کا خطبہ ہونا چاہیے کیونکہ اسے قریب قریب ہر صوبے کے مسلمان سمجھتے ہیں۔ البتہ دُور دراز کے گوشوں میں جہاں اُردو سمجھنے والے کم ہیں، مقامی زبانوں کو خطبے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن جہاں مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع ہو، وہاں عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ نہ ہونا چاہیے۔