تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اختلافاتِ سلف
اس آیت کی تفسیر میں سلف کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہوئے ہیں، لیکن جمہور علما نے ہر زمانے میں اس کے حکم کو ظاہر الفاظ اور عموم اطلاق ہی پر باقی رکھا ہے، اس لیے کہ کسی حکمِ قرآنی کو ظاہر سے پھیرنے اور عام کو خاص کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، اور یہاں سرے سے کوئی دلیل ہے ہی نہیں۔ قرآن بھیجنے والے سے بڑھ کر صاحبِ حکمت مُقَنِّن کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ وہ خود اپنے حکم میں کسی استثنا یا تخصیص کی ضرورت سمجھتا ہو تو وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ (المائدہ 5:5) کے ساتھ کوئی قید ضرور بڑھاتا۔ اس کی شانِ تشریع سے یہ امر بہت بعید ہے کہ وہ قانونی احکام کے بیان میں اتنی چست زبان بھی استعمال نہ کر سکے جتنی دُنیا کے واضعینِ قانون استعمال کر لیتے ہیں۔ کس طرح ممکن ہے کہ اس کا مقصد تو اہل کتاب کے کسی خاص گروہ کو حلال کرنا ہو، اور وہ بیانِ حکم کے لیے الفاظ ایسے منتخب کرے جو تمام اہلِ کتاب کے لیے عام ہوں، اور جن میں استثنا اور تخصیص کے لیے قطعاً کوئی اشارہ تک نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اور ائمہ سلف نے عموماً اس آیت کو اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کی عام اجازت پر محمول کیا ہے، اور صرف محمول ہی نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے مطابق عمل بھی کیا ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ بن عفان نے نائلہ بنت فرافصہ کلبیہ سے نکاح کیا، جو نصرانیہ تھی۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے ایک شامی یہودیہ سے نکاح کیا۔ حذیفہ بن الیمان اور کعب بن مالک اور مغیرہ بن شعبہ وغیرہم نے بھی کتابیات سے نکاح کیے یا ان کو نکاح کے پیغام دیے۔
-