تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فتنہ تکفیر
۱۹۳۵ء کی بات ہے کہ ہندوستان میں دو نامور بزرگوں کے خلاف بعض مشہور علمائے کرام نے کفر کا فتویٰ دے دیا تھا۔ اس موقع پر ”ترجمان القرآن“ میں حسب ذیل اشارات لکھے گئے تھے۔ جن کے خلاف فتویٰ دیا گیا تھا، ان کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ اب فتویٰ دینے والے بزرگوں میں سے بھی بعض کا انتقال ہو چکا ہے۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے! اس مضمون کو یہاں نقل کرنے سے مقصود کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے بلکہ محض فائدہ عام پیش نظر ہے۔
مسلمانوں کے دورِ انحطاط میں جہاں اور بہت سے فتنے پیدا ہوئے ہیں وہاں ایک بڑا اور خطرناک فتنہ ایک دوسرے کو کافر اور فاسق ٹھیرانے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے کا بھی ہے۔ لوگوں نے اسلام کے سیدھے سادے عقائد میں موشگافیاں کیں اور قیاس و تاویل سے اُن کے اندر بہت سے ایسے فروع اور جزئیات پیدا کر لیے جو ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد تھے اور جن کی کوئی تصریح کتاب وسنت میں نہ تھی، یا اگر تھی بھی تو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی تھی۔ پھر ان اللہ کے بندوں نے (اللہ انھیں معاف فرمائے) اپنے وضع کردہ فروعی مسائل کے ساتھ اتنا اہتمام کیا کہ انھی پر ایمان کا مدار ٹھہرا دیا، ان کی بنیاد پر اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بیسیوں فرقے بنا دیئے، اور ہر فرقے نے ایک دوسرے کو کافر، فاسق، گمراہ، دوزخی اور خدا جانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ حالانکہ کفر و اسلام کے درمیان اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین میں ایک واضح خط امتیاز کھینچ دیا تھا اور کسی کو یہ حق نہ دیا تھا کہ اپنے اختیار سے جس چیز کو چاہے کفر اور جسے چاہے اسلام ٹھہرا لے۔ اس فتنے کی محرک خواہ تنگ نظری ہو، نیک نیتی کے ساتھ، یا خود غرضی اور حسد اور نفسانیت ہو، بدنیتی کے ساتھ بہرحال اس نے مسلمانوں کی جماعت کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، شاید کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔
جہاں تک کسی شخص کے درحقیقت مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ کرنا تو کسی انسان کا کام نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو براہ راست اللہ سے تعلق رکھتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ قیامت کے روز فرمائے گا۔ رہے بندے تو ان کے فیصلے کرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ خدا اور اُس کے رسول نے ملتِ اسلام کے جو امتیازی نشانات بتائے ہیں، اُن کے لحاظ سے کون شخص سرحدِ اسلام کے اندر ہے اور کون اس سے باہر نکل گیا ہے۔ اس غرض کے لیے جو چیزیں ہم کو بنائے اسلام کی حیثیت سے بتائی گئی ہیں، وہ یہ ہیں:
<<الاسلام ان تشهد ان لا اله الا الله وان محمّدًا رسول الله وتقيم الصلوة وتؤتى الزكوة وتصوم رمضان وتحج البيت ان استطعت اليه سبيلا۔>>(مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی)
اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے، اگر وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔
<<امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمّدًا رسول الله ويقيموا الصلوة ويؤتوا الزكوة فاذا فعلوا ذلك عصموا منى دماء هم الا بحق الاسلام وحسابهم على الله عزوجل۔>>(بخاری، مسلم، احمد)
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ جب وہ ایسا کر دیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گے، الاّ یہ کہ اسلام کا کوئی حق اُن کے خلاف قائم ہو اور ان کا حساب عزوجل کے ذمے ہے۔
یہ ہیں اسلامی سوسائٹی کے سرحدی نشانات۔ جو لوگ ان سرحدوں کے اندر ہیں، ہم کو حکم ہے کہ ان کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کریں۔ انھیں ملت سے خارج کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ اور جو لوگ ان سرحدوں سے باہر نکل گئے ہوں، ان کے ساتھ ہم کو وہی معاملہ کرنا چاہیے جو ”حق الاسلام“ کے لحاظ سے واجبی ہو۔ دونوں صورتوں میں ہم باطن کا حساب لگانے کے مجاز نہیں ہیں۔ ہمارا کام صرف ظاہر کو دیکھنا ہے، اور ہم کیا، اس معاملے میں خود رسول اللہؐ نے بھی ظاہر ہی کو دیکھا ہے۔ چنانچہ بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے یمن سے کچھ رقم نبیؐ کی خدمت میں بھیجی اور حضورؐ نے اسے چار آدمیوں پر تقسیم کر دیا۔ اس پر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا: <<یا رسول اللہ اتق الله>>۔ (یا رسول اللہ! خدا سے ڈریئے!) حضورؐ نے فرمایا: <<ويلك او لست احق اهل الارض ان يتقى الله>>۔ (افسوس تیرے حال پر! روئے زمین کے بسنے والوں میں مجھ سے زیادہ کس کو یہ سزاوار ہے کہ خدا سے ڈرے؟) حضرت خالدؓ اس موقع پر موجود تھے، انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟ فرمایا: <<لا، لعله ان يكون يصلى>>۔ (نہیں! شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو) انھوں نے عرض کیا: کتنے ہی نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں۔ فرمایا: <<انى لم اومر ان انقب عن قلوب الناس ولا اشق بطونهم>>۔ (مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دل کھول کر اور پیٹ چاک کر کے دیکھوں)۔
امام شافعی اور احمد نے اپنی مسندوں میں اور امام مالک نے موطا میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انصار میں سے ایک صاحب ایک مرتبہ نبیؐ سے راز میں بات کر رہے تھے۔ اتنے میں حضورؐ نے بآواز بلند فرمایا: <<اليس يشهد ان لا اله الا الله؟>> (کیا وہ شخص لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا ہے؟) انصاری نے عرض کیا: <<بلى يا رسول الله ولا شهادة له>>۔ (جی ہاں، یا رسول اللہ! مگر اس کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں) حضورؐ نے فرمایا: <<اليس يشهد ان محمدًا رسول الله؟>> (کیا وہ محمد کو اللہ کا رسول نہیں مانتا؟) انھوں نے پھر عرض کیا: <<بلى ولا شهادة له>> (جی ہاں، وہ اقرار تو کرتا ہے مگر اس کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں) حضورؐ نے پھر فرمایا: <<اليس يصلى؟>> (کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟) انھوں نے عرض کیا: <<بلى ولا صلوة له>> (جی ہاں، پڑھتا ہے، مگر اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں) اس پر حضورؐ نے فرمایا: <<اولئك الَّذِينَ نهانى الله عن قتلهم>>۔ (ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے منع فرمایا ہے)۔ اب یہ کتنی بڑی زیادتی کی بات ہے کہ جو مسلمان خدا اور رسول کے بتائے ہوئے ایمانیات پر اعتقاد کا اقرار کرتا ہو، اور مذکورہ بالا تصریحات کے مطابق اسلام کی سرحدوں کے اندر ہو، اسے کوئی شخص خارج از ملت قرار دے بیٹھے۔ یہ جسارت بندوں کے مقابلے میں نہیں خدا کے مقابلے میں ہے۔ درحقیقت یہ خدا ہی سے معارضہ ہے کہ جس کے حق میں خدا کا قانون مسلمان ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، اس کے حق میں ایک بندۂ خدا کفر کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبیؐ نے نہایت سختی کے ساتھ تکفیر و تفسیق سے منع فرمایا ہے، اور یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو کافر کہے گا، درآں حالیکہ وہ حقیقت میں کافر نہ ہو، تو وہ کفر کا فتویٰ خود تکفیر کرنے والے کی طرف پلٹ آئے گا۔
<<ايما رجل قال لاخيه يا كافر فقد باء بها احدهما. (بخاری)>>
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہے گا تو یہ قول دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور پڑے گا۔
<<لا يرمى رجل رجلا بالفسوق ولا يرميه بالكفر الا ارتدت عليه ان لم يكن صاحبه كذالك. (بخاری)>>
جب کبھی ایک شخص دوسرے شخص پر فسق یا کفر کی تہمت لگائے گا تو وہ تہمت اسی پر پلٹ آئے گی، اگر وہ شخص جس پر تہمت لگائی گئی ہے، درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو۔
<<من دعا رجلا بالكفر او قال عَدُوَّ الله وليس كذالك الا حار عليه. (مسلم)>>
جس شخص نے کسی کو کافر یا دشمن خدا کہہ دیا، درآں حالیکہ وہ شخص ایسا نہ تھا تو یہ قول خود قائل پر ضرور پلٹ جائے گا۔
<<من لَّعَنَ مؤمنا فَهُوَ كقتله ومن قذف مؤمنا بكفر فَهُوَ كقتله. (بخاری)>>
جس نے کسی مومن پر لعنت کی، اس نے گویا اُسے قتل کر دیا اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی، اس نے گویا اُسے قتل کر دیا۔
اس طرح کی تکفیر وتفسیق محض ایک فرد ہی کے حق پر دست درازی نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی جرم بھی ہے۔ یہ پوری اسلامی سوسائٹی کے خلاف ایک زیادتی ہے اور اس سے مسلمانوں کو بحیثیتِ مجموعی سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی وجہ تھوڑے غور سے بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔
اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی معاشروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے رنگ، نسل، زبان اور وطن کے رشتوں پر قائم ہوئے ہیں، اور ان کے برعکس اسلامی معاشرے کا قیام صرف دین کے رشتے پر ہوا ہے۔ غیر اسلامی معاشروں میں عقائد و افکار کے اختلاف سے کوئی رخنہ نہیں پڑتا، اس لیے کہ خیالات اور اعتقادات کا اختلاف ان کے افراد کو اس رشتے سے خارج نہیں کرتا جو نسل یا وطن یا زبان یا رنگ کی وحدت سے قائم ہوتا ہے۔ باطن میں خواہ زمین و آسمان کا تفاوت ہو جائے، لیکن خون کا تعلق منقطع نہیں ہو سکتا، نہ وطن کا رشتہ کٹ سکتا ہے، نہ زبان کا رابطہ منفك ہو سکتا ہے، نہ رنگ کی وحدت میں کوئی فرق آسکتا ہے، اس لیے اختلاف عقائد سے غیر مسلم معاشروں کو کسی قسم کا خطرہ نہیں، لیکن اسلام میں جو چیز مختلف نسلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں اور مختلف ملکوں کے افراد کو جوڑ کر ایک قوم بناتی ہے وہ عقیدے کی وحدت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہاں عقیدہ ہی سب کچھ ہے۔ نسل، رنگ، زبان، وطن کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا جو شخص دین اور اعتقاد کے رشتے کو کاٹتا ہے، وہ دراصل اللہ کی اُس رسی پر قینچی چلاتا ہے جس نے ایک خدا کی پرستش کرنے والوں اور ایک رسول کے ماننے والوں اور ایک کتاب پر ایمان لانے والوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کیا ہے۔ اسلام میں کسی شخص یا گروہ کو کافر کہہ دینے کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ اس کے اعتقاد اور نیت پر حملہ کیا گیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی معاشرے اور اس کے ایک فرد یا چند افراد کے درمیان برادری، محبت، معاشرت، معاملت اور تعاون باہمی کے جتنے رشتے تھے، سب کاٹ دیئے گئے اور اُمتِ مسلمہ کے جسم سے اس کے ایک عضو یا متعدد اعضا کو چھانٹ کر پھینک دیا گیا۔
یہ فعل اگر حکم خدا و رسول کے مطابق ہو تو یقیناً حق ہے۔ اس صورت میں سڑے ہوئے عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ہی اسلام کے ساتھ سچی خیر خواہی ہے، لیکن اگر قانونِ الٰہی کی رُوسے وہ عضو سڑا ہوا نہ ہو، اور محض ظلماً اس کو کاٹ ڈالا جائے تو یہ ظلم خود اس عضو سے بڑھ کر اس جسم پر ہوگا جس سے وہ کاٹا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے رشتۂ دینی کے احترام کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
<<وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا النساء 4: 94>>
جو شخص (اظہارِ اسلام کے لیے) تم کو سلام کرے اس کو (بلا تحقیق یونہی) نہ کہہ دیا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ ایک سریہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کو دیکھ کر کہا: السلام علیکم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ مگر ایک مسلمان نے یہ گمان کر کے کہ اس نے محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے، اسے قتل کر دیا۔ نبیؐ کو اس کا علم ہوا تو حضورؐ اس پر سخت ناراض ہوئے اور اس مسلمان سے باز پرس کی۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ ! اس شخص نے محض ہماری تلوار سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھ دیا تھا۔ اس پر سرکار نے فرمایا: ھلا شققت عن قلبہ۔ ’’کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟‘‘۔
ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر ایک شخص مجھ پر حملہ کر کے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے، اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لے، کیا ایسی حالت میں میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟ حضورؐ نے فرمایا: نہیں! صحابی نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ ! اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ آپؐ نے فرمایا: باوجود اس کے تم اس کو نہیں مار سکتے۔ اگر تم نے اس کو مارا وہ اس مرتبے میں ہو گا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میں ہو جاؤ گے جس میں وہ لا الہ الا اللہ کہنے سے پہلے تھا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: اگر کوئی شخص کسی کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے، اس وقت وہ لا الہ الا اللہ کہہ دے، تو مسلمان کو لازم ہے کہ وہ فوراً اپنے نیزے کو واپس کھینچ لے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر۔ یہ سب کچھ اس لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت اور جمعیت کا قیام رابطۂ دینی کے سوا کسی دوسری چیز سے نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں میں اس رابطے کا احترام نہ ہو اور وہ بات بات پر اس کو کاٹنے لگیں تو اُمت کا سارا شیرازہ بکھر کر رہ جائے ، اور اس قوم کی کوئی اجتماعی قوت باقی ہی نہ رہے، جو باطل پرستوں کے مقابلے میں اللہ کا کلمہ بلند کرے، اور خیر و تقویٰ کی طرف دعوت دینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
ہمارا یہ منشا نہیں کہ تکفیر و تفسیق سے مطلقاً پرہیز کیا جائے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص صریح کفریات بکنے اور لکھنے لگے، تب بھی اس کو مسلمان کہا اور سمجھا جاتا رہے۔ یہ منشا نہ کتاب و سنت کی مندرجہ بالا نصوص کا ہے نہ ہماری پچھلی گزارشات کا۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا جس قدر نقصان دہ ہے، کسی کافر کو اسلامی جمعیت میں شامل کرنا یا رکھنا اس سے کچھ کم نقصان دہ نہیں ہے، لیکن جس بات پر ہم زور دینا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کے معاملے میں انتہا درجے کی احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے، اتنی ہی احتیاط جتنی ایک شخص کے قتل کے فتویٰ صادر کرنے کی ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ ہر شخص جو مسلمان ہے اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہے، اس کے حق میں یہی گمان ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں ایمان ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی بات کرتا ہے جس میں کفر کا شائبہ پایا جاتا ہے تو اس کے حق میں یہ اُمید رکھنی چاہیے کہ اس نے کفر کے ارادے سے ایسی بات نہ کی ہوگی بلکہ محض جہل اور ناسمجھی سے کی ہوگی، اس لیے اس کی بات سنتے ہی کفر کا فتویٰ نہ جڑ دینا چاہیے بلکہ عمدہ طریقے سے اس کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی نہ مانے اور اپنی بات پر اصرار کرے، تو اس بات کو جس پر وہ اصرار کر رہا ہے کتاب اللہ پر پیش کر کے دیکھا جائے کہ آیا وہ کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والی صریح نصوص کے خلاف ہے، یا نہیں؟ اور اس شخص کے زیر بحث قول یا فعل میں کسی تاویل کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اگر صریح نصوص کے خلاف نہ ہو، اور تاویل کی گنجائش ہو تو کفر کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ایسے شخص کو گمراہ کہا جا سکتا ہے، اور وہ بھی اُس خاص مسئلے میں، نہ کہ بالکلیہ۔ البتہ اگر اس کا اعتقاد نص صریح کے خلاف ہو، اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اُس کا اعتقاد کتاب ا للہ کی تعلیم کے خلاف ہے، اپنی بات پر قائم رہے، اور اس کے قول کی کوئی مناسب تاویل بھی نہ کی جاسکتی ہو، تو ایسی صورت میں مسئلے کی نوعیت کا لحاظ رکھتے ہوئے فسق یا کفر کا حکم لگایا جاسکتا ہے، لیکن اس پر بھی مدارج و مراتب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ تمام جرم اور تمام مجرم یکساں نہیں ہیں۔ ان میں بھی فرق مراتب ہوتا ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سزا تجویز کی جائے۔ سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا یقیناً بے انصافی ہے۔
جیسا کہ ابتدا میں ہم بیان کر آئے ہیں، کفر و اسلام کا ایک پہلو باطنی ہے اور ایک ظاہری۔ باطن کا تعلق انسان کے دل سے اور نیت سے ہے، اور ظاہر کا تعلق اس کی زبان اور عمل سے۔ ہم ایک حد تک آدمی کے قول و فعل سے بھی اس کی قلبی حالت کا اندازہ کر سکتے ہیں، مگر یہ محض قیاس و گمان ہوگا، علم و یقین نہ ہوگا اور علم و یقین کے بغیر صرف قیاس و گمان کی بنا پر کسی کے ایمان یا کفر کا فیصلہ کر ڈالنا یقیناً ظلم ہوگا، اگر چہ ایسا فیصلہ نفس الامر کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ ایمان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے، کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کس کے دل میں ایمان نہیں ہے۔ <<اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى>> (النجم 30:53) ہماری نظر صرف ظاہر تک جاسکتی ہے، اور ظاہری اقوال و افعال کو دیکھ کر ہم رائے قائم کر سکتے ہیں کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جو شخص ظاہر میں جہالت و نادانی سے کفریات بک رہا ہو، باطن میں وہ ایک سچا اور پکا مومن ہو اور اس کے دل میں خدا و رسول کی محبت بہت سے واعظوں اور مرشدوں سے بڑھ کر ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص زور وشور کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہو اور بظاہر احکام شریعت کی پابندی میں کوئی کمی بھی نہ کرتا ہو، در حقیقت وہ محض ایک ریا کار منافق ہو۔ لہٰذا ظاہر کی بنا پر کسی کے کفر کا فیصلہ کرتے ہوئے انسان کو خدا کی پکڑ سے بہت ڈرنا چاہیے۔ ایسا فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لینا چاہیے کہ ہم کیسی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہیں اور کیا ایسے معقول وجوہ موجود ہیں جن کی بنا پر اس ذمہ داری سے بچنے کی بہ نسبت اس کا بار اُٹھا لینا ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ انسانوں کی طبیعتیں، استعدادیں اور عقلی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ نہایت سادہ لوح ہوتے ہیں۔ ایک سیدھی سادھی بات کو اجمالی طور پر مان لیتے ہیں۔ تفصیلات اور باریکیوں کو سمجھنے کی نہ اُن میں قابلیت ہوتی ہے اور نہ وہ ان کے طالب ہوتے ہیں۔ برعکس اس کے بعض لوگوں میں غور و فکر کا مادہ ہوتا ہے۔ اجمال سے اُن کی تشفی نہیں ہوتی۔ تفصیلات ڈھونڈتے ہیں تو نہیں ملتیں تو تخیل سے پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر غور و فکر کرنے والوں کے رجحانات اور مدارج عقلی بھی بے شمار ہیں۔ کسی کا میلان شک کی طرف ہوتا ہے اور کسی کا یقین کی طرف۔ کوئی مادیات و محسوسات پر فریفتہ ہے اور کوئی معقولات پر۔ کوئی بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی پیچ کی راہوں میں بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی حقیقت پسند (realist) ہوتا ہے اور کسی کو وہم و خیال کی وادیوں میں گھومنا ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔ غرض نظر و فکر کے بہت سے راستے ہیں، جن کو انسانی اذہان اپنی اپنی اُفتادِ طبع کے مطابق اختیار کرتے ہیں۔ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کے طبعی اور فطری رجحانات اور عقلی استعداد کو بدل دے۔ اور کسی انسان کو یہ مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں ہے کہ اُس کی اپنی اُفتادِ طبع اور اس کا اپنا مذاق و رجحان ہی سب انسانوں کے لیے معیار قرار پائے، جس کے مطابق ڈھل جانا سب پر فرض ہو۔
جس خدا نے اسلام کو تمام نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے، اس سے بڑھ کر انسانی طبائع کے ان اختلافات کو جاننے والا، اور ان کی رعایت ملحوظ رکھنے والا اور کون ہو سکتا تھا؟ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی بنیاد ایسے سادہ اور مجمل عقائد پر رکھی ہے جنھیں ایک کم عقل دہقان سے لے کر ایک نکتہ سنج فلسفی اور ایک حقیقت طلب سائنٹسٹ تک سب قبول کر سکتے ہیں۔ ان عقائد کی سادگی اور ان کا اجمال ہی وہ چیز ہے جس نے ان کو ایک عالمگیر انسانی مذہب کے لیے بنیادی اصول بننے کے قابل بنایا ہے۔ جو شخص غور و فکر کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس کے لیے صرف اتنا مان لینا ہی کافی ہے کہ خدا ایک ہے، محمدؐ اس کے رسول ہیں، قرآن اس کی کتاب ہے، اور قیامت کے روز ہمیں اس کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور جو شخص غور و فکر کی قوت رکھتا ہے، اس کے لیے اسی اجمال میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ اپنی استعداد اور اپنے رجحان کے مطابق جستجوئے حقیقت کے لیے بے شمار راہوں پر جاسکتا ہے، جتنی دُور چاہے جا سکتا ہے۔ ساری عمر اسی جستجو میں کھپا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ کسی مقام پر پہنچ کر وہ کہہ سکے کہ جو کچھ جاننا تھا وہ میں جان چکا ہوں۔
پھر ایک سوچنے والا آدمی فکر و تلاش کے لیے چاہے کوئی راہ اختیار کرے اور خواہ کتنی ہی دُور تک چلا جائے، بہر حال جب تک وہ ان حدود کے اندر چل رہا ہے جو کلام اللہ نے اسلام اور کفر کے درمیان کھینچ دی ہیں، وہ دائرۂ ایمان سے خارج نہیں قرار دیا جا سکتا، اگرچہ اس کے ذہن کی جولانیوں سے ہم کو کتنا ہی اختلاف ہو۔
مثال کے طور پر ایمان باللہ کے مسئلے میں ملاکِ امر (اصل حکم) صرف یہ ہے کہ کائنات کا بنانے اور چلانے والا ایک خدا ہے اور وہی اس لائق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ اس بات کو ایک سیدھا سادھا کسان جس طور پر مان سکتا ہے، ممکن نہیں ہے کہ ایک غور و فکر کرنے والا آدمی بھی بس اُسی طرح اور اتنا ہی مجمل طور پر مانے۔ پھر ایک خاص طرح کا رجحان طبع رکھنے والا آدمی اس میں تدبّر کر کے خدا کی ہستی اور اس کی صفات اور کائنات کے ساتھ اس کے تعلق کی کیفیت کے متعلق جو تفصیلی تصورات اپنے ذہن میں جمائے گا، ممکن نہیں ہے کہ ان اُمور کے متعلق ایک دوسرے رُجحان والے آدمی کے تصورات بھی بالکل اُس کے مطابق ہی ہوں، لیکن جب تک یہ سب اصل بنیادی عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، سب کے سب مسلمان ہیں، خواہ تفصیلات میں اُن کے تفکرات باہم کتنے ہی مختلف ہوں اور ان میں سے بعض نے بعض گوشوں میں کیسی ہی سخت ٹھوکریں کھائی ہوں۔
اسی طرح وحی، رسالت، ملائکہ اور آخرت کے متعلق بھی اسلامی عقائد میں چند اُمور اصولی ہیں جن کو دین کے ضروریات (essentials) کہنا چاہیے، اور باقی تفصیلات بھی جن میں سے بعض کے لیے انسان کو کلام اللہ میں صریح یا قابل تاویل اشارات مل جاتے ہیں اور بعض کو انسان خود اپنے رجحان طبع کے مطابق اپنے ذہن سے پیدا کر لیتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر تفصیلات کا حکم لگانے میں کسی انسان کی عقل غلطی کرلے اور اس کے تصورات حقیقت سے بہت دور جا پڑیں لیکن جب تک وہ ان عقائد میں ملاکِ امر کا سررشتہ ہاتھ سے نہیں چھوڑتا، عقل و فکر کی کوئی گمراہی اس کو دائرۂ دین سے خارج نہیں کر سکتی، چاہے مرکزِ دین سے اس کو کتنا ہی بُعد ہو جائے اور ہمیں اس کی ان اعتقادی بے راہ رویوں پر کتنی ہی ملامت اور مذمت کرنی پڑے۔
یہاں پہنچ کر ہم ذرا سا غور کریں تو بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام میں فرقوں کی پیداوار کس طرح ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں ضروریاتِ دین کے متعلق جو سادہ اور مختصر باتیں ارشاد ہوئی ہیں، اور کہیں کہیں ان کی تفصیل میں جو لطیف اشارات کر دیئے گئے ہیں، اُن کو سمجھنے میں مختلف لوگوں نے اپنی عقلی استعدادوں اور اپنے طبعی رجحانات کی بنا پر مختلف راہیں اختیار کیں اور ان کے تفصیلی فہم کے لیے قیاس واستدلال کے ذریعے سے الگ الگ جزئیات اور فروع اخذ کر لیے۔ اس حد تک تو کچھ مضائقہ نہ تھا۔ اور اس میں بھی کوئی خرابی نہ تھی کہ ایک گروہ صرف اپنے مسلک کو حق سمجھتا اور دوسرے گروہوں سے بحث کر کے ان کو اپنے مسلک کی طرف لانے کی کوشش کرتا، لیکن غضب یہ ہوا کہ لوگوں نے بے جا تشدد برت کر اپنے اپنے قیاسی و تاویلی عقائد کو بھی اصول و ضروریاتِ دین میں شامل کر لیا، اور پھر ہر ایک گروہ نے ان تمام گروہوں کی تکفیر شروع کر دی جو اُس کے استنباطی عقائد کے منکر تھے۔ یہیں سے حربِ عقائد کی ابتدا ہوئی ہے اور یہی اس ظلم کا نقطۂ آغاز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عقائد کے باب میں قیاسات و تاویلات سے جو راہیں اختیار کی گئی ہیں، ان میں بہت سے راہیں غلط ہیں، لیکن ہر غلطی لازماً کفر ہی نہیں ہے۔ غلطی کو غلطی کہنا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو گمراہ اور غلط کار سمجھنا اور اس کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرنا بلاشبہ جائز ہے لیکن جب تک کوئی شخص اُس نفسِ حقیقت کا انکار نہیں کرتا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اس کو کافر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں، خواہ اس کی گمراہی کتنی ہی بڑھ گئی ہو۔
افسوس ہے کہ مدتوں کی چلی ہوئی اس روش کو چھوڑنے پر ہمارے علمائے کرام کسی طرح راضی نہیں ہوتے۔ انھوں نے اصل اور فرع، نص اور تاویل کے فرق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ اُن فروع کو بھی اصول بنائے بیٹھے ہیں جن کو انھوں نے خود، یا اُن کے اسلاف نے اپنے مخصوص فہم کی بنا پر اصول سے اخذ کیا ہے۔ وہ ان تاویلات کو بھی نصوص کے درجے میں رکھتے ہیں جو نصوص سے معانی اخذ کرنے میں ان کے گروہ نے اختیار کی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے فروع اور اپنی تاویلات کے منکر کو بھی اسی طرح کافر قرار دیتے ہیں، جس طرح اصول اور نصوص کے منکر کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کھینچ تان اور بے اعتدالی نے پہلے تو اسلامی جمعیت میں صرف تفرقہ ہی پیدا کیا تھا مگر اب دیکھ رہے ہیں کہ علما کی یہ کافر گری مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف علما کی طرف سے، بلکہ خود اُس مذہب کی طرف سے بھی بدگمانیاں پیدا کر رہی ہے، جس کی نمائندگی یہ علما کر رہے ہیں۔ روز بروز علما کا اقتدار مسلمانوں پر سے اُٹھتا جا رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر دل مذہب کی طرف راغب ہونے کے بجائے اس سے دُور بھاگنے لگے ہیں۔ مذہبی مجلسوں اور مذہبی تحریروں کے متعلق یہ عام خیال پیدا ہو گیا ہے کہ ان میں فضول جھگڑوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس غلبۂ کفر و فسق کے زمانے میں عام مسلمانوں کو مذہبی علوم کی واقفیت بہم پہنچانے کا اگر کوئی ذریعہ ہو سکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ علمائے دین پر لوگوں کو اعتماد ہوتا اور وہ ان کی تحریروں اور تقریروں سے فائدہ اٹھاتے ، مگر افسوس کہ ان فرقہ بندی کی لڑائیوں اور ان تکفیر کے مشغلوں سے یہ ایک ذریعہ بھی ختم ہوا جا رہا ہے اور یہ مسلمانوں میں مذہب سے عام ناواقفیت اور گمراہی کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کاش! ہمارے علما اپنی غلطی کو محسوس کریں اور اسلام اور مسلمانوں پر نہیں تو خود اپنے اوپر ہی رحم کر کے اس روش سے باز آ جائیں جس نے ان کو اپنی قوم میں اس قدر رسوا کر دیا ہے، درآں حالیکہ یہی وہ قوم تھی جو کبھی اُن کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔
ترجمان القرآن
(صفر ۱۳۵۴ھ بمطابق مئی ۱۹۳۵ء)