تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دوسری دلیل
مولانا ____ کی دوسری دلیل یہ ہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت کو، جو حسب تصریح قرآن ”جن“ ہیں اللہ تعالیٰ نے غیر مرئی بیان کیا ہے۔ <<اِنَّهٗ یَرٰىکُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ (الاعراف 27:7)>> بخلاف اس کے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو جنّ تھے وہ نظر آتے تھے اور انسانوں کے سے کام کرتے تھے۔ لہٰذا حضرت سلیمان علیہ السلام والے جن وہ آتشیں جن نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں۔
اس کے جواب میں بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام والے جنوں کے متعلق قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ نظر آتے تھے، انسانی شکل میں تھے، اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ عام لوگ بھی اُن کو دیکھتے تھے۔ لہٰذا قرآن کی جو آیت آپ اپنے استدلال میں پیش فرما رہے ہیں، وہ اُن آیات کے خلاف نہیں ہے جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام والے جنوں کا ذکر آیا ہے۔ رہا آپ کا یہ گمان کہ وہ انسانوں کے سے کام کرتے تھے، تو یہ بھی قرآن سے ثابت نہیں۔ قرآن میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ وہ انسانوں کی طرح پانی میں غوطے لگاتے تھے۔ یا انسانوں کی طرح برتن اور عمارتیں بناتے تھے، یا انسانوں کی طرح باندھے جاتے تھے۔ وہاں تو مطلقاً غواصی اور ظروف سازی اور معماری وغیرہ کا ذکر ہے، اور محض اس ذکر سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ غواصی وغیرہ انسانوں کی سی غواصی وغیرہ تھی۔ تاوقتیکہ یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ غواصی بغیر اس طریقے کے ممکن نہیں ہے جس طریقے سے انسان غوطہ لگاتا ہے، اور ظروف سازی وغیرہ انھی طریقوں میں منحصر ہیں جنھیں انسان استعمال کرتے ہیں۔ اگر محض یہ بات کہ جو فعل انسان کرتا ہے وہ کسی ہستی کی طرف منسوب کیا گیا ہے، یہ حکم لگانے کے لیے کافی ہو کہ وہ ہستی لامحالہ انسان ہی ہونی چاہیے، تو ایک شخص نعوذ باللہ خود اللہ تعالیٰ کو انسان کہہ سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں بعض وہ افعال جو انسان کرتے ہیں، خدا کی طرف منسوب کیے گئے ہیں، مثلاً بولنا، دیکھنا، سننا وغیرہ۔
لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر اس پہلو سے قطع نظر کر کے یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ انسانوں کی طرح نظر آتے تھے، اور انسانوں ہی کی طرح وہ سب افعال کرتے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے، تب بھی جو آیت آپ پیش فرما رہے ہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس گروہِ مخلوقات سے خارج تھے جو نظر نہیں آتا، اس لیے کہ کسی مخلوق کا ایسا ہونا کہ وہ انسان کو نظر نہ آئے، اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ اس کا نظر آنا ممکن ہی نہ ہو، اور بطور خرقِ عادت بھی وہ نظر نہ آسکے۔ قرآن مجید میں شیاطین، جن کے غیر مرئی ہونے کی صفت تو صرف ایک ہی جگہ بیان ہوئی ہے، مگر ملائکہ کی اس صفت کا متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے، مثلاً:<<اِنِّیْٓ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ>> الانفال 48:8
شیطان نے اپنے اولیا سے کہا کہ میں فرشتوں کی وہ فوجیں دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔
<<فَاَنْزَلَ اللہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا>> التوبہ 40:9
پھر اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتاری اور ایسے لشکروں سے اس کی تائید کی جن کو تم نہ دیکھتے تھے۔
<<وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا>> التوبہ 26:9
اور اللہ نے وہ لشکر اتارے جن کو تم نہ دیکھتے تھے۔
<<اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا>> الاحزاب 9:33
جب تم پر فوجیں حملہ آور ہوئیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔
<<يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰی يَوْمَئِذٍ>> الفرقان 22:25
جس روز یہ لوگ ملائکہ کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کی خیر نہ ہوگی۔
اس کے باوجود متعدد مواقع پر قرآن مجید ہی نے بیان کیا ہے کہ ملائکہ انسانی شکل میں آئے ہیں۔ نہ صرف انبیا نے بلکہ عام انسانوں تک نے ان کو دیکھا ہے اور ان کی باتیں سنی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان بہت سی مستثنیٰ مثالوں کو دیکھ کر آپ نے ملائکہ کے متعلق بھی کیوں نہ کہہ دیا کہ ان سے مراد بھی انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے؟ غیر مرئی ہونے میں دونوں برابر۔ انسانی شکل میں ظاہر ہونے کے واقعات ملائکہ میں متعدد اور جنوں میں صرف ایک۔ باوجود اس کے تعجب ہے کہ آپ ملائکہ کے متعلق تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بطور معجزہ و خرقِ عادت بار بار وہ انسانی صورت اختیار کرتے رہے ہیں، لیکن جنوں کے متعلق اس قسم کا ایک واقعہ سن کر آپ کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی غیر معمولی دعا کو قبول کر کے جس طرح اللہ تعالیٰ نے خرقِ عادت کے طور پر ہوا اور پرندوں کو اُن کے تابع کیا تھا اور ان کو جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں، اُسی طرح بطور خرقِ عادت اُس نے جنوں کو بھی مرئی و محسوس بنا دیا ہوگا۔ اس کے برعکس آپ قرآن کی تمام تصریحات اور لغتِ عرب کے خلاف یہ تاویل کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں کہ صرف اس خاص موقع پر انسانوں کو ’جن‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور مولانا ...... تو اس ایک مثال سے فائدہ اٹھا کر انسانوں کی ایک مستقل قسم کا نام ہی ’جن‘ فرض کر لیتے ہیں، درآں حالیکہ اس کے لیے کوئی ثبوت اُن کو قرآن سے نہیں ملا اور اس کے خلاف قرآن مجید کی صریح آیات اور کلامِ عرب کی واضح شہادتیں موجود ہیں۔ اتنی بڑی ذمہ داری کا بار اٹھانے سے پہلے کیا اس بات پر غور کر لینا بہتر نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک غیر مرئی مخلوق کو مرئی بنا دینا کون سا ایسا مستبعد اور محال امر ہے کہ اس سے بچنے کے لیے اتنی مشقت اور اتنے تکلف کی حاجت پیش آئے؟ جب آپ نے ملائکہ جیسی لطیف مخلوق کا مرئی ہونا مان لیا تو شیاطین جیسی کثیف مخلوق کے مرئی ہو جانے میں اتنا استبعاد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ قرآن مجید میں جنوں کی جو کچھ حقیقت بیان کی گئی ہے، وہ اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ایک آتشیں مخلوق ہیں، لیکن جبریل فرشتے کے متعلق تو یہ کہا ہے کہ وہ ’’روح‘‘ اور وہ بھی روح اللہ ہیں، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
<<فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا O مریم 17:19>>
پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے اچھے خاصے آدمی کی شکل میں نمودار ہوئی۔
<<وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ O نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ O الشعراء 193:26>>
یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اس کو لے کر روح الامین اترا ہے۔
جب ’’روح اللہ‘‘ جیسی مجردّ از عوارض مادہ شے کو باذن الٰہی مرئی ہو جانا ممکن ہے تو ’’نارالسموم‘‘ جیسی چیز کا، جو مادّے اور مادّی تکاثف سے قریب تر ہے[ جنوں کی تخلیق جس آگ سے ہوئی ہے وہ میرے نزدیک وہ آگ نہیں ہے جو کیمیاوی استحالات سے مادّی اجسام میں پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ ایک خاص طور کی آگ ہے ہماری ان مادّی آگوں سے مختلف۔ چونکہ انسانی زبان میں اس کو تعبیر کرنے کے لیے ’’نار‘‘ سے زیادہ اقرب کوئی لفظ نہ تھا اس لیے حق تعالیٰ نے اس کو اس لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ نور السموات والارض سے مراد وہ شعاع نہیں ہے جو مادّی نیّرات سے نکلتی ہے بلکہ ایک غایت درجہ مجرد اور منزہ حقیقت ہے جس کے تصور سے انسان کے ذہن کو رُوشناس کرنے کے لیے لفظ ’’نور‘‘ سے زیادہ اقرب اور کوئی لفظ نہیں۔ تاہم اگر آپ کی یہ رائے مان لی جائے کہ ’’جن‘‘ اسی مادّی آگ کے بنے ہوئے ہیں جو آکسیجن اور کاربن کے اشتعال مواصلت سے پیدا ہوتی ہے تو روحانی فرشتوں کے مقابلے میں ان مادّی جنوں کا مرئی محسوس بن جانا تو اور بھی زیادہ قریب از عقل و قیاس ہے۔]، جسمیت اختیار کر لینا کیوں ناممکن یا بعید از عقل و قیاس ہے کہ اس سے بچنے کی خاطر قرآن میں تاویلات بعیدہ کا دروازہ کھولا جائے؟ قرآن کی رُو سے تو صرف باری تعالیٰ ہی کی ذات ایسی ہے کہ انسان کی نگاہیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں <<لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ>> (الانعام 103:6) اور <<قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرٰنِيْ>> (الاعراف 143:7) یہ صفت بالذات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ باقی جتنی مخلوقات ہیں، ان میں سے کسی کے لیے بھی یہ صفت بالذات نہیں ہے۔ البتہ بعض کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنا دیا ہے کہ وہ عادتاً نظر نہیں آتیں، لیکن اگر اللہ چاہے تو وہ اس پر قادر ہے کہ خواہ ان کو مرئی کر دے یا ہماری نظروں کو اتنا تیز کر دے کہ ان کی لطیف تر صورتوں کو دیکھ سکیں۔