مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن میں لفظ جن کی تصریح

ان مقدمات کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب دیکھیے کہ قرآن مجید نے لفظ ’جن‘ کو کس معنی میں استعمال کیا ہے۔ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن میں ’جن‘ اور ’انسان‘ کی حقیقتیں الگ الگ بیان کی گئی ہیں، اور بالفاظِ صریح ایک جگہ نہیں، متعدد جگہ بتایا گیا ہے کہ ’جن‘ ایک ناری الاصل مخلوق ہے اور ’انسان‘ ارضی الاصل ہے۔ لفظ ’جن‘ کو استعمال کرنے کے ساتھ جب اس کے معنی کی یہ تصریح بھی خود قرآن ہی نے کر دی ہے تو عقل یہ چاہتی ہے کہ جہاں کہیں وہ الفاظ استعمال ہوں، وہاں اس کے وہی معنی لیے جائیں جن کی تصریح کی جا چکی ہے[ بلاشبہ قرآن میں دو جگہ ’جان‘ کا لفظ ’سانپ‘ کے معنی میں آیا ہے، لیکن اوّل تو خود قرآن ہی میں دوسری جگہ اس چیز کے لیے ثعبان اور حیہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جن سے معلوم ہو گیا کہ وہاں جان کا لفظ کس معنی میں آیا ہے۔ دوسرے لفظ جان بمعنی سانپ عربی میں عام طور پر مستعمل ہے اور موقع ومحل سے ہر عربی دان خود جان لیتا ہے کہ یہاں ’جان‘ سے مراد سانپ ہے۔]۔ اس کے خلاف کوئی اور معنی کے لیے ضروری ہے کہ یا تو اس دوسرے معنی کی بھی کوئی ویسی ہی تصریح قرآن میں موجود ہو، یا پھر آپ کے پاس ایسے قوی دلائل ہوں جن کی بنا پر قرآن کی تصریح کے خلاف معنی میں اس لفظ کو لینا جائز ہو۔ اگر پہلی صورت ہے تو براہِ کرم کوئی ایک ہی آیت ایسی پیش فرمائیے جس میں ’جن‘ بہ معنی ’انسان‘ کی ویسی ہی تصریح ہو جیسی کہ ’جن‘ بہ معنی ’آتشیں مخلوق‘ کی تصریح ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم کو حق ہے کہ آپ کے دلائل کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا وہ اس حد تک قوی ہیں کہ قرآن نے ’جن‘ کے جس معنی کی تصریح کی ہے، اس کو چھوڑ کر آپ کے تجویز کردہ معنی کو قبول کیا جائے۔