تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سورۂ یوسف علیہ السلام کے متعلق چند سوالات
ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب لکھتے ہیں :
”سورۂ یوسف کے دو مقامات سے متعلق آپ کے فہم قرآنی سے مستفیض ہونا چاہتا ہوں:
(۱) قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو تمکن فی الارض عطا فرمایا گیا اور وہ دائرۂ حکومت میں ایک ممتاز حیثیت سے شریک ہو گئے ، لیکن ظاہر ہے کہ آپ رسول تھے، اس لیے فریضۂ رسالت کی سر انجام دہی بھی آپ کے لیے ضروری تھی۔ دربارِ فرعون کے مردِ مومن نے اپنی تقریر میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت پر قومِ فرعون ایمان نہیں لائی تھی اور یہ بھی کہ آپ اپنی وفات تک ڈھیل دیتے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی نبوت کو پیش کیا، لیکن فرعون اور اس کی قوم اس پر ایمان نہ لائی۔ اس کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام اُن کی حکومت میں شریک کار رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا ایک برگزیدہ رسول ایک غیر خدائی نظامِ حکومت کا شریک کار کس طرح رہا۔ درآں حالیکہ وہ اس قوم کے سامنے اپنی نبوت بھی پیش کر چکے تھے اور اس قوم نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایسے منکرینِ دعوتِ اسلام کے خلاف یا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو جہاد کرنا چاہیے تھا یا برسبیلِ تنزل وہاں سے ہجرت لازم تھی ، لیکن آپ نے نہ تو ہجرت ہی فرمائی اور نہ ہی ان کے خلاف جہاد کیا ، بلکہ ان کے خلاف تبرّیٰ و بیزاری کا اعلان بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا آپ اس گتھی کو سلجھائیں گے؟
(۲) دوسرا مسئلہ سجدۂ تعظیمی کا ہے۔ اس پر بھی روشنی ڈالیے“۔
بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ دَور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزرا ہے ، قریب قریب بالکل تاریکی میں ہے [ بائبل اور تلمود بھی اس پر کوئی خاص روشنی نہیں ڈالتیں، اور نہ مصر کی قدیم تاریخ اور اثریات سے اس معاملے میں کچھ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔]؎ اس لیے قرآن کے ارشادات کی تفصیل معلوم کرنا مشکل ہے۔ تاہم قرآن کریم نے اپنے مجمل اشارات سے اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہنے دیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظامِ حکومت کے شریکِ کار کی نہ تھی بلکہ مختارِ کل کی تھی، اور انھوں نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی ہی اس شرط کے ساتھ تھی کہ کل اختیارات اُن کے ہاتھ میں ہوں۔ اس آیت کو بغور پڑھئے :
<<قَالَ اجْعَلْنِىْ عَلَى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ط يوسف 56:12-55>>
یوسف علیہ السلام نے کہا: مجھے ملک کے خزانوں پر حاکم بنادے، یقیناً میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم رکھتا ہوں اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس سر زمین میں اقتدار عطا فرمایا۔ وہ وہاں جس جگہ بھی چاہتا اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔
خط کشیدہ الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ مطالبہ کُلی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کُلی اختیارات ہی۔ ”خزائن الارض“ کا لفظ دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ جگہ شاید فینانس منسٹر یا ریونیو ممبر کی تھی، حالانکہ دراصل اس سے مراد ملک کے جملہ وسائل (resources) ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنتِ مصر کے تمام وسائل میرے ہاتھ میں دیے جائیں، اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری سر زمینِ مصر ان کی تھی۔ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ کو بھی لوگوں نے بہت ہی محدود معنوں میں لے لیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مفہوم بس اتنا ہے کہ حضرت یوسف ہر جگہ مکان بنا لینے یا قیام کرنے کے مجاز تھے۔ حالانکہ درحقیقت اس فقرے سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس سر زمین پر حضرت یوسف علیہ السلام کا اقتدار ویسا ہی تھا، جیسا ایک زمین کے مالک کو اپنی زمین پر حاصل ہوتا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو جو اقتدار حاصل ہوا، اس کے ذریعے سے انھوں نے ملک کے نظامِ تہذیب و تمدن و اخلاق و سیاست کو اصولِ اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کی کیا کوشش کی اور اس میں کس قدر کامیابی ہوئی، تو اس کے متعلق کوئی تفصیل ہمیں تاریخ میں نہیں ملتی۔ البتہ سورۂ مائدہ کے ایک اشارے سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کا اقتدار محض ایک فردِ واحد کا عارضی اقتدار نہ تھا بلکہ آپ کے بعد ایک مدت دراز تک آپ ہی کے جانشین، جو یقیناً مسلمان ہی تھے، مصر پر حکمران رہے۔ انھیں وہ عظمت و شوکت حاصل ہوئی جو اُس دور میں دنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ تھی۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:
<<وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّـلُوْكًا وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ>> المائدہ 20:5
یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو! اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیا پیدا کیے اور تم کو فرمانروا بنایا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔
اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس اسلامی غلبہ و تسلط کا لازمی اثر ملک کی پوری زندگی پر مرتب ہوا ہوگا۔
سورۂ مومن کی جس آیت سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قبطی قوم نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، دراصل اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ میں ایسا سمجھا ہوں کہ وہاں ہندوستان کی سی صورت پیش آئی تھی کہ ملک کی آبادی کے معتدبہ حصے نے اسلام قبول کیا اور بڑی اکثریت اپنے شرک پر قائم رہی [ بائبل کا بیان ہے کہ مصر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو لوگ نکلے تھے ان میں چھ لاکھ تو صرف مردانِ جنگی تھے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی مجموعی تعداد ۲۰ لاکھ سے کم نہ ہوگی اور یہ مصر کی آبادی کا کم از کم ۱۰ فی صد حصہ تھی۔]؎ پھر جس حصے نے اسلام قبول کیا وہی ایک مدت تک برسرِ اقتدار رہا، مگر رفتہ رفتہ اخلاقی و اعتقادی انحطاط نے اس کو غلامی اور گمراہی کی پستیوں میں گرا دیا حتیٰ کہ غلو اور اشخاص پرستی کے فتنے میں پڑ کر عملاً اس میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی خاص فرق باقی نہ رہا۔ اسی چیز کی طرف مومن آلِ فرعون نے اشارہ کیا ہے:
<<وَلَقَدْ جَآئَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِىْ شَكٍّ مِّمَّا جَآئَكُمْ بِهٖ حَتّٰى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا>> المؤمن 34:40
اس سے پہلے یوسف تم لوگوں کے پاس صریح نشانیاں لے کر آئے تھے، مگر تم اس چیز میں برابر شک کرتے رہے جسے وہ لائے تھے، پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی رسول کو ہرگز نہ بھیجے گا۔
خط کشیدہ دو فقروں میں سے پہلا فقرہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ملک کی بیشتر آبادی آپ کی نبوت کے متعلق شک میں رہی، جیسا کہ اکثر انبیا کے ساتھ ہوا ہے۔ اور دوسرے فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے بعد جو لوگ آپ کے معتقد ہوئے وہ آپ کی شخصیت کے گرویدہ ہو کر غلو میں مبتلا ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب کوئی رسول نہیں آسکتا اور اسی بنا پر انھوں نے بعد کے آنے والے انبیا کو ماننے سے انکار کر دیا، جیسا کہ آگے چل کر یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا، درآں حالیکہ حضرت یوسف یا حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ علیہم السلام میں سے کسی کے بعد بھی اللہ کی طرف سے ختمِ نبوت کا اعلان نہ ہوا تھا۔
بہر حال اس آیت کے یہ معنی نہیں نکالے جاسکتے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر ملک میں کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا بلکہ دوسرے اشارات کی مدد سے قیاس یہی ہوتا ہے کہ ملک میں اہل ایمان کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جس نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مدت تک اسلامی نظامِ حکومت کو قائم رکھا اور بعد میں بتدریج مائلِ انحطاط (degenerate) ہوتا چلا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو اُن کے والدین اور بھائیوں نے جو سجدہ کیا تھا، اُس کی حقیقت جہاں تک میں تحقیق کر سکا ہوں، یہ ہے کہ قرآن مجید کے اس مقام پر ”سجدہ“ کا لفظ اُس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے جو اسلامی اصطلاح کے ساتھ مخصوص ہے، یعنی زمین پر ہاتھ، گھٹنے اور پیشانی ٹکانا۔ یہ اصطلاحی سجدہ تو فی الحقیقت سجدے کی وہ مکمل صورت ہے جسے عبادتِ الٰہی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ورنہ لغت میں اس کے معنی عاجزی اور نیاز مندی کے ہیں، جس کا اظہار کسی فعل یا حالت سے ہو سکتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ہاں یہ چیز آداب تہذیب میں داخل تھی کہ کسی کے احسان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یا کسی کے سامنے احترام کا اظہار کرنے کے لیے اس کے آگے کھڑے ہو کر سر خم کرتے تھے اور اسے ان کی زبان میں لفظ سجود سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ چنانچہ تورات کے عربی ترجمے میں لکھا ہے کہ قومِ لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی صورت میں پہنچے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے استقبال کے لیے نکلے اور زمین کی طرف جھکے (<<فلما نظر ركض لاستقبالهم من باب الخيمة وسجد الى الارض>>)۔ اسی طرح جب حضرت سارہؓ کا انتقال ہوا اور بنی حت نے اُن کی قبر کے لیے زمین بلا معاوضہ پیش کی تو یہاں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس قوم کے لیے اعترافِ احسان میں سجدہ کیا (<<فقام ابراهيم وسجد لشعب الارض لبني حث>> اور <<فسجد ابراهيم امام شعب الارض>>)، یہ وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں bow کرنا کہتے ہیں، جو آج تک یورپ میں داخلِ آداب ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ظلم کے جواب میں جس عفو اور فضل و احسان کا سلوک کیا تھا اور کنعان کی بدوی زندگی کے بجائے مصر میں شان اور عزت کے جس مقام پر انھیں پہنچایا تھا، اس کے اعتراف اور تشکر میں ان کے بھائیوں اور ان کے والدین نے اپنے ہاں کی تہذیب کے مطابق سر خم کیا اور یہی وہ بے اختیارانہ جھکاؤ تھا جسے قرآن مجید نے <<خَرُّوْا لَهُ سُجَّدًا>> کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔
ترجمان القرآن
(ربیع الثانی ۱۳۶۳ھ ۔ اپریل ۱۹۴۴ء)