تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
صاحبین کا مذہب
امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عربی پڑھنے پر قدرت رکھتا ہو تو غیر عربی میں نماز پڑھنا درست نہیں۔ ہاں اگر وہ عربی کا تلفظ کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو غیر عربی میں پڑھ سکتا ہے۔ اُن کا استدلال یہ ہے کہ نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ <<فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ>> (المزمل 20:73) اور ظاہر ہے کہ قرآن کے ترجمے پر ”قرآن“ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لہٰذا جس نماز میں قرآن کے بجائے اس کا ترجمہ پڑھا جائے وہ نماز ہی نہ ہوگی، مگر جو شخص عربی کے ”تلفظ“ پر قادر نہ ہو، اس کے لیے مجبوری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی ہے۔ ایسے شخص کی نماز بالکل اُسی طرح ہوجائے گی، جس طرح اُس شخص کی نماز جو رکوع و سجود سے عاجز ہو اور اشارہ سے ادا کرے۔