تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مانعین خطبہ غیر عربیہ کے دلائل
اب ہم کو یہ دیکھنا چاہیے کہ غیر عربی خطبے کے جواز میں کوئی امر شرعی تو مانع نہیں ہے؟ اس سلسلے میں جب ہم قرآن اور سنت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم کو کہیں صراحۃً کیا معنی کنایتاً بھی کوئی حکم ایسا نہیں ملتا جس سے خطبے کے لیے عربی زبان ضروری سمجھی جا سکے۔ جو لوگ عربی کے لزوم پر زور دیتے ہیں، انھوں نے بھی کوئی آیت یا حدیث پیش نہیں کی ہے۔ ان کا استدلال صرف یہ ہے کہ نبیؐ اور آپؐ کے صحابہ اور سلف صالح نے ہمیشہ عربی زبان ہی میں خطبہ پڑھا ہے اور کبھی خطبے کے لیے عربی کے سوا دوسری زبان استعمال نہیں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبیؐ کی مجالس میں کبھی کبھی غیر عرب بھی موجود ہوتے تھے، مگر کسی روایت میں نہیں آیا کہ آپ نے ان کی تفہیم کے لیے غیر عربی میں خطبہ دیا ہو یا عجمی زبانیں جاننے والے صحابہ میں سے کسی کو اُن کی تفہیم پر مامور کیا ہو۔ حضورؐ کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سب سے بڑھ کر تبلیغِ دین اور تذکیر و ارشاد کا جذبہ رکھتے تھے، اور اُن کے عہد میں بکثرت عجمی ممالک بھی فتح ہو چکے تھے، جن کے باشندے عربی نہ سمجھتے تھے، مگر ان بزرگوں نے بھی عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ جاری نہیں کیا۔ اسی بنا پر متقدمین اور متاخرین میں سے ایک گروہ کثیر نے یہ رائے قائم کی ہے کہ صحت خطبہ اور ادائے سنت کے لیے خطبے کا عربی میں ہونا شرط ہے۔ صرف ایک امام ابو حنیفہؒ ہیں جو غیر عربی خطبے کو مطلقاً جائز رکھتے ہیں۔ ان کے سوا سلف میں اور کوئی نہیں جو اس کے جواز کا قائل ہو۔[امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے متعلق بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ خطبے کے مسئلے میں امام اعظم سے متفق ہیں۔ اور بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ صرف اُس شخص کے لیے غیر عربی خطبے کو جائز رکھتے ہیں جو عربی زبان میں خطبہ دینے پر قادر نہ ہو۔]