تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
(۱) ترجمان القرآن کی تنقید
فاضل مصنف اپنی کتاب میں غلامی کے مسئلے پر اپنی تحقیق یوں بیان کرتے ہیں:
’’ایک انسان کا دوسرے کو غلام بنانا فطرت کے خلاف ہے، لیکن دنیا میں غلامی رائج ہوگئی تھی اور نزول قرآن کے زمانے میں عربوں کے پاس بھی مملوک تھے۔ قرآن نے بعض مصالح کی وجہ سے اُن مملوکوں پر جو اُن کی غلامی میں آچکے تھے، اُن کی ملکیت کو بدستور رہنے دیا‘‘۔
اس کے بعد انھوں نے حاشیے میں لکھا ہے کہ:
’’قرآن میں جہاں بھی مملوکوں کا ذکر ہے بصیغہ ماضی یعنی مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ(نساء 24:4) ہے یعنی بصیغۂ مستقبل کہیں نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن غلاموں کے وہ مالک ہو چکے تھے صرف اُنہی کی ملکیت قائم رکھی گئی تھی۔
یہ متن اور حاشیہ دونوں نظرِ ثانی کے محتاج ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید میں انسانی کمزوریوں کا لحاظ رکھ کر اصلاح کا تدریجی طریقہ اختیار کیا گیا تھا، لیکن کوئی مثال ہم کو قرآن مجید میں ایسی نہیں ملتی کہ کسی مسئلے میں اُس نے اپنی تدریجی اصلاح کو نامکمل چھوڑ دیا ہو اور آخری اصلاح کا حکم نزولِ وحی کے زمانے ہی میں نہ دے دیا ہو! یہ قاعدہ کلیہ اگر درست ہے تو کیا غلامی کے مسئلے میں قرآن مجید کا کوئی ایسا حکم دکھایا جا سکتا ہے جس نے غلامی کی ہر شکل کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا ہو؟ رہی یہ بات کہ عرب میں چونکہ غلامی رائج تھی اور لوگوں کے پاس پہلے سے غلام موجود تھے، اس لیے غلامی کو مصلحتاً باقی رکھا گیا، تو غور کرنے سے یہ امر واضح ہو جائے گا کہ ایسی مصلحت شناسی کو خدا کی طرف منسوب کرنا دراصل خدا کی طرف کمزوری کو منسوب کرنا ہے۔ جس خدا نے شراب کو حرام کر دیا اور اس معاملے میں بندوں کی خواہشات کی ذرا پروا نہ کی، جس نے زنا کو حرام کر دیا اور اس امر کی ذرا پروا نہ کی کہ عرب اور دوسرے ممالک میں زنا کا کس قدر رواج تھا، اُس کو کون سا امر غلامی کی ہر صورت کو قطعاً حرام کر دینے سے روک سکتا تھا؟
بات دراصل یہ ہے کہ غلامی کی دو صورتیں اس وقت دنیا میں رائج تھیں:
ایک یہ کہ بعض ممالک کے آزاد باشندوں کو پکڑ کر اُن کی خرید و فروخت کی جاتی تھی۔
دوسرے یہ کہ جنگ میں جو لوگ گرفتار ہوتے تھے اُن کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔
ان دو شکلوں میں سے پہلی شکل کو رسولؐ اللہ نے قطعاً ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر بیچے گا، اس کے خلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا۔
(بخاری، کتاب البیوع) اور دوسری شکل کے متعلق اسلام کا قانون یہ قرار پایا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوں، اُن کو یا تو احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے، یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، یا دشمن کے مسلمان قیدیوں سے اُن کا مبادلہ کر لیا جائے لیکن اگر یونہی رہا کر دینا جنگی مصالح کے خلاف ہو، اور فدیہ وصول نہ ہو سکے، اور دشمن اسیرانِ جنگ کا مبادلہ کرنے پر بھی رضامند نہ ہو تو مسلمانوں کو حق ہے کہ انھیں غلام بنا کر رکھیں۔ البتہ اس قسم کے غلاموں کے ساتھ انتہائی حسن سلوک اور رحمت و رأفت کے برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے، اُن کو تعلیم و تربیت دینے اور انھیں سوسائٹی کے عمدہ افراد بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور مختلف صورتیں اُن کی رہائی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اس باب میں اسلام کا صحیح قانون معلوم کرنے کے لیے قرآنی احکام کے ساتھ نبیؐ کے عمل اور آپؐ کے ارشادات اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مؤلف کی غلطی کا اصل سبب یہی ہے کہ انھوں نے صرف قرآن سے غلامی کا قانون اخذ کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔
<<مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ>> سے جو نکتہ مؤلف نے پیدا کیا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ نزول قرآن کے بعد بھی صحابہ کے عہد میں بہت سے اسیران جنگ کو ممالیک کی حیثیت سے رکھا گیا ہے۔ خود اہل بیت رسول کے گھروں میں جنگ سے پکڑے ہوئے غلام اور مفتوح ممالک سے آئی ہوئی لونڈیاں موجود تھیں۔ تو کیا ان سب لوگوں نے حکم قرآن کی دانستہ خلاف ورزی کی؟ یا یہ سب قرآن کے حکم سے ناواقف تھے؟
پھر اگر آپ کے نزدیک یہ کوئی قاعدہ ہے کہ جو کچھ قرآن میں بصیغۂ ماضی کہا گیا ہے، اس سے مراد صرف ماضی ہی ہوگا، حال یا مستقبل نہ ہوگا تو حیرت ہے کہ <<اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ>> (القمر 54: 1) کی تاویل آپ نے خود اپنی کتاب میں اس طرح کی ہے کہ جب قیامت آئے گی تو چاند پھٹ جائے گا۔ اور <<وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ>> کا ترجمہ آپ نے ”اُس کا عرش پانی پر ہے“ فرمایا ہے۔
آگے چل کر مؤلف نے <<حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ۙ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً>> (محمد 47: 4) سے یہ استدلال کیا ہے:
”غلامی کا صرف ایک ہی رستہ تھا، یعنی اسیران جنگ، قرآن نے ان کو آزاد کرنے کا حکم دے کر ہمیشہ کے لیے اس راستے کو بند کر دیا“۔
لیکن مصنف نے یہ غور نہ فرمایا کہ اگر کفار نہ مال کی صورت میں فدیہ دیں، اور نہ اسیران جنگ کا مبادلہ کریں تو کیا ایسی صورت میں بھی مسلمان پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ لازماً اسیرانِ جنگ کو بطورِ احسان رہا کر دیں؟ اگر اسیرانِ جنگ کو رہا کرنے سے دشمن کو مزید قوت پہنچنے کا خطرہ ہو، اور مسلمانوں کو اندیشہ ہو کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر ہم سے لڑنے آئیں گے تو کیا اس صورت میں بھی حکم ہے کہ انھیں رہا کر دیا جائے؟ کم از کم آیت کے الفاظ سے تو یہ قطعی اور لازم حکم نہیں نکلتا۔ آیت میں مَنّاً کا لفظ ہے، جس کے معنی احسان رکھنے کے ہیں، اور قرآن میں احسان کا حکم نہیں دیا گیا ہے، البتہ اسے افضلیت کا درجہ دے کر اس کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی قرآن کا منشا صرف یہ ہے کہ احسان کے طور پر چھوڑ دینا زیادہ فضیلت کا کام ہے، لیکن اس سے یہ مقصود ہرگز نہیں ہے کہ اگر اسلامی مفاد کو نقصان پہنچتا ہو، تب بھی احسان کیا جائے اور ضرور احسان ہی کیا جائے۔
(ترجمان القرآن، ربیع الاوّل، ۱۳۵۳ھ)