مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ڈارون کا نظریۂ ارتقا

ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب سوال کرتے ہیں:

’’ڈارون کا نظریۂ ارتقا موجودہ زمانے کے علمی مسلمات میں سے ہے، مگر قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے، بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے نقطۂ نظر میں قطعی تضاد ہے۔ سب سے زیادہ صریح بات جو بیک نظر محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کا انسان اوّل روز سے انسان ہی تھا جسے ایک خاص تاریخ کو یکا یک ایک تخلیقی عمل سے پیدا کر دیا گیا۔ پھر اس سے انسانی نسل چلی، لیکن ہم کو جو طبعی علوم پڑھائے جاتے ہیں وہ شہادت دیتے ہیں کہ انسان حیوانات میں سے بتدریج ترقی کرتا ہوا آیا ہے اور اس ارتقائی تسلسل میں کسی نقطے پر انگلی رکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک خاص تاریخ کو اس مرحلے پر حیوانیت ختم ہوئی اور اس انسانیت کی ابتدا ہوئی جس کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ <<فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ>> (ص 72:38) یہ قرآن اور نظریۂ ارتقا کے اختلاف کی صرف ایک صریح مثال ہے، ورنہ تخلیق کے مسئلے میں بکثرت تفصیلات ایسی ہیں جہاں ان دونوں کے بیانات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھ کر موجودہ سائنس کا ایک طالب علم اپنے ایمان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ کیا آپ اس مشکل کا کوئی حل بتا سکتے ہیں؟؟‘‘

یہ سوال جسے ہمارے مراسلہ نگار نے بڑی خوبی اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے، اپنے تصفیے کے لیے اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ ہم ڈاروینی نظریۂ ارتقا کے دلائل وشواہد کا تفصیلی جائزہ لیں بلکہ اس میں صرف اتنی ہی بات تحقیق طلب ہے کہ آیا ارتقا کا وہ تصور جو ڈارون پیش کرتا ہے، ایک ثابت شدہ حقیقت ہے یا صرف ایک نظریہ ہے؟ اور اگر وہ صرف ایک نظریہ ہی ہے تو کیا واقعی اس کا یہی مرتبہ ہے کہ اس کے سامنے آ جانے پر ایک مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اسے مانوں یا قرآن کو؟

اس تنقیح کے جواب میں پہلے ہی قدم پر جان لیجیے کہ ڈارون کا نظریہ جس طرح انیسویں صدی کے وسط میں صرف ایک نظریہ تھا اسی طرح آج اس بیسویں صدی کے وسط میں بھی صرف ایک نظریہ ہی ہے۔ واقعہ اور حقیقت (fact) ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ نظریہ اور واقعہ کا فرق کسی تعلیم یافتہ آدمی سے پوشیدہ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آدمی کے لیے اپنے ایمان پر نظر ثانی کرنے کا سوال اگر کہیں پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اس صورت میں جب کہ وہ چیز جس پر وہ ایمان رکھتا ہے کسی ایسی چیز سے ٹکرا جائے جو ثابت شدہ واقعہ ہو۔ ورنہ جو ایمان قیاسات و نظریات کی ٹکر بھی نہ سہہ سکے وہ ایمان تو نہیں محض ایک حسن ظن ہے جو زری افواہوں پر بدگمانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

ڈاروینی نظریۂ ارتقا کی اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر اب ذرا اس کے علمی و استدلالی مرتبے کا ایک سرسری جائزہ لے لیجیے۔ علم الحیات (biology) کے جس مشکل ترین مسئلے میں سائنس کے علما الجھ رہے ہیں وہ دراصل یہ سوال ہے کہ زندگی کا مبدًا کیا ہے۔ قرآن اس کا جواب دیتا ہے کہ زندگی کا مبدًا خدا کا حکم (امر رب) ہے۔ وہ صرف خدا کا حکم ہی ہے جو بے جان مادّے میں آثار حیات پیدا کر دیتا ہے، لیکن مغرب کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں موجودہ سائنس جن لوگوں کے ہاتھوں نشوونما پاتا رہا ہے ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ اس کارخانۂ ہستی میں کسی فوق الفطرت ذات (super natural) کی کارفرمائی و کاریگری ماننے اور محسوس کرنے سے جس طرح بھی بن پڑے، پہلو بچائیں۔ اُن کی خواہش یہ رہی ہے کہ اس کارگاہِ فطرت کے اندر ہی انھیں اس کی کارفرما طاقت کا بھی کہیں سراغ مل جائے۔ اسی بنیادی غلطی نے اُن کے لیے وہ مشکل سوالات پیدا کیے جنھیں حل کرنے کے لیے ان کو قیاس آرائیوں سے کام لینا پڑا۔ قیاس آرائیوں ہی سے انھوں نے اس سوال کو بھی سلجھانا چاہا کہ حیات میں اس تنوع کی وجہ کیا ہے اور مختلف انواع کے درمیان تفاضل کا سبب کیا ہے۔ ڈارون اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنھوں نے اس طرز پر ان سوالات کی تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے خود کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ حقیقت کو پا گیا ہے۔ اس کے نظریے کے قائلین میں سے جو لوگ فی الواقع سائنٹسٹ ہیں وہ بھی اپنے قیاس کو حقیقت اور واقعہ نہیں قرار دیتے۔ مگر جن لوگوں کو سائنس کی اُڑتی ہوئی ہوا لگ گئی ہے وہ اس زور شور سے اس کا ذکر کرتے ہیں کہ گویا حقیقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے۔

ڈارون نے جب تحقیق وتجسس کا آغاز کیا اس وقت اگر وہ قرآن کے دیے ہوئے نقطۂ آغاز (starting point) سے چلتا تو اس نتیجے پر پہنچتا کہ زندگی کی شکلوں میں یہ تنوع اور تفاضل، جو ایک بے نظیر ترتیب کے ساتھ واحد الخلیہ بھنگے (unicellular molecule) سے لے کر انسان تک میں نظر آ رہا ہے۔ یہ ایک حکیم کے منصوبے (design) کا نتیجہ ہے جو مختلف انواع کی زندگی کے لیے مناسب ماحول اور سازگار حالات فراہم کرنے کے بعد انھیں ان کی مخصوص نوعی خصوصیات کے ساتھ بتدریج وجود میں لاتا چلا گیا ہے اور جن انواع کی ضرورت اس کے خاکے میں باقی نہیں رہی ہے انھیں مٹاتا بھی رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، یہ لوگ منصوبہ ساز (designer) کو ماننے سے جی چراتے ہیں اور اس کی کارگاہ میں اس کی کارفرمائی کے نشانات دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس لیے جو مشہودات ان کے مشاہدے میں آتے ہیں اُن کی توجیہہ یہ کسی ایسے طریقے سے کرنا چاہتے ہیں جس سے یہ کارخانہ خود بخود چلتا اور ترقی کرتا ہوا سمجھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈارون نے تنوع اور تفاضل کی توجیہہ ارتقا کے اُس نظریے سے کی جو اُس کے نام سے مشہور ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یورپ نے جو اُس وقت تک اپنے الحاد کو پاؤں کے بغیر چلا رہا تھا، لپک کر یہ لکڑی کے پاؤں ہاتھوں ہاتھ لیے اور نہ صرف اپنے سائنس کے تمام شعبوں میں، بلکہ اپنے فلسفہ و اخلاق اور اپنے علوم عمران تک میں ان کو نیچے سے نصب کر لیا۔ حالانکہ علمی اور عقلی حیثیت سے اس توجیہہ میں اتنے جھول تھے اور ہیں کہ مشکل ہی سے کوئی صاف دماغ کا آدمی اس کو منظر (phenomena) کی ممکن توجیہات میں سے ایک قابل لحاظ توجیہہ قرار دے سکتا ہے۔

پیچیدہ اور گہری علمی تنقید سے بچتے ہوئے میں آپ کو ایک مثال سے ڈاروینی نظریۂ ارتقا کا اصلی و بنیادی ضعف سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ فرض کیجیے کہ مریخ سے سائنس کا ایک پروفیسر اپنے کچھ شاگردوں کے ساتھ علمی تحقیقات کے لیے زمین پر آتا ہے، اور یہ بھی تھوڑی دیر کے لیے مان لیجیے کہ ان آنے والوں کی بینائی میں کوئی ایسی کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں انسان کو تو نہیں دیکھ سکتے، مگر اس کی مصنوعات اور اس کے تمدن کے آلات و وسائل کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ محقق پروفیسر یہاں انسان کی جو مصنوعات دیکھتا ہے ان میں اسے شکلوں اور نوعیتوں کا فرق صاف نظر آتا ہے، وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ان میں سے بعض چیزیں دوسری چیزوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ دورانِ تحقیق میں اس کو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض چیزیں پہلے رائج نہ تھیں، بعد میں ہوئیں، بعض قدیم سے رائج رہی ہیں اور اب تک رائج چلی آرہی ہیں، اور بعض پہلے رائج تھیں مگر اب مفقود ہیں۔ کچھ زمانے تک وہ اس بکھرے ہوئے منظر کی اشیا کو اپنے ذہن میں مرتب کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ مختلف قسم کی اشیا کی انواع اور اصناف میں تقسیم کر کے ان کے درجات قائم کر لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ تحقیق کا قدم آگے بڑھاتا ہے اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ آخر یہ متنوع اور متفاضل اشیا بنیں کیسے، ______ اور ان کے تنوع اور تفاضل میں اور بعض کے باقی اور بعض کے معدوم ہو جانے میں کیا اسباب اور کیا قوانین کارفرما ہیں۔

اس سوال کا جواب اگرچہ یہ بھی ممکن تھا کہ یہاں اغلباً ایسی اور ایسی صفات کی کوئی ہستی وجود میں ہے جو ان چیزوں کو اپنی مختلف مصلحتوں کے لحاظ سے بناتی ہے، جن چیزوں کی ضرورت باقی ہے انھیں بنائے چلی جاتی ہے، جن کی ضرورت باقی نہیں رہی انھیں بنانا چھوڑ چکی ہے، اور جن کی ضرورت اب کسی دوسری شکل کی چیز سے بہتر طور پر پوری ہونے لگی ہے انھیں بنانا چھوڑتی جارہی ہے، لیکن کسی وجہ سے یہ مریخی محقق کسی ایسی ہستی کو فرض کرنے سے بچنا چاہتا ہے، اس لیے وہ قیاس کا رُخ دوسری طرف پھیر کر اپنے منظر کی توجیہہ اس طرح شروع کر دیتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کی ابتدا غالباً صنعت کے ایک ہی ابتدائی تخم سے ہوئی تھی، پھر اس میں ارتقا شروع ہوا اور ماحول کے فلاں فلاں اسباب سے ان اشیا کی مختلف انواع وجود میں آئیں، پھر انواع نے ایک دوسرے کے خلاف کشمکش شروع کی اور ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے ماحول سے اپنے آپ کو موافق کرنے اور ماحولی طاقتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اس کشمکش میں جو مصنوعات ناکارہ رہ گئیں وہ مٹ گئیں اور جو کامیاب ہوئیں انھیں ماحول نے بقا کے لیے چن لیا۔ یہی کشمکش ان مصنوعات کی شکلوں اور صفتوں کے ارتقا کی موجب ہوئی اور بقا کی جدوجہد ہی میں ایک نوع کی چیزیں ترقی کرتے کرتے دوسری نوع کی مصنوعات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔

مثلاً وہ قیاس کرتا ہے کہ چھکڑے کی نوع مدتوں زور لگاتی رہی یہاں تک کہ اس کے بعض قابل تر افراد کی ترکیب میں تغیرات رونما ہوتے چلے گئے اور بالآخر وہ بگھی میں تبدیل ہو گئے۔ پھر بگھی کی نوع نے زور لگانا شروع کیا حتیٰ کہ اس کے بعض قابل افراد کی ترکیب میں پھر تغیر آنے لگا اور بالآخر وہ موٹر میں تبدیل ہو گئے۔ پھر بعض موٹروں نے اونچے اونچے درختوں اور مکانوں اور عمارتوں کو دیکھ کر ان کے اوپر پہنچنا چاہا اور اس کوشش میں اچکنا شروع کیا یہاں تک کہ اچکتے اچکتے ان کے پر نکل آئے اور بالآخر وہ ہوائی جہاز میں تبدیل ہوگئیں۔

اس محقق جلیل کے ساتھ مریخ کے سائنس کالج سے جو طالب علم آئے تھے وہ عرض کرتے ہیں کہ قبلہ چھکڑے سے بگھی اور بگھی سے موٹر اور موٹر سے ہوائی جہاز تک بتدریج جو ارتقا ہوا ہو گا تو لازماً چھکڑے اور بگھی کے درمیان، اور بگھی اور موٹر کے درمیان، اور موٹر اور ہوائی جہاز کے درمیان بکثرت ایسی کڑیاں پائی جانی چاہئیں جو ان میں سے ہر دو نوعوں کے بیچ کا فاصلہ ابھی طے کر رہی ہوں، اور اس فاصلے میں ہر ہر قدم پر ان درمیانی کڑیوں کے مختلف افراد ایک قافلے کی طرح آگے پیچھے چلتے نظر آنے چاہئیں۔ مثلاً بگھی اور موٹر کے درمیانی فاصلے میں بہت سی ایسی اقسام کی گاڑیاں ملنی چاہئیں جو ابھی کچھ بگھی ہوں اور کچھ موٹر ہونے کے مختلف درجوں میں ہوں۔ اور اسی طرح موٹر اور ہوائی جہاز کے درمیان ایسی بہت سی اقسام کی سواریاں پائی جانی چاہئیں جو ابھی پر نکال رہی ہوں۔

اس سوال کو سن کر پروفیسر صاحب کچھ دیر سوچتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ ہاں، یہ درمیانی کڑیاں ضرور پائی جاتی ہوں گی۔ بگھی تو دیکھو تمھارے سامنے موجود ہے۔ اس بگھی سے ”بگھ موٹرا“ بنا ہو گا، پھر وہ ”موٹر بگھے“ میں تبدیل ہوا ہو گا، پھر اس نے ”موٹر بگھ“ کی شکل اختیار کی ہو گی، پھر وہ اس موٹر کار میں تبدیل ہو گیا جسے تم دیکھ رہے ہو۔ پھر موٹر اپنی ارتقائی جدوجہد سے ’’پنکھ موٹرا‘‘ بنی ہوگی، پھر وہ ’’موٹر پنکھ‘‘ میں تبدیل ہوئی ہوگی، پھر ’’موٹر پنکھا‘‘ پیدا ہوا ہوگا، پھر وہی تبدیل ہو کر یہ ہوائی جہاز بن گیا جو تمھیں اڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ بیچ کی کڑیاں جن کے نام میں نے لیے ہیں ضرور کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہوں گی، جاؤ اور مٹی کے ڈھیروں میں انھیں تلاش کرو۔

استاد تو یہ کہہ کر خاموش ہو گیا، مگر شاگرد جو مریخ ہی سے انسان کے خلاف ایک تعصب دل میں لیے ہوئے آئے تھے، اس کی اس نادر تحقیق پر ایسا ایمان لائے کہ انھوں نے استاد کے کلام میں سے ’’غالباً‘‘ اور ’’ہوا ہوگا‘‘ کو بھی نکال دیا اور اب وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کو ’’یقیناً‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے ساتھ بیان کرنے لگے ہیں۔ ان کے علمی لیکچروں میں ’’موٹر بگھا‘‘ اور ’’پنکھ موٹرا‘‘ وغیرہ خیالی موجودات کا ذکر اس طرح آتا ہے گویا کہ یہ چیزیں کہیں ان کے میوزیم میں موجود ہیں۔ حالانکہ موجود اگر کچھ ہے تو وہ صرف بگھی، موٹر اور ہوائی جہاز ہے۔

ڈارون کے نظریے اور ڈاروینیت کے متبعین پر یہ تمثیل بالکل ٹھیک ٹھیک راست آتی ہے۔ اس نظریے کے اصلی لٹریچر کو آپ دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی ساری بنیاد ’’ہوگا‘‘ پر ہے۔ حالانکہ سائنس میں اصلی قابل اعتبار چیز ’’ہے‘‘ ہے نہ کہ ’’ہوگا‘‘۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر سائنس میں ’’ہوگا‘‘ بھی کوئی اہمیت رکھتا ہے تو ایک ’’ہوگا‘‘ اور دوسرے ’’ہوگا‘‘ میں فرق کیوں ہو؟ خصوصاً جبکہ ایک ’’ہوگا‘‘۔۔۔ دوسرے ’’ہوگا‘‘ سے کچھ زیادہ ہی لگتا ہوا ہو۔ جب آپ اس کے لیے تیار ہیں کہ مشہودات کی توجیہہ میں ’’ہوگا‘‘ کو بھی مان لیں تو ڈارون کے ’’ہوگا‘‘ سے میرا یہ ’’ہوگا‘‘ کچھ زیادہ ہی لگتا ہوا ہے کہ زندگی کا آغاز اور زندہ اشیا کا تنوع اور ان کا تفاضل سب کا سب ایک حکیم کے امر اور حکیمانہ تدبر سے ہوا ہوگا۔ میرا یہ ’’ہوگا‘‘ ڈارون کے ’’ہوگا‘‘ سے زیادہ بہتر طریقے پر تمام مشہودات کی توجیہہ کرتا ہے، کسی سوال کو لاجواب نہیں چھوڑتا، اور سب سے بڑھ کر اس کے حق میں وجہ ترجیح یہ ہے کہ اس طرف تو کوئی آدمی صداقت کے ساتھ ’’ہوگا‘‘ سے زیادہ کچھ کہنے کے قابل نہیں ہے مگر اس طرف بہ کثرت صالح ترین انسان، جو کبھی جھوٹ بولتے نہیں پائے گئے، پورے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ”ہے“ اور ہم آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں کہ ”ہے“۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس کے طالب علم ادھر آنے کے بجائے اُدھر جا رہے ہیں؟ کیا اس کی کوئی وجہ اُس خدا بیزاری سے سوا بھی ہے جو قرونِ متوسطہ سے سائنس کے طالب علموں کو میراث میں ملی ہے؟ اگر یہی بات ہے تو ”جذبات“ کا نام لوگوں نے ”علم“ کیوں رکھ چھوڑا ہے۔

علمی اور عقلی حیثیت سے اس نظریے میں جو کمزوریاں ہیں اُن سے قطع نظر کر کے اگر دیکھا جائے کہ فلسفہ اور اخلاق اور علوم تمدن و اجتماع میں داخل ہو کر اس ظالم تخیل نے انسان کو برباد کرنے کے لیے کیسے شدید فتنے برپا کیے ہیں، تو شاید کسی صاحبِ بصیرت آدمی کو یہ ماننے میں ذرّہ برابر تامل نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں جن نظریات نے انسان کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کی ہے، یہ ڈاروینیت ان سب کی سرتاج ہے۔ اس نے انسان کو یقین دلایا کہ تو جانوروں میں سے بس ایک جانور ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آدم کی اولاد آج پورے اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں حیوانیت کا برتاؤ کر رہی ہے اور اسی کا یہ اثر ہے کہ انسان اپنی زندگی کے قوانین اور اصول کسی برتر ماخذ ہدایت میں تلاش کرنے کے بجائے حیوانات کی زندگی میں تلاش کر رہا ہے۔ پھر یہ ڈارون ہی کا نظریہ ہے جس نے انسان کے سامنے پورے نظامِ کائنات کو ایک رزم گاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور اس کو بتایا ہے کہ نزاع اور جنگ اور کشمکش ہی اصل تقاضائے فطرت ہے۔ اس کشمکش میں جو زور آور ہے وہی زندہ اور کامیاب ہے اور وہی صالح اور برحق ہے۔ بخلاف اس کے جو کمزور ہے وہی غیر صالح ہے اور اس کا مٹنا اور فنا ہو جانا قوانینِ فطرت کا ایک ایسا نتیجہ ہے جس کو برحق ہونا ہی چاہیے۔ آج یہ اسی طرزِ فکر کی برکات ہیں کہ انسانی افراد سے لے کر طبقات، اقوام اور ممالک تک سب کے سب دنیا کو حقیقت میں ایک رزم گاہ بنائے ہوئے ہیں اور فطرت کا تقاضا انھوں نے یہی سمجھا ہے کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو فنا کر دے۔

ترجمان القرآن

(محرم، صفر ۱۳۶۳ھ جنوری و فروری ۱۹۴۴ء)