مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی قانونِ ازدواج کی شانِ اعتدال

جب حال یہ ہے تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ غیر مسلم عورتوں سے نکاح کرنا بالکلیہ ممنوع ہونا چاہیے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ شارع نے اس چیز کو جائز رکھا؟ اس کا صحیح جواب معلوم کرنے کے لیے ہم کو اس مسئلے کے دوسرے پہلو پر نگاہ ڈالنی چاہیے کہ یہی وہ مقام ہے، جہاں شارع کا کمالِ حکمت اور اس کے طریقِ تشریع کا انتہائی اعتدال و توازن نظر آتا ہے۔

انسان جب کوئی قانون بناتا ہے تو عموماً وہ کسی ایک پہلو کی طرف جھک جاتا ہے کہ دوسرے پہلو اس کی رعایت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کبھی وہ اجتماعی مصالح پر زور دیتا ہے اور شخصی مصالح نظر انداز کر دیتا ہے اور کبھی شخصی مصالح کی اتنی رعایت کرتا ہے کہ اجتماعی مصالح باطل ہو جاتے ہیں، مگر شارع اسلام کی حکیمانہ شان ایسی ہے کہ وہ ہر مصلحت پر نظر رکھتا ہے اور ہر ایک کی اتنی ہی رعایت کرتا ہے جس کی وہ مستحق ہوتی ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اجتماعی مصالح کا، اور ایک بڑی حد تک شخصی مصالح کا بھی اقتضا یہ تھا کہ مسلمانوں کی شادیاں مسلمان عورتوں ہی سے ہوں، اور پھر ان میں بھی مماثلت اور اتحاد کو ملحوظ رکھا جائے۔ چنانچہ اس کے لیے کفاءت کا ضابطہ مقرر کیا گیا:

<<تخيروا لنطفكم وانكحوا الاكفاء (روى ذالك من حديث عائشة وانس وعمر من طرق عديدة)>>

اپنے نطفوں کے لیے اچھی قرار گاہیں تلاش کرو اور اپنے جوڑ کے لوگوں میں شادیاں کرو۔

اور صاف طور پر بتا دیا گیا کہ کفاءت میں سب سے پہلی اور سب سے اہم چیز دین ہے:

<<وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ يَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ>> التوبہ 71:9

مؤمنین اور مؤمنات ایک دوسرے کے ولی ہیں (اس لیے کہ) وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، بدی سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور خدا اور رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔

<<يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا>> التحریم 66:6

اے اہل ایمان! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔

<<وَ مَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِإِيْمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ>> النساء 25:4

اور تم میں سے جو کوئی پاک دامن مؤمن عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اُن مؤمن لڑکیوں میں سے اپنے لیے جوڑا منتخب کرے جو تمھاری مملوک ہیں، اللہ تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے اور تم سب ایک دوسرے کے ہو۔

<<تزوجوهن على الدين فلامة خرقاء سوداء ذات دين افضل. (الحديث)>>

تم ان سے دین کی بنا پر شادیاں کرو کیونکہ ایک کالی کلوٹی کم عقل لونڈی بھی اگر دین دار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے۔

دوسری طرف بعض شخصی مصالح اس کی بھی مقتضی تھیں کہ غیر قوموں میں نکاح کرنے کا دروازہ قطعی طور پر بند نہ کر دیا جاتا۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کسی غیر مسلم عورت کے عشق میں مبتلا ہو جائے اور حصول مقصود کا دروازہ بالکل بند پا کر حرام کی طرف جھک پڑے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہو جہاں مسلمان عورت بہم نہ پہنچ سکتی ہو اور مجرد رہنے کی وجہ سے اس کے اخلاق بگڑنے اور اس کی خانگی زندگی خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ ایسے مخصوص حالات کے لیے کسی حد تک رُخصت کا دروازہ کھول دینا ضروری تھا۔ چنانچہ شارع نے یہ دروازہ کھولا ، مگر اس فتح باب میں شخصی مصالح کی رعایت کے ساتھ یہ بات ملحوظ رکھی کہ اجتماعی مصالح کو کم سے کم نقصان پہنچے۔