مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تیسری دلیل

آپ نے اور مولانا ...... نے اس بات سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو غوطہ خور اور معمار وغیرہ تھے، ان کو ”شیاطین“ کہا گیا ہے اور شیاطین کا اطلاق جنوں کی طرح انسانوں پر بھی کیا گیا ہے، اس لیے آپ کہتے ہیں کہ ان معماروں اور غوطہ خوروں کو ان کے مرئی ہونے اور انسانوں کے سے کام کرنے کی بنا پر شیاطین الانس کیوں نہ سمجھا جائے۔

اس کو دلیل کے بجائے میں صرف غلط فہمی کہوں گا۔ اوّل تو قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے کاریگروں اور خادموں کے لیے صرف شیاطین ہی کا لفظ نہیں آیا ہے ”جن“ کا لفظ بھی آیا ہے، مثلاً:

<<وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ>> النمل 17:27

اور سلیمان کے لیے اس کے لشکر از قسم جنّ و انس و پرند جمع کیے گئے۔

<<وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهٖ ۭ وَمَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ ۝ يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ ۭ اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا ۭ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ ۝ فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهِ إِلَّا دَآبَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهٗ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوْا فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ ۝>> سبا 12-14:34

اور جنوں میں سے جو اس کے (حضرت سلیمان علیہ السلام) آگے اس کے ربّ کے اذن سے کام کرتے تھے جو کچھ وہ چاہتا وہ اس کے لیے بناتے تھے، بڑی بڑی عمارتیں، مورتیں اور حوض جیسے بڑے بڑے تھال اور ایک جگہ جمی رہنے والی بھاری دیگیں پھر جب ہم نے سلیمان علیہ السلام پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا تو ان کو اس کی موت کی خبر جس چیز نے دی وہ کچھ اور نہ تھی، محض زمین کا کیڑا جو سلیمان علیہ السلام کے عصا کو کھا رہا تھا، جب سلیمان علیہ السلام گر پڑے تب ان جنوں پر یہ راز کھلا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اتنی مدت تک اس ذلیل غلامی کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔ [ یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس آیت میں ’جنّ‘ کے ساتھ اِنس کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ جن وہ ’جنّ‘ تھے جن کو غیب دانی کا گھمنڈ تھا اور جنھیں اہل عرب بھی عالم الغیب سمجھتے تھے۔ انھی جنوں میں سے ایک گروہ بعد میں نبیؐ سے قرآن سن کر اپنے دوسرے ہم قوموں سے کہتا ہے کہ اب ہمارے غیب دانی کے وسائل ہم سے چھن گئے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ <<وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا>> الجن 9:72 اس آیت میں غیب کی خبریں حاصل کرنے کی جو صورت بیان کی گئی ہے وہ انسان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی، کجا کہ کوئی انسان اس پر قادر ہو۔]

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ غوطہ خور اور معمار شیاطین جنّ کی قسم سے تھے، شیاطین الانس نہ تھے۔

دوسرے یہ بات آپ کی اور مولانا کی نظر سے پوشیدہ رہ گئی کہ قرآن مجید میں کہیں مطلقاً الشیطان اور الشیاطین بول کر انسان مراد نہیں لیے گئے ہیں، بلکہ ابلیس اور اس کی ذریّت ہی مراد لی گئی ہے۔ ہاں اگر کہیں انسانوں کے کسی گروہ کے لیے شیاطین کا لفظ بطور صفت استعمال کیا گیا ہے تو ایسے ہر موقع پر صراحتاً یا کنایتاً یہ بتا دیا گیا ہے کہ وہاں شیاطین سے مراد انسان ہیں، جیسے <<وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ>> (الانعام 112:6) اور <<وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْا اِنَّا مَعَكُمْ>> (البقرہ 14:2)