مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تحقیق قربانی پر تنقید

پچھلا مضمون پریس میں جا چکا تھا کہ رسالہ ”ابلاغ“ امرتسر کا تازہ پرچہ (بابت ماہ ذی القعدہ ۱۳۵۵ھ) وصول ہوا، جن میں جناب ”عرشی“ امرتسری نے ”تحقیقِ قربانی“ کے عنوان سے قربانی پر اپنی تحقیق پیش فرمائی ہے۔ اس مضمون میں قربانی کے خلاف جو دلائل پیش کیے گئے ہیں، اگرچہ اُن میں سے اکثر کا جواب ہم اپنے پچھلے مضمون میں دے چکے ہیں، لیکن پھر بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس ”تحقیق قربانی“ پر مفصل تبصرہ کیا جائے۔

فاضل مضمون نگار نے اپنی تحقیق کی ابتدا انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک اقتباس سے کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ قربانی کے متعلق ”قدیم انسان“ کا نظریہ کیا تھا، رُوم اور یونان میں قربانی کی رسم کن عقائد پر مبنی تھی۔ سامی مذاہب میں یہود کا کیا عقیدہ تھا، ”دورِ ثانی“ میں جب انسان دیوتاؤں کی حقیقت سے واقف ہو گیا تو اس نے قربانی کی رسم کن تاویلوں کے ساتھ باقی رکھی، یہود کے ربی اور یونان کے فلسفی خدا اور ارواح کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے تھے اور قربانی کے ساتھ اس عقیدے کا رابطہ کس قسم کا تھا، قدیم آریوں اور اہلِ روم اور اہلِ عرب میں قربانی کی کیا رسمیں تھیں، پھر مسیحیت نے کس طرح قربانی کا ابطال کیا اور جاہلیت کے اُن خیالات کو جو انسانی اقوام میں پھیلے ہوئے تھے، کس طرح مٹایا اور یہ عاقلانہ تخیل انسانوں میں پیدا کیا کہ ”غربا کو کچھ دینا قربانی کے برابر ہے“ اور ”جو خیرات دیتا ہے وہ گویا ستائش کی قربانی خدا کو پیش کرتا ہے“۔ یہ تمام بیانات جو تمہید کے طور پر بیسویں صدی کی ”کتابِ مقدس“ سے نقل کیے گئے ہیں، بلاشبہ ہماری معلومات میں بیش قیمت اضافہ کرتے ہیں، مگر ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ان کو اس مضمون میں کیوں نقل کیا گیا ہے۔

اوّل تو یہ تمام بحث غیر متعلق ہے، اس لیے کہ نفسِ مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا خدا اور رسولؐ نے قربانی کا حکم دیا ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہو جائے کہ نہیں دیا ہے تو انسائیکلو پیڈیا کی شہادت قطعاً غیر ضروری ہے۔ اور اگر تحقیق سے یہ ثابت ہو کہ قربانی ایک سنّتِ اسلام ہے اور خدا اور رسولؐ کے حکم سے جاری ہوئی ہے، تو مسلمانوں کو بہر حال اس کا اتباع کرنا چاہیے، خواہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی نگاہ میں وہ کیسی ہی جہالت اور تاریک خیالی ہو، اس لیے کہ ہمارا اتباعِ اسلام کسی انسائیکلو پیڈیا کی تائید و تصدیق پر موقوف نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے۔

پھر یہ بات سخت حیرت انگیز ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مبلغ کہتے ہیں اور جن کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم قرآن کے سوا کسی چیز کے متبع نہیں ہیں، وہ ایک مذہبی مسئلے کی تحقیق میں یورپ کی تحقیق کو سب پر مقدم رکھتے ہیں۔ اگر قربانی کی تاریخ اور جاہلیت اُولیٰ کے اعتقادات ہی پر کچھ روشنی ڈالنی تھی تو اس کے متعلق خود قرآن میں کافی مواد موجود تھا، اور اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا تھا کہ جاہلیت کی قربانی اور اسلام کی قربانی میں فرق کیا ہے، لیکن جناب عرشی نے قرآن کو چھوڑ کر محققین یورپ کی طرف توجہ فرمائی اور سب سے پہلے انھی سے دریافت کیا کہ یہ قربانی جو تیرہ سو برس سے اسلام میں رائج ہے، اس کی اصلیت تمھاری تحقیق میں کیا ہے؟ یہ شرفِ تقدم جو ایک اسلامی مسئلہ کی تحقیق میں اہلِ فرنگ کے علم ورائے کو عطا کیا گیا ہے، اس کی وجہ اگر ہم بیان کریں گے تو ہم پر بدگمانی کا الزام عائد ہوگا، اس لیے جناب عرشی خود ہی اس پر روشنی ڈالیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ جن ’’محققین‘‘ کے خیالات کو آپ نے مسئلہ قربانی میں اپنی تحقیق کا نقطۂ آغاز قرار دیا ہے، اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسلام کے اصول و ارکان بلکہ خود اسلام اور نبوت اور وحی اور قرآن کے متعلق بھی ان کی تحقیقات پیش کریں اور آپ سے دریافت کریں کہ ان کی نظر سے آپ اسلام کی کس کس چیز کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

مزید برآں یہ بات بھی کچھ کم قابلِ تعجب نہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے قول و فعل اور آپؐ کے اُسوۂ حسنہ کے متعلق بخاری اور مسلم اور موطا اور تمام دوسری کتبِ حدیث کی شہادتیں بے تکلف ردّ فرما دیتے ہیں، اُن کے معیارِ تنقید پر ’’قدیم انسان‘‘ اور رُوم و یونان اور اُممِ سامیہ اور اقوامِ آریہ کے متعلق محققین فرنگ کے بیانات کس طرح پورا اُتر جاتے ہیں؟ حالانکہ ان کا زمانہ عصرِ نبوت سے سینکڑوں ہزاروں سال قبل کا ہے۔ اور اُن کے متعلق جو تاریخی شہادتیں آج دُنیا میں موجود ہیں، وہ اُن تاریخی شہادتوں کے مقابلے میں کوئی وزن نہیں رکھتیں جو نبیؐ کی حیاتِ طیبہ کے متعلق حدیث میں پائی جاتی ہیں۔ جن ذرائع پر اعتماد کر کے آپ پرانی قوموں کے احوال پر عالمانہ کلام فرما رہے ہیں، اُن میں سے قوی سے قوی ذریعہ بھی ابن ماجہ اور حاکم اور بیہقی کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلے میں نہیں لایا جا سکتا۔ پس جب آپ اُن ذرائع سے استناد فرماتے ہیں اور اُن کی سند پر ہم کو خبر دیتے ہیں کہ ”قدیم انسان“ یہ کرتا تھا، اور سامی مذاہب میں یہ عقیدہ تھا اور روم و یونان والے یہ خیالات رکھتے تھے، تو ہم کو بھی اجازت ہو کہ بخاری اور مسلم کی سند پر یہ عرض کریں کہ رسول اللہؐ کا یہ عمل تھا اور حضورؐ نے فلاں مسئلے میں فلاں حکم دیا تھا۔ اگر اس کو ماننے سے آپ انکار فرمائیں گے تو ہم آپ سے صرف اتنا دریافت کریں گے کہ <<اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ>>؟

قربانی کے متعلق انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی تحقیقات سے فاضل مضمون نگار جس نتیجے پر پہنچے ہیں، وہ یہ ہے کہ:

”ترقی تہذیب نے قربانی کی کراہت واضح کر دی“۔

اس فقرے کا مفہوم غالباً اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قربانی اصل میں تو تھی ہی ایک مکروہ چیز، مگر قدیم زمانے میں جہالت کی وجہ سے اس کی کراہت لوگوں سے مخفی تھی، اب چونکہ تہذیب ترقی کر چکی ہے، اس لیے اس کا مکروہ ہونا واضح ہو گیا ہے۔ یہ الفاظ پیشِ نظر رکھیے اور پھر ذرا سورۂ حج کی وہ آیت ملاحظہ فرمائیے جس میں ارشاد ہوا ہے:

اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سے قرار دیا ہے۔ تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے، لہٰذا تم ان کو صف بستہ کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو (یعنی ذبح کرو) اور جب وہ کسی پہلو پر گر جائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور قانع اور سائل کو بھی کھلاؤ۔ (رکوع ۵) الحج

ہر شخص جس کو خدا نے تھوڑی سی عقل بھی عطا فرمائی ہے، بیک نظر محسوس کرے گا کہ یہ دونوں عبارتیں صریحاً ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ سورۂ حج میں جس چیز کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے اور جسے ایک کارِ خیر کی حیثیت سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اُسی کو عرشی صاحب کی مقدم الذکر عبارت مکروہ ٹھیراتی ہے اور ہم کو یہ خبر سناتی ہے کہ اسے کارِ خیر سمجھنے کا خیال اُس زمانے کے جاہل انسانوں میں پایا جاتا تھا جب تہذیب نے ترقی نہ کی تھی۔ چھوڑ دیجیے اس خیال کو کہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟ ہر شہر اور قریہ میں کرنی چاہیے یا صرف مقامِ منیٰ میں؟ قربانی کرنا افضل ہے یا اس کے بدلے میں کچھ خیرات کر دینا؟ سوال یہ ہے کہ اگر کسی درجے میں بھی قرآن سے قربانی کا حکم کیا معنی، جواز بھی نکلتا ہے، اگر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کی فضیلت اور بھلائی بھی اس فعل کی طرف قرآن میں منسوب کی گئی ہے، تب بھی کیا قرآن اس الزام سے بچ سکتا ہے کہ وہ اُس زمانے کی ایک کتاب ہے جب تہذیب نے کافی ترقی نہ کی تھی؟ اور پھر اس کے بعد کیا اسے خدا کی کتاب مانا جائے گا یا کسی ایسے شخص کی تصنیف جو بیسویں صدی کے مقابلے میں چھٹی صدی کا ایک نیم مہذب انسان تھا؟

یہ نتیجہ ہے قرآن سے پہلے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی طرف رجوع کرنے کا۔ جس مقام سے آپ نے اپنی تحقیق کی ابتدا کی اور جن مسلمات کو لے کر آپ مسئلہ قربانی کی بحث و تنقیح کے لیے چلے، وہ پہلے ہی قدم پر آپ کا قدم پھسلا کر کہیں سے کہیں لے گئے۔ ان کا منطقی نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ آپ کو قرآن کے کتاب اللہ ہونے سے انکار کر دینا چاہیے، لیکن چونکہ آپ کی عقل کے خلاف آپ کا وجدان اس کتاب پر ایمان رکھنے کے لیے اصرار کر رہا ہے، اس وجہ سے آپ اس منطقی نتیجے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور قرآن کے ترجمہ و تفسیر میں حدّ تحریف تک پہنچی ہوئی تاویلیں کر کے صرف یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن نے قربانی کا حکم نہیں دیا ہے۔ حالانکہ اس سے وہ الزام جو خود آپ کے تسلیم کردہ اُصول کی بنا پر قرآن کے خلاف عائد ہوتا تھا، صرف ہلکا ہو جاتا ہے، دُور کسی طرح نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس الزام سے تو قرآن صرف اُسی صورت میں بچ سکتا تھا جبکہ وہ قطعاً و ایجاباً قربانی بند کرنے کا حکم دیتا۔

انسان کی حیثیت اس وقت بڑی ہی عجیب ہو جاتی ہے جب وہ کسی نظام میں داخل بھی رہنا چاہتا ہو اور نظری و فکری حیثیت سے اس سے منحرف بھی ہو چکا ہو۔ ایسی حالت میں وہ ا س نظام کی ہر چیز کو اپنے مزاج کے خلاف پاتا ہے اور اس کے ایک ایک تار کو اُدھیڑ کر از سر نو بننے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس اُدھیڑ بن کا راز فاش ہو، اس لیے قدم قدم پر اس کو تاویل، تحریف، سخن سازی، کھینچ تان اور خدع و فریب کے اوزار استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ ”عرشی“ صاحب ہم کو معاف فرمائیں، اگر ہم عرض کریں کہ اس وقت وہ ایسے ہی مشکل موقف میں پڑے نظر آتے ہیں۔ قربانی کے متعلق ان کا نقطۂ نظر وہ نہیں ہے جو اسلام کا نقطۂ نظر ہے۔ قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور ”سنتِ متواترہ“ میں قربانی ایک عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ایک نیکی اور بھلائی ہے جسے ادا کرنے کے لیے احکام دیئے گئے ہیں اور ان احکام کو بجا لانے کے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس آپ کے نزدیک وہ ایک مکروہ چیز ہے، جہالت ہے اور ترقیِ تہذیب کی وجہ سے مبغوض ہو چکی ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ نقطۂ نظر اسلام کا نقطۂ نظر بن جائے اور سارے احکام اس کے مطابق ڈھل جائیں، لیکن ساڑھے تیرہ سو برس میں اسلام نے جس قدر لٹریچر پیدا کیا ہے وہ کل کا کل ایسے مواد سے بھرا ہوا ہے جو آپ کی اس غرض کے خلاف ہے، حتیٰ کہ قرآن کے صریح الفاظ بھی آپ کی اس غرض کے مخالف ہیں۔ آپ ”سنتِ متواترہ“ کو ”جہالتِ متواترہ“ کہہ کر ٹال دیں گے۔ حدیث، فقہ اور تفسیر کے سارے لٹریچر کو جعلی ٹھہرا دیں گے، مگر قرآن کی صریح آیات کا آپ کے پاس کیا علاج ہے؟ کن کن الفاظ کا مفہوم بدلیں گے؟ کن کن عبارتوں کو اُدھیڑیں گے؟ کہاں تک خدا کے کلام میں اپنے معنی بھریں گے؟

عرشی صاحب نے اس سلسلے میں قرآن کی معنوی تحریف کرنے کی جو حیرت ناک کوششیں کی ہیں، اُن کی صرف دو مثالیں ہم محض اس لیے پیش کرتے ہیں کہ شاید ہمارے اس بھٹکے ہوئے بھائی اور اس کے ہم خیال حضرات کو تنبہ کی توفیق میسر ہو جائے۔

قرآن میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کا اشارہ پایا تھا۔ اس کے امتثال میں وہ واقعی اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ جب انھوں نے اپنے لختِ جگر کو ماتھے کے بل پچھاڑ دیا تو اللہ نے فرمایا کہ<<يٰٓاِبْرٰهِيْمُ ٥ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ ٥ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰؤُا الْمُبِيْنُ>> (صافات 37:104-106) ’’اے ابراہیمؑ! تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم اسی طرح نیک بندوں کو جزا دیتے ہیں۔ بے شک یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی‘‘۔ اس قصے کا صاف مفہوم جس کو ہر صاحبِ فہم آدمی پہلی نظر میں محسوس کر سکتا ہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی آزمائش کرنی چاہی تھی، اس لیے بیٹے کو ذبح کرنے کا صریح حکم نہ دیا بلکہ کنایۃً خواب میں ایسا دکھایا کہ اپنے لختِ جگر کو ذبح کر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ خدا کی محبت پر ہر محبت کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے، اس لیے وہ محبوبِ حقیقی کے محض اس ذرا سے ڈھکے چھپے اشارے ہی پر بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ یہی اصل قربانی تھی، اور جب یہ پوری ہو گئی، تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کا خون بہانے سے اُن کو روک دیا اور ایک ’’ذبحِ عظیم‘‘ کو اس کا فدیہ بنا دیا۔

غور کیجیے، یہ کتنا عظیم الشان واقعہ ہے اور <<لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ>> (آل عمران 92:3) کی روح کو کس شاندار طریقے سے پیش کر رہا ہے، لیکن اب دیکھیے کہ ’’عرشی‘‘ صاحب اور ان کے ہم خیال حضرات محض ’’قربانی‘‘ کی مخالفت کی وجہ سے قرآن کے اس نہایت سبق آموز قصے کو کس طرح مسخ کرتے ہیں۔ اُن کی تاویل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دراصل خواب کا مطلب ہی غلط سمجھا۔ جوشِ ایمانی تو اُن میں ضرور تھا اور ’’شرابِ عشق کی سرمستی‘‘ تک پہنچا ہوا تھا، مگر فہم اتنی بھی نہ تھی جتنی عرشی صاحب اور مولوی احمد الدین صاحب مرحوم کو ارزانی ہوئی ہے۔ وہ خواب کا مطلب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بیٹے کو ذبح کر دو۔ حالانکہ دراصل ذبح کرتے ہوئے دکھانے سے خدا کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس بچے سے دُنیوی اُمیدیں ’’منقطع‘‘ کر کے اسے خدا کے دین کی عظیم خدمت کے لیے وقف کر دو۔ پس جب وہ اپنے لختِ جگر کو ذبح کر کے ایک ضرر رساں غلطی کا ارتکاب کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ فرمایا اور ذبحِ عظیم (یعنی بیٹے کو دین کے لیے وقف کرنے) کی طرف ان کی رہنمائی کی۔

اس تاویل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے <<قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا>> فرما کر خود یہ تصدیق فرمادی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کی تعبیر صحیح سمجھی تھی۔ فاضل مفسر نے اس رکاوٹ کو دُور کرنے کے لیے آیت کے ترجمے میں ایک ذرا سی تحریف کر دی۔ لفظی ترجمہ یہ تھا کہ ”تو نے خواب کو سچ کر دکھایا“۔ انھوں نے اس کا ترجمہ یہ کیا کہ ”تو نے تو خواب کو سچ کر دکھایا“۔ دیکھیے ایک چھوٹے سے لفظ ”تو“ نے مفہوم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ جو تصدیق تھی وہ تعریض بن گئی۔ اس کے بعد اگر كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ کا فقرہ بے معنی ہو گیا تو کچھ پروا نہیں۔ رہا اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰؤُا الْمُبِيْنُ تو اس نئی تاویل سے اس کے معنی یہ قرار پائے کہ یہ محض حضرت ابراہیمؑ کی عقل کی آزمائش تھی کہ آیا وہ خواب کا مطلب صحیح سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، اور افسوس کہ بیچارے اس امتحان میں بُری طرح فیل ہوئے۔

دیکھا آپ نے! محض ایک جزئی مسئلے میں نقطۂ نظر کے پھر جانے سے انسان پر کس طرح بڑے بڑے مسائل میں فہم قرآن کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ جو واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عظیم الشان کارنامہ تھا، وہ ان کی ایک غلطی بن گیا۔ جس واقعہ کو مسلمانوں کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ وہ اسلام کی رُوح کو سمجھیں، اور اپنے اندر ایثار و قربانی اور محبت الٰہی کا یہ جذبہ پیدا کریں، اس کے مقصد کو قطعی باطل کر دیا گیا، اس کی جان نکال لی گئی، اور وہ محض اس امر کی ایک شہادت بن گیا کہ جلیل القدر انبیا تک خدا کے اشارات کو نہیں سمجھ سکے، بلکہ اس نعمت سے صرف بیسویں صدی کے ایک ”مفسرِ اسرار“ کو سرفراز فرمایا گیا ہے!

اب دوسری مثال ملاحظہ ہو۔ سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

<< وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ >>الحج 34:22

آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے:

اور ہر اُمت کے لیے ہم نے مقرر کیا عبادت کا ایک طریقہ تاکہ وہ نام لیں اللہ کا اُوپر اس کے جو بخشا ہے اُس نے ان کو چار پایوں میں سے۔

یہ الفاظ صریح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ قربانی ایک عبادت ہے اور یہ طریقہ خدا کا اپنا مقرر کیا ہوا ہے۔

مگر عرشی صاحب اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:

’’اور دیکھو ہر اُمت کے لیے ہم نے عبادت کا طور و طریقہ ٹھیرا دیا کہ ہمارے دیئے ہوئے پالتو چار پائے ذبح کرے تو اللہ کا نام یاد کرے۔‘‘

دیکھیے! اس ’’ذبح کرے تو‘‘ نے مفہوم کو کدھر پھیر دیا ہے۔ اب آیت کے معنی یہ قرار پائے جو مذبحوں میں روزانہ ہزاروں بکرے قصابوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہیں اور ان پر بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھا جاتا ہے، یہی وہ منسک (عبادت کا طور طریقہ) ہے جو اللہ نے ہر اُمت کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس قسم کی تحریفات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو اصل الفاظ میں محفوظ کر کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا بڑا فضل فرمایا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بعید نہ تھا کہ اس زمانے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کو سامنے رکھ کر ایک نیا ہی قرآن تیار کر لیا جاتا۔

’’عرشی‘‘ صاحب نے تقریباً تمام اُن آیات کی ایسی ہی تاویلیں فرمائی ہیں جن میں قربانی کے احکام آئے ہیں اور پھر فقہی مسائل کی ایسی توجیہات کی ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اصل مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ، بلکہ حدیث و تفسیر اور فقہ کی تمام کتابوں کے ورق اُلٹنے میں صرف ایک مقصد اُن کے پیش نظر رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ قربانی کی تائید میں اگر پہاڑ نظر آئے تو اس سے آنکھیں بند کرلیں، اور اس کے خلاف ایک بال کی ذرا سی نوک بھی نظر آئے تو اس کو پہاڑ بنا کر صرف ان مسلمانوں کے سامنے پیش کردیں جو بیچارے اصل ماخذ تک نہیں پہنچ سکتے اور جن کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ان نمائشی پہاڑوں کی حقیقت کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں بحث کا یہ طریقہ اور تحقیق کا یہ معیار ہو، وہاں کسی سنجیدہ بحث کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ چاہیں تو ان کی ایک ایک غلطی کا راز فاش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا تاوقتیکہ وہ اپنی ذہنیت اور اپنے طریق فکر کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔

ترجمان القرآن

(ذی القعدہ ۱۳۵۵ھ بمطابق جنوری ۱۹۳۷ء)