تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
امام اعظم کا مذہب
امام ابو حنیفہؒ کی رائے یہ ہے کہ فارسی میں (اور فارسی کی کچھ خصوصیت نہیں ہے، ہر زبان میں [ابوسعید البردعی نے امام صاحب کا یہ مسلک نقل کیا ہے کہ فارسی کے سوا کسی دوسری زبان میں پڑھنا درست نہیں، لیکن کرخی نے لکھا ہے کہ امام اعظم کا صحیح مسلک یہ ہے کہ ہر زبان میں پڑھنا جائز ہے۔ صاحب ہدایہ نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں: <<ويجوز باى لسان كان سوى الفارسية هو الصحيح>>۔]) نماز پڑھنا یا خدا کا نام لے کر ذبح کرنا، یا اذان دینا (بشرطیکہ وہ غیر عربی اذان معروف ہو اور اس کو سن کر لوگ جان لیں کہ یہ اذان ہے) جائز ہے خواہ ایسا کرنے والا عربی پڑھنے پر قادر ہو یا نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: <<وَإِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْأَوَّلِيْنَ>> (الشعراء 196:26) یعنی وہ پچھلی کتابوں میں بھی ہے، اور یہ ظاہر ہےکہ قرآن اپنے موجودہ نظم کے ساتھ پچھلی کتابوں میں نہ تھا۔ پس لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ وہ ان کتابوں میں اپنے معنیٰ کے اعتبار سے تھا۔ اور جب وہ معنوی ہونے کے باوجود ”قرآن“ ہی تھا تو یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کہ قرآن کا فارسی ترجمہ بھی معنیٰ قرآن ہے اور نماز میں اس کا پڑھنا جائز ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ <<وَلَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا>> (حم السجدہ 44:41) (اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے) اس سے معلوم ہوا کہ اگر عجمی زبان میں بھی یہ معنی ادا کیے جاتے تب بھی وہ قرآن ہی ہوتا۔ مزید برآں روایات میں آیا ہے کہ ایران کے نومسلموں نے حضرت سلمانؓ فارسی سے درخواست کی تھی کہ سورۂ فاتحہ ہم کو فارسی میں لکھ دیجیے۔ چنانچہ انھوں نے لکھ دی اور وہ اس کو نمازوں میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی زبانیں نرم ہوگئیں اور وہ عربی پڑھنے پر قادر ہوگئے تو انھوں نے عربی میں پڑھنی شروع کردی۔ ان دلائل کی بنا پر امام صاحب کی رائے یہ ہے کہ اگر غیر عربی میں نماز پڑھی جائے تو ادا ہوجائے گی، مگر وہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ سنّتِ متوارثہ کے خلاف ہے بلکہ ابوبکر رازی نے تو لکھا ہے کہ امام صاحب نے آخر میں اپنی اس رائے سے بھی رجوع کرلیا تھا اور امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کر لی تھی۔