تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خلافتِ الٰہی سے مراد کیا ہے؟
دوسری بات جو قرآن مجید میں ایک اور موقع پر ارشاد ہوئی ہے، خلافتِ الٰہی کے مفہوم پر صاف روشنی ڈالتی ہے، فرمایا:
<<إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا>> الاحزاب 33: 72
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تھا مگر انھوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اُٹھا لیا، بے شک وہ ظالم اور انجام سے بے خبر نکلا۔
اس آیت میں بارِ امانت سے مراد اختیار (freedom of choice) اور ذمہ داری و جواب دہی (responsibility) ہے اور ارشادِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں میں اس بار کو اُٹھانے کی تاب نہ تھی۔ انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی نہ تھی جو یہ پوزیشن قبول کر سکتی! آخر کار انسان آیا اور اس نے یہ بار اُٹھا لیا۔ اس بیان سے متعدد نکات نکلتے ہیں:
(1) انسان سے پہلے زمین و آسمان میں کوئی مخلوق بارِ امانت کی حامل نہیں تھی۔ انسان پہلی مخلوق ہے جس نے یہ بار اُٹھایا ہے۔ لہٰذا منصب امانت میں وہ کسی مخلوق کا جانشین (successor) نہیں ہے۔
(۲) جس چیز کو سورۂ بقرہ میں خلافت کہا گیا ہے وہی چیز یہاں امانت کے لفظ سے تعبیر کی گئی ہے۔ کیونکہ وہاں فرشتوں پر ثابت کیا گیا تھا کہ تم خلافت کے اہل نہیں ہو، اس کا اہل انسان ہے اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق ہماری امانت کا بار اُٹھانے کی اہل نہ تھی، صرف انسان اس کا متحمل ہوا۔
(۳) خلافت کے مفہوم کو امانت کا لفظ واضح کر دیتا ہے اور یہ دونوں لفظ نظام عالم میں انسان کی صحیح حیثیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انسان زمین کا فرمانروا ہے، مگر اس کی فرمانروائی بالاصالت نہیں ہے بلکہ تفویض کردہ (delegated) ہے۔ لہٰذا اللہ نے اس کے اختیاراتِ مفوضہ (delegated powers) کو امانت سے تعبیر کیا ہے اور اس حیثیت سے کہ وہ اس کی طرف سے ان اختیاراتِ مفوضہ کو استعمال کرتا ہے اُسے خلیفہ (vicegerent) کہا ہے۔ اس تشریح کے مطابق خلیفہ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ شخص جو کسی کے بخشے ہوئے اختیارات کو استعمال کرے۔
(person excercising delegated powers)
ترجمان القرآن
(ذی القعدہ ۱۳۵۳ھ ۔ فروری ۱۹۳۵ء)