تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قربانی کا حکم قرآن میں
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے، یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے؟ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلی آیت سورۂ انعام کے آخری رکوع میں ہے:
<<قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۙ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ>> الانعام 6: 163
اے نبی! کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت خم کرنے والا میں ہوں۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے۔ اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس حکم سے مراد حج میں قربانی کرنا ہے۔ نُسک کا لفظ جو اس آیت میں مستعمل ہوا ہے اسے خود قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے: <<فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖ اَذًى مِّنْ رَّأْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ>> (البقرہ 196:2) ”تم میں سے جو شخص سفرِ حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو فدیے میں روزے رکھے، یا صدقہ دے یا قربانی کرے“۔ اس نظیر سے معلوم ہوا کہ سورۂ انعام کی مذکورہ بالا آیت میں بھی نُسک کے معنی قربانی کے ہیں۔ تاہم اگر اس لفظ کو عام عبادات کے معنی میں بھی لیا جائے تو قربانی کا مفہوم اس میں ضرور شامل مانا جائے گا۔
دوسری آیت سورۂ کوثر میں ہے:
<<فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ>> الکوثر 108 : 2
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
یہ آیت بھی مکی ہے اور اس میں کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لیے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ لغت نے ”نحر“ کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے، اور قبلہ رُخ ہونے، اور اوّل وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کیے ہیں، لیکن یہ سب دُور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے۔
چنانچہ ”احکام القرآن“ میں علامہ جصاص لکھتے ہیں:
”جن لوگوں نے اس کے معنی اونٹ ذبح کرنے کے بیان کیے ہیں انھی کی بات صحیح ہے، کیونکہ اس لفظ کا حقیقی مفہوم یہی ہے اور مطلق لفظِ نحر سُن کر ایک عرب اس مفہوم کے سوا اور کوئی مفہوم نہ سمجھے گا۔ اگر کہا جائے کہ فلاں شخص نے آج نحر کیا ہے تو ہر شخص یہی سمجھے گا کہ اس نے آج اونٹ ذبح کیا، نہ یہ کہ اس نے آج بائیں ہاتھ پر سیدھا ہاتھ باندھا“ (جلد ۳ ص ۵۸۵)
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین، شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبد القادر صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب، مولانا محمود الحسن، مولانا اشرف علی صاحب، ڈپٹی نذیر احمد صاحب وغیرہم نے بالاتفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔