مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دامِ ہم رنگِ زمیں

جس طرح عداوتوں میں سب سے زیادہ خطرناک وہ عداوت ہے جو دوستی کے پیرائے میں کی جائے، اُسی طرح گمراہیوں میں سب سے زیادہ خطرناک وہ گمراہی ہے جو ہدایت کے لباس میں جلوہ گر ہو۔ آپ کھلے دشمن سے زک تو اٹھا سکتے ہیں مگر دھوکا نہیں کھا سکتے ۔ اسی طرح آپ کھلی کھلی گمراہی کی طرف بلانے والے سے متاثر ہو کر مرتد تو بن سکتے ہیں، مگر اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتے کہ اصل اسلام وہی ہے جس میں اب آپ داخل ہوئے ہیں۔ ایک شخص علانیہ آ کر اسلام کی مخالفت کرے، قرآن پر حملہ کرے، نبیؐ کی زندگی پر اعتراضات کرے، اور اسلام کے عقائد، اصول، احکام سب کو غلط ٹھہرائے تو مسلمان یا تو اس کی بات ردّ کر دے گا اور اسلام پر قائم رہے گا، یا پھر اسلام کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں چلا جائے گا اور اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دے گا، لیکن اُس شخص کا معاملہ کتنا پُر فریب ہے جو آ کر مسندِ ارشاد پر بیٹھے، قرآن کھول کر وعظ شروع کر دے۔ آیاتِ الٰہی کی تفسیر بیان کرے، ایمان وعملِ صالح کی طرف دعوت دے، عبادات وخلوص کی تلقین کرے، اور جب اس طرح آپ کے دل پر اُس کے ہادئِ برحق اور داعئِ خیر ہونے کا سکہ بیٹھ جائے تو وہ آپ کو یہ سمجھانا شروع کر دے کہ نماز پانچ وقت کی نہیں، صرف تین وقت کی فرض ہے، روزے پورے رمضان کے نہیں صرف تین یا حد سے حد دس دن کے فرض ہیں۔ زکوٰۃ کے لیے کوئی نصاب مقرر نہیں، جس قدر دل چاہے خیرات کر دیا کرو، اور اس طرح اسلامی احکام میں سے ایک ایک کی قطع و برید کرتے ہوئے ہر قدم پر وہ ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی یقین دلاتا جائے کہ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی رسول کا اُسوۂ حسنہ ہے۔ بیچارے عام ناواقف مسلمانوں کا ایسے زہر سے بچنا کس قدر مشکل ہے جو یوں مٹھائی میں ملا کر ان کو دیا جا رہا ہو۔

یو، پی کے ایک مسلمان ڈپٹی کلکٹر صاحب جو ”حق گو“ تخلص فرماتے ہیں، اور اس سے پہلے اشاعتِ اسلام کی خاطر سُؤر کا گوشت حلال کرنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں [ صاحب موصوف کی اس تجویز پر ہم نے اپنے مضمون ”عقلیت کا فریب“ میں تبصرہ کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو ”تنقیحات“)]؂آج کل انھوں نے ”مواعظِ قرآن“ کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس میں وہ عام مسلمان کو گمراہ کرنے کا یہی پُر فریب طریقہ اختیار فرما رہے ہیں۔ اُن مواعظ کو امرتسر کی ایک مشہور مخالفِ حدیث جماعت [ امرتسر کی بربادی کے بعد اب یہ جماعت لاہور آگئی ہے۔]؂اپنے ماہوار رسالے میں شائع کر رہی ہے۔

اس وقت اس سلسلے کے تیسرا ”وعظ“ ہمارے پیشِ نظر ہے، جس میں <<فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ>> (الماعون 5:107) کی تفسیر ارشاد ہوئی ہے۔ واعظ اپنا وعظ اس طرح شروع کرتا ہے کہ آیت میں تمام آنے والی مسلمان نسلوں کے لیے تنبیہ ہے کہ:

”خبردار ایسا نہ کرنا کہ نماز کے معنی بس یہ سمجھ لینا کہ چاہے دل لگے یا نہ لگے، سمجھ میں آئے یا نہ آئے، کیسا ہی بے محل کیوں نہ ہو، مصلّی بچھا کر چار ٹکریں مار لیں اور منہ سے کچھ بڑبڑا دیا۔ ایسی نماز سے بجائے فائدے کے اُلٹا نقصان ہوتا ہے۔ وہ صرف دکھانے کے لیے پڑھی جاتی ہے اور عنداللہ مکروہ بلکہ مغضوب ہے.......“۔

”نماز کو بچوں کا کھیل مت سمجھنا۔ اس کے ادا کرنے میں بڑی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ وہ در حقیقت خدا اور اس کے فرشتوں کی حضوری اور شہادت کا وقت ہوتا ہے۔ تو کیا تمھاری بے دلی کی نماز اُس کا منہ چڑانا نہ ہوگا۔ نماز میں خدائے واحد و قدوس کے جلال و بزرگی و کبریائی کا اعتراف ہوتا ہے۔ تم اس کے حضور میں ادب سے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہو۔ بھلا سوچو تو یہ کتنی بڑی گستاخی ہوگی کہ ایسے بڑے دربار میں حاضر ہو کر تم ایسی حرکتیں کرو کہ اگر کسی دنیاوی امیر کے سامنے کرو تو تم کو فوراً دربار سے نکال کر باہر کر دے۔ تم پر حیف و صد حیف ہے کہ اپنی نماز میں اُلٹا خدا کا غضب مول لو۔ لہٰذا نماز کے لیے چار ضروری شرطیں ہیں۔ مشاغلِ دنیاوی سے یکسوئی۔ جسم و لباس کی طہارت، الفاظِ قرآن کو سمجھنا اور با ایمان ہونا“۔

دیکھیے! قرآن کا وعظ ہے ”قرآنی تعلیمات کی نشر و اشاعت“ کرنے والے رسالے میں شائع ہو رہا ہے۔ ”حق گو“ کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ تمہید ایسی ہے کہ جو مسلمان پڑھے گا، یقین لے آئے گا کہ واعظ کا مقصود عبادت میں اخلاص کی تلقین کرنا ہے۔ یہ سب باتیں جمع ہو کر ایک سیدھے سادھے مسلمان کو واعظ کی طرف سے بالکل مطمئن کر دیتی ہیں، اور اس کے دل میں کوئی خوف اس امر کا باقی نہیں رہتا کہ اس کے وعظ میں کوئی چیز اس کے گمراہ کرنے والی بھی ہو گی۔ اس طرح جب آدمی ضلالت کے تمام خطرات سے مامون ہو جاتا ہے تو اسی مرشدانہ انداز میں اس سے کہا جاتا ہے:

”یکسوئی کے بہترین اوقات فطرتاً ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جب کہ آدمی سو کر اُٹھتا ہے، یا جب سونے کے لیے تیار ہوتا ہے اور جب وہ اپنے گھر کام سے فارغ ہو کر سرِ شام لوٹتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اوقات بھی نماز کے ہوں گے وہ دنیاوی مصروفیت یا آرام و سیر و تفریح کے ہوتے ہیں۔ ایسے اوقات میں نماز میں یکسوئی پیدا کرنا ذرا مشکل ہے، ورنہ ایسے وقتوں میں نماز پڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو ان وقتوں میں یکسوئی حاصل کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے جو لوگ ان اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں، وہ نہایت بد دلی اور سراسیمگی سے ادا کرتے ہیں“۔

اس کے بعد سامع کو وعظ کی ایک اور خوراک دی جاتی ہے، تاکہ وہ اس دعوتِ ضلالت سے منحرف نہ ہو جائے:

”حرکاتِ جسمانی کا مقصد نماز نہیں، وہ اظہارِ خشوع و خضوع کے ساتھ یکسوئی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اصل نماز تمھاری تقدیس و تکبیر و تلاوتِ قرآن پاک ہے جس کے لیے تمھارے دماغ اور دل کا مستعد اور یک سُو ہونا شرط ہے“۔

یہ دوسری خوراک ہضم کر کے جب سیدھا سادھا مسلمان دوبارہ گمراہی کے خطرے سے بے خوف ہو جاتا ہے تو زہر کا یہ آخری جُرعہ اُس کے حلق سے نیچے اتارا جاتا ہے:

میرے فہم ناقص میں تو یہ آتا ہے کہ اس کا اشارہ (یعنی ويمنعون الماعون کا اشارہ) اُن فتووں کی طرف ہے جن کی کوئی سند قرآن میں نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کے احکام سے بڑھ کر ہمارے لیے معمول بہ ہیں، اور ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلافِ فطرت اوقات میں ہم سے نماز پڑھوائی جاتی ہے جن میں نہ ہم تہہ دل سے نماز میں رجوع ہو سکتے ہیں اور نہ اپنے مفادِ زندگی کے لیے کوئی کام کر سکتے ہیں‘‘۔

اس تمام وعظ کا اصل مقصد بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ظہر اور مغرب کی نماز کا وقت اُڑا دیا جائے، کیونکہ ظہر کی نماز کے لیے انگریزی حکومت اور انگریزی کمپنیوں نے اپنے مسلمان ملازموں کے لیے کوئی وقت دینا پسند نہیں کیا ہے۔ اور مغرب کی نماز کا وقت بدقسمتی سے وہی ہے جو سینما کا ہے، کلب کی تفریحات کا ہے، ٹینس، بلیئرڈ اور برج کھیلنے کا ہے۔ اس وقت کھیل چھوڑ کر نماز پڑھنا ہمارے ’’صاحب لوگوں‘‘ کو ناگوار ہوتا ہے۔ اس مقصد کو خود ’’وعظ‘‘ صاحب ہی نے کھول کر اس طرح بیان فرمایا ہے:

’’میرے بعض دوست ایسے ہیں جو ماشاء اللہ بڑے پابندِ نماز ہیں۔ میں نے اُن کو دیکھا ہے کہ شام کو ٹینس اور برج کھیلتے کھیلتے وہ دفعتاً نماز پڑھنے لگ گئے یا کسی پارٹی میں کھاتے کھاتے اُٹھ کھڑے ہوئے اور جھٹ نماز پڑھ لی۔ یا اجلاس میں مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں یکا یک گھڑی نے ان کو ظہر کی نماز یاد دلا دی۔ اُٹھ کھڑے ہوئے اور عادتاً نماز کے ارکان چبوترے پر ادا کر ڈالے۔ میں کبھی اس قسم کی نمازوں کو نماز ہی شمار نہیں کرتا اور ہمیشہ قرآن کی یہ آیت یاد کر کے میں کانپ جاتا ہوں‘‘۔

اب ذرا غور کیجیے! دشمنوں کی ایک قسم تو وہ تھی جنھوں نے دفتروں کے اوقات میں مسلمانوں کو نماز کے لیے چھٹی دینے سے انکار کر دیا، اور اس معاملے میں اُن پر سختیاں کیں۔ مسلمان ان دشمنوں کا مقابلہ تو کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا۔ جو سچے مسلمان تھے انھوں نے حکمِ الٰہی اور رسولؐ کے مقابلے میں کسی جابر کے حکم کی پروا نہ کی، حتیٰ کہ بہتوں نے نماز کی خاطر اپنے روزگار تک سے ہاتھ دھو لیا۔ اور جو ضعیف الایمان تھے انھوں نے اگرچہ روزگار کی خاطر نماز ترک کر دی، مگر پھر بھی دل میں اپنی اس کمزوری پر شرمسار رہے۔ ایک دوسری قسم دشمنوں کی وہ تھی جنھوں نے نماز کے خلاف تبلیغ کی، اس کو فضول اور لغو کہا اور مسلمانوں کو اس سے منحرف کرنے کے لیے طرح طرح کی تحریصوں کے جال بچھائے۔ مسلمان ان دشمنوں کا مقابلہ بھی کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا، اس لیے کہ وہ کھلے دشمن تھے، اُن کے شر سے بچ جانا آسان تھا، لیکن اُس دشمن کے شر سے بچنا کس قدر مشکل ہے، جو انھی دشمنوں کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جبر اور مخالفانہ تبلیغ کے ذرائع چھوڑ کر نصیحت اور وعظ کا ذریعہ اختیار کرتا ہے۔ قرآن کو آلہ کار بنا کر مسلمانوں کو یقین دلاتا ہے کہ ظہر اور مغرب کی نماز تو خدا نے تم پر فرض ہی نہیں کی تھی، ان نمازوں کا پھندا تو دراصل اُن جاہل ملاؤں نے تمھارے گلے میں ڈال دیا ہے، جو یمنعون الماعون کے مصداق ہیں۔ ان ظالموں نے تم کو بالکل خلاف فطرت اوقات پر نمازوں میں لگا دیا، اور اس کا انجام یہ ہوا کہ تم سے دفتروں کی ملازمتیں چھوٹیں، دنیا کے کاروبار چھوٹے، کلب اور سینما چھوٹے، غرض ترقی کی تمام راہوں سے تم الگ ہو گئے۔ قرآن نے ہرگز ایسی نماز کا حکم نہیں دیا۔ وہ تو صرف تین وقت کی نماز تم سے پڑھوانا چاہتا ہے، اور وہ بھی اس ضروری شرط کے ساتھ کہ مشاغل دنیوی سے یکسوئی ہو۔

یہ وہ دشمنی ہے جو دوستی کے پیرایہ میں کی گئی ہے۔ وہ ضلالت ہے جس کو ہدایت کا نہایت خوشنما لباس پہنایا گیا ہے۔ جو کام کھلے دشمن نہ کر سکے، علانیہ گمراہ کرنے والے نہ کر سکے، اس کو انجام دینے کے لیے اب یہ دوست نما دشمن اور مدعی اصلاح مفسد اُٹھے ہیں۔

اب سادہ لوح مسلمان کے دین و ایمان کا اللہ ہی حافظ ہے۔

بادی النظر میں تو یہ حملہ صرف اوقاتِ نماز ہی پر ہے، لیکن غور سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک بڑے خطرے کی ابتدا ہے۔ مسلمانوں کو پنج وقتہ نماز رسول اللہؐ سے قریب قریب اسی تواتر کے ساتھ پہنچی ہے جس کے ساتھ قرآن پہنچا ہے۔ جس طرح قرآن کے متعلق ہمارا یقین کہ وہ ہر تحریف سے محفوظ ہے، اس بنیاد پر مبنی ہے کہ اس کو لاکھوں آدمیوں نے حضورؐ سے سنا ہے، پھر کروڑوں آدمیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، اور اُن کے بعد ہر گزرنے والی نسل سے آنے والی نسل کو قرآن اُنھی الفاظ کے ساتھ پہنچتا رہا ہے، اسی طرح پنج وقتہ نماز کی فرضیت پر یقین کرنے کے لیے بھی ہمارے پاس اس سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کوئی دوسرا ثبوت نہیں ہے کہ ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے آنحضرتؐ سے یہ حکم سنا اور آپؐ کی اقتدا میں اس پر سالہا سال تک عمل کیا ہے، ان کے بعد نسلاً بعد نسلٍ کروڑ ہا کروڑ مسلمان یہی سنتے اور دیکھتے اور عمل کرتے چلے آئے ہیں کہ اسلام میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے اور مسلمانوں میں ہر قسم کی فرقہ بندیوں کے باوجود کبھی اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہوا ہے۔ اس تواتر سے جو یقین نماز کے معاملے میں حاصل ہوتا ہے، وہ اگر کسی کے شک ڈالنے سے متزلزل ہو جائے تو پھر اُس یقین کو متزلزل کر دینا بھی کچھ مشکل نہیں رہتا جو ہمیں قرآن مجید کے متعلق ایسے ہی تواتر سے حاصل ہوا ہے بلکہ ہم تو یہاں تک کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسی متواتر خبریں بھی شک و شبہ کی زد میں آسکتی ہیں تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کرسکتا کہ آیا محمدؐ فی الواقع مبعوث بھی ہوئے تھے یا نہیں، اس لیے کہ جس تواتر کے ساتھ ہم کو آنحضرتؐ سے پنج وقتہ نماز پہنچی ہے، اسی تواتر کے ساتھ خود آنحضرتؐ کے مبعوث ہونے کی خبر بھی پہنچی ہے۔ اگر شک کی بیماری ہمارے دل پر اس قدر غالب ہو جائے کہ آج ہم پنج وقتہ نماز کے فرض ہونے میں شبہ کرنے لگیں تو کچھ عجب نہیں کہ کل یہی بیماری ہم کو آنحضرتؐ کی بعثت کے متعلق بھی شک میں ڈال دے۔ <<نعوذ باللہ من ذلک>>۔

باطل کی طرف دعوت دینے والوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ اپنی دعوتِ ضلالت کے تمام مقاصد کو بیک وقت بے نقاب نہیں کرتے بلکہ سب سے پہلے دین کے مسلمات و یقینیات میں سے کسی ایک چیز پر حملہ کر کے اپنی پوری قوت صرف اسی کو متزلزل کرنے میں صرف کر ڈالتے ہیں۔ یہ ایک گہری نفسیاتی چال ہے۔ اگر وہ سب کچھ ابتدا ہی میں کھول دیں تو شاید کوئی مسلمان بھی ان کے جال میں نہ پھنسے، اس لیے وہ اپنے کام کی ابتدا شکوک و شبہات کی تخم ریزی سے اور کسی ایک یقین کی بنیاد ڈھانے سے کرتے ہیں۔ جو لوگ اس پہلے حملے کے مقابلے میں ثابت قدم رہ جاتے ہیں، ان کا دین و ایمان تو ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے، لیکن جو کمزور طبیعت کے لوگ اس حملے کی تاب نہیں لا سکتے وہ پہلے مورچے پر شکست کھانے کے بعد ایسے مغلوب ہو جاتے ہیں کہ گمراہ کرنے والا ان کے یقینیات میں سے ایک ایک کو مسمار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ گمراہی کی آخری منزل تک اُسی کی پیروی کیے چلے جاتے ہیں۔

یہ ایک فطری بات ہے کہ آدمی کے دل میں جب شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے اور یقین کی قوت پر شک کا مادہ غالب آ جاتا ہے تو پھر شکوک کے سیلاب میں اس کے پاؤں اُکھڑ جاتے ہیں۔ اور جب وہ ایک دفعہ بہہ نکلتا ہے تو پھر بہتا ہی چلا جاتا ہے، کہیں اس کے قدم جمنے نہیں پاتے۔ ایک یقینی بات کا انکار دراصل اُسی ایک بات کے انکار پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے انسان کے نفس میں یہ استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ویسے ہی دوسرے یقینیات کا بھی انکار کر دے، اس لیے کہ تمام یقینیات کی بنیاد ایک ہی ہوتی ہے۔ جب وہ بنیاد کسی ایک معاملے میں متزلزل ہو جاتی ہے تو دوسرے تمام یقینی اُمور بھی کمزور پڑ جاتے ہیں، اور اس وقت یہ بات بالکل داعیِ ضلالت کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے کہ اپنے متبع سے جس چیز کا چاہے انکار کروا لے۔

اسلام میں جتنے باطل فرقے پیدا ہوئے ہیں، اُن سب کے بانیوں نے اسی طریقے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ قادیانی تحریک کی نمایاں مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس کے بانی نے بھی سب سے پہلے اسلام کے ایک یقینی مسئلے (یعنی ختمِ نبوت) کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شکوک ڈالنے شروع کیے تھے۔ جو لوگ اس پہلے حملے سے بچ گئے وہ تو ہمیشہ کے لیے بچ گئے، مگر جن کے یقین کی بنیاد اس مسئلے میں متزلزل ہو گئی، وہ گمراہی کی دعوت سے ایسے مغلوب ہوئے کہ مرزا صاحب نے پھر جس جس چیز کا چاہا ان سے انکار کرا لیا، اور جو چیز بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف پیش کی، اُس کا اقرار اُن سے کرا کے چھوڑا۔

اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر ذرا سوچیے تو سہی کہ پنج وقتہ نماز جیسی ایک یقینی چیز بھی جن لوگوں کے دلوں میں شک کا شکار ہو جائے گی، کیا ان کا شک صرف اسی ایک چیز پر آ کر رُک جائے گا؟

جناب ”حق گو“ صاحب جس مذہب کی بنیاد رکھ رہے ہیں، اُس کے تمام خدوخال ہم کو اُن کی کتاب ”مطالعۂ حدیث“ میں نظر آ چکے ہیں۔ اس کی حقیقت کھولنے کا تو یہاں موقع نہیں ہے [ یہ تنقید ”تفہیمات“ حصہ اول میں درج ہے۔]؎ مگر ہم اس مخالفِ حدیث جماعت سے، جو ان کے افکار و نظریات کو مسلمانوں میں پھیلا رہی ہے، یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اب حدیث کی دشمنی میں آپ لوگ اس حد تک بڑھے جا رہے ہیں کہ قرآن سے بھی آپ کی جنگ چھڑ چلی ہے؟ ”حق گو“ صاحب حدیث کی دشمنی میں آپ کے دوست سہی، مگر نماز کے اوقاتِ پنجگانہ پر یہ حملہ تو صرف حدیث ہی پر نہیں خود قرآن پر حملہ ہے۔ کیا قرآن میں آپ کو یہ آیت نہیں ملی؟<< اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ >> بنی اسرائیل 78:17

نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے پر۔

اس آیت میں ”آفتاب ڈھلنے پر“ سے مراد ظہر کے سوا اور کون سا وقت ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ نے قرآن میں یہ بھی نہیں پڑھا؟

<< وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ >> ھود 114:11

نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں پر اور تھوڑی رات گزرنے کے بعد۔

یہاں دن کے دونوں کناروں سے مراد اگر فجر اور مغرب نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر کیا یہ آیت بھی قرآن میں آپ کو نہیں ملی؟

<< وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِہَا وَ مِنْ اٰنَآءِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّہَارِ >> طہ 130:20

اور تسبیح کر اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے وقتوں میں، پھر تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر۔

کیا اس آیت میں چار علیحدہ علیحدہ اوقات کی تصریح نہیں ہے؟ قبل طلوع الشمس اور دن کے کناروں میں سے ایک کنارا تو ظاہر ہے کہ صبح کا وقت ہے۔ قبل غروب سے مراد عصر ہے۔ اٰناء اللیل سے مراد عشا ہے۔ ان تین وقتوں سے الگ دن کے دوسرے کنارے سے مراد اگر مغرب کا وقت نہیں تو کیا ہے؟ پھر یہ آیت بھی تو قرآن میں ہے، آپ نے اس کو کیوں نہ دیکھا؟

<< فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ o وَ لَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْہِرُوْنَ >> الروم 18:30-17

پس اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو اور آسمان و زمین میں اسی کے لیے حمد ہے۔ اور اس کی تسبیح کرو سہ پہر کو اور جب تم پر دوپہر کا وقت آئے۔

کیا اس آیت میں حِیْنَ تُمْسُوْنَ سے مراد مغرب کے سوا کوئی اور وقت ہے؟ اور کیا حِیْنَ تُظْہِرُوْنَ سے ظہر کے سوا کوئی دوسرا وقت مراد ہو سکتا ہے؟

اگر یہ آیات قرآن ہی کی ہیں، اور ان سے نماز کے پورے پانچ وقت ثابت ہوتے ہیں تو کیا اُس وعظ کو قرآنی وعظ کہا جاسکتا ہے جس میں مسلمانوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ نماز صرف تین وقت کی ہے، اور یہ کہ ظہر و مغرب کی نماز کا حکم قرآن میں نہیں ہے؟

اب ذرا ”حق گو“ صاحب کے اُس عقلی استدلال پر بھی ایک نگاہ ڈال دیکھیے جو انھوں نے ظہر اور مغرب کے اوقات کو ساقط کرنے کے حق میں پیش فرمایا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دونوں اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی کو یکسوئی میسر نہیں ہو سکتی، اور نماز کے لیے یکسوئی ایک ضروری شرط ہے، لہٰذا نماز کے لیے یہ بالکل غیر فطری اوقات ہیں، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہی حق گو صاحب اپنی کتاب ”مطالعۂ حدیث“ میں تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو پابندیِ وقت کے ساتھ فرض کیا ہے، <<إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (النساء 103:4)>> اب اگر وہ اپنی عقل پر کچھ بھی زور دیتے ہیں تو ان کو خود معلوم ہو جاتا کہ پابندیِ وقت کے ساتھ یکسوئی کی شرط لگانا کسی عاقل کا کام نہیں ہو سکتا۔ عملی زندگی میں ان دونوں شرطوں کا ساتھ ساتھ نبھنا تقریباً محال ہے۔ وقت کی پابندی ہوگی تو لازماً جب وقت آئے گا نماز ضرور پڑھنی پڑے گی خواہ یکسوئی ہو یا نہ ہو۔ یکسوئی شرط ہوگی تو پھر وقت کی پابندی نہیں ہو سکتی۔ جب جس شخص کو کام کاج سے فرصت ہوگی نماز پڑھ لے گا۔ یہ دو مختلف شرطیں جہاں ایک ساتھ لگائی جائیں گی وہاں ان میں سے کوئی ایک ساقط ہو کر رہے گی۔

معلوم ہوتا ہے کہ ”حق گو“ صاحب نے ایک خود بین آدمی کی حیثیت سے صرف اپنی اور اپنے طبقے ہی کی یکسوئی کے اوقات کا لحاظ فرمایا ہے، ورنہ اگر وہ مجموعی طور پر عام انسانوں کے حالات پر نظر رکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ یک سوئی کو نماز کے لیے ضروری شرط قرار دینے کے بعد صرف مغرب اور ظہر ہی نہیں بلکہ اس کام کے لیے سرے سے کوئی وقت مقرر کیا ہی نہیں جا سکتا۔ آپ کہتے ہیں کہ صبح کا وقت یکسوئی کا ہوتا ہے، مگر کیا اُس مزدور کو بھی صبح کے وقت یکسوئی حاصل ہوتی ہے جسے طلوعِ آفتاب سے پہلے اپنے کارخانے میں پہنچ جانا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ عصر کا وقت یکسوئی کا ہے۔ ممکن ہے کہ ڈپٹی کلکٹروں کے لیے ہو جو چار بجے دفتر سے اُٹھ کر گھر پہنچ جاتے ہیں، مگر کیا اُس دکاندار کے لیے بھی یہ وقت یکسوئی کا ہوتا ہے جس کے پاس تیسرے پہر ہی خریداروں کا ہجوم ہوا کرتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ عشا کا وقت یکسوئی کا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے لیے ایسا ہو، مگر اُس ملازم سے پوچھیے جو اپنی نائٹ ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ کیا وہ بھی اقرار کرے گا کہ عشا کے وقت اُسے یکسوئی میسر آتی ہے؟ نماز تنہا ایک شخص یا ایک مخصوص گروہ کے لیے تو نہیں ہے۔ نہ اس کے اوقات مقرر کرنے میں محض ”صاحب لوگوں،، کے نظام الاوقات کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ یہ تو تمام لوگوں کے لیے ہے، اور تمام لوگوں کے لیے رات دن کے اوقات میں سے کوئی وقت بھی ایسا معین نہیں کیا جا سکتا جس میں سب کو یک سوئی حاصل ہوتی ہو۔

تمام لوگوں کو بھی چھوڑیے! ایک شخص ہی کو لے لیجیے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ روزانہ دو یا تین مرتبہ نہ سہی، ایک ہی مرتبہ مقررہ وقت پر اسے ہمیشہ یکسوئی حاصل ہوا کرتی ہے؟ یکسوئی گھڑی کی سوئی کی پابند تو نہیں ہے کہ جہاں سوئی چکر کاٹ کر ایک خاص نشان پر پہنچی اور یکسوئی حاصل ہو گئی۔ ممکن ہے کہ صبح کا وقت کسی شخص کے لیے عموماً یکسوئی کا ہوتا ہو، مگر لازم نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہو۔ لہٰذا آپ کے فتوے کے مطابق جس روز صبح کو اُسے یکسوئی نصیب نہ ہو، اس روز وہ صبح کی نماز چھوڑ دے۔ اِسی طرح عصر اور عشا کے اوقات کی تعیین بھی اگر یکسوئی کے ساتھ مشروط ہو تو شاید کوئی شخص بھی ہمیشہ پابندی کے ساتھ ان اوقات میں نماز نہ پڑھ سکے گا۔ لہٰذا فتویٰ اس صورت میں مرتب کرنا پڑے گا کہ ان اوقات میں سے اگر کسی وقت یکسوئی حاصل ہو تو نماز ادا کر لو، ورنہ دوسرے وقت کے لیے اُٹھا رکھو۔ یہ لازمی نتیجہ ہے نماز کے لیے یکسوئی کو ضروری شرط قرار دینے کا اور اس شرط کو پورا کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دوسری شرط، یعنی پابندیِ وقت کی شرط ساقط ہو جائے۔

سوال یہ ہے کہ مجتہد صاحب نے یہ شرط قرآن کی کس آیت سے نکالی ہے؟ قرآن میں کہاں ارشاد ہوا ہے کہ نماز کے لیے یک سوئی اور حضورِ قلب ضروری ہے؟

<<قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ o الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ o>> (المؤمنون 23: 1، 2) سے استدلال صحیح نہیں، اس لیے کہ خشوع کے معنی یکسوئی کے نہیں، ضراعت کے ہیں۔ یعنی خدا کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل اور حقیر اور ضعیف و عاجز سمجھنا اور اعضا و جوارح سے اس کا اظہار کرنا۔ یہ بات یکسوئی کے بغیر بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر انسان دل میں یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ خدا کے سامنے عاجز اور ذلیل ہے، اور اسی اعتقاد کے ساتھ وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو، رکوع میں جھکے اور زمین پر پیشانی رکھ کر سجدہ کرے، تو بہر حال وہ خاشعین میں داخل ہو گیا، خواہ اُسے مشاغلِ دُنیوی سے یکسوئی حاصل ہو یا نہ ہو۔

لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰی (النساء 43:4) سے بھی استدلال غلط ہے، اس لیے کہ اس حکم سے متصل ہی اس کی غایت بھی بتادی گئی ہے، یعنی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ ’’حق گو‘‘ صاحب کا استدلال یہ ہے کہ جب شراب حرام نہ ہوئی تھی، اس وقت نشے کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی تھی اور اس ممانعت کی اصل وجہ یہ تھی کہ نشے کی حالت میں یکسوئی نہیں ہوتی، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ نشے کی تو سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس میں یکسوئی (concentration) خوب ہوتی ہے۔ قرآن کا بھیجنے والا ایسی خلافِ واقعہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ اس نے ممانعت کے ساتھ خود ہی اس کی یہ وجہ بھی بیان کردی کہ نشے کی حالت میں تم کو اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ زبان سے کچھ کا کچھ نکل جاتا ہے اور تم کو خبر تک نہیں ہوتی کہ تمھاری زبان سے کیا نکل رہا ہے۔ لہٰذا جب تم اس حال میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ نماز اس وقت پڑھو جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔

اس میں شک نہیں کہ یکسوئی کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے۔ جس قدر زیادہ حضورِ قلب، انابت اور توجہ الی اللہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے گی، اُسی قدر زیادہ کامل اور بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوگی، مگر کسی چیز کا وجہِ کمال ہونا اور چیز ہے اور شرط لازم ہونا اور چیز۔ نماز کے لیے جو ارکان مقرر کیے گئے ہیں، اگر ان کو ایمان کے ساتھ اوقاتِ مقررہ میں ادا کر دیا جائے ، تو بہر حال نماز ہو جائے گی، خواہ کامل ہو یا نہ ہو، اس لیے ہم کو صرف اطاعتِ امر کی تکلیف دی گئی ہے نہ کہ درجۂ کمال کو پہنچنے کی۔ اگر ہم ادائے فرض پر اکتفا نہ کریں، اور خود اپنی دلی رغبت سے کمال کو پہنچنے کی کوشش کریں تو یہ احسان کا درجہ ہے جس کے لیے مزید ثواب اور انعام ہے، لیکن احسان کو ہم پر فرض نہیں کیا گیا، کیونکہ اس کی فرضیت اسلام کو صرف کاملین کے لیے مخصوص کر دیتی اور عام افراد انسانی، جن میں کمال کو پہنچنے کی صلاحیت نہیں ہے، اس سے محروم رہ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں نماز کی فرضیت پر تو بہت زور دیا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ حضور قلب اور مشاغل دنیاوی سے یک سوئی کی شرط نہیں لگائی گئی۔

”حق گو“ صاحب نے اسلام کی نماز کو بھی راہبوں کی عبادت اور جوگیوں کی ضرورت سمجھ لیا ہے، اسی لیے وہ یک سوئی کو نماز کے لیے ضروری شرط قرار دے رہے ہیں جو قریب قریب دھیان اور مراقبہ کی ہم معنی ہے۔ حالانکہ نماز دراصل تارک الدنیا لوگوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کو دنیا کے دھندوں میں پھنسنے اور فطرت کے تمام داعیات پورے کرنے اور دنیوی زندگی کی ساری ذمہ داریاں اپنے سر لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر جناب ”حق گو“ ذرا غور و فکر سے کام لیتے اور اسلام کی اسپرٹ اور اس کے نظام کی عقلی بنیادوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ مذہب دین کو دنیا سے الگ نہیں کرتا بلکہ دنیا داری کی اس طرح اصلاح کرنا چاہتا ہے کہ وہی عین دین داری بن جائے۔ اس نے نجات کا راستہ دنیا سے باہر نہیں نکالا ہے۔ وہ دنیوی کاروبار کے عین منجدھار میں سے ایک سیدھا راستہ نکالتا ہے اور کہتا ہے کہ یہی راستہ تم کو جنت النعیم کی طرف لے جائے گا۔ اس کا اصل الاصول یہ ہے کہ تم دنیا کے تمام کاروبار ایک پورے اور پکے دنیا دار کی طرح انجام دو، مگر یہ حقیقت پیش نظر رکھو کہ تمھارا اصلی حاکم خدا ہے، اُسی کے حکم کی اطاعت تم پر واجب ہے، ظاہر اور باطن میں جو کچھ تم کرتے ہو سب کو وہ جانتا ہے اور ایک دن تم سے تمھاری زندگی کے تمام اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ اگر تم نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی، اپنے معاملات میں اس کے حدود کو ملحوظ رکھا، اور اس کے مقرر کیے ہوئے قوانین پر عمل کیا تو اس کی خوشنودی سے سرفراز کیے جاؤ گے، ورنہ اس کے غضب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔ یہی سبق ہے جس کو بار بار یاد دلانے کے لیے نماز فرض کی گئی ہے، اور اس کے لیے ایسے اوقات مقرر کیے گئے ہیں جن میں اس تذکیر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

قرآن کا پہلا ورق کھولتے ہی آپ کو یہ آیت ملتی ہے:

<<ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۚۛ فِيْهِ ۚۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۙ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ج وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ >> البقرہ 4:2

یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو ہم نے تیری طرف نازل کی ہے اور ان کتابوں پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی تھیں اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اس آیت پر غور کیجیے! قرآن کی ہدایت و رہنمائی سے مراد بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ انسان کو دنیا میں فکر و عمل کی صحیح راہ بتاتا ہے، علم کی روشنی دیتا ہے، زاویۂ نظر کو سیدھا کر دیتا ہے، اور عمل کا وہ راستہ دکھاتا ہے جو انسان کو اس دُنیوی زندگی کے پیچ در پیچ راستوں میں سے سلامتی کے ساتھ گزار کر فلاح اُخروی کی طرف لے جانے والا ہے، مگر یہ راستہ صرف اُسی شخص کے لیے کھل سکتا ہے اور اسی کے لیے آسان ہو سکتا ہے جو غیب پر ایمان لائے، خدا کو مانے، یومِ آخر کے پیش آنے پر یقین رکھے، نماز پڑھے اور محض خدا کی خوشنودی کے لیے اپنا وہ مال خرچ کرے جس کو وہ عزیز رکھتا ہے۔ جو شخص ان شرائط کو پورا کرے گا، وہی قرآن کے بتائے ہوئے طریقِ زندگی پر چل سکے گا اور وہی کامیاب ہوگا۔ << اُولٰئِكَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ قف وَ اُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ >> (البقرہ 5:2)

اس سے نماز کی اہمیت سمجھ میں آ سکتی ہے۔

نماز ایمان بالغیب کو راسخ کر دیتی ہے۔ وہ ایک اُن دیکھے خدا پر ایمان ہی ہے جو ایک شخص کو اپنا آرام، اپنا کام کاج، اپنے فوائد و منافع، سب کچھ چھوڑ کر دن میں کئی دفعہ نماز پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو بار بار کھینچ کر مسجد یا مصلیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔ ایمان کی تحریک سے نفس کے اس طرح بار بار متاثر ہونے اور اسی کی متابعت میں جوارح کے حرکت کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ نفس پر ایمان کا اقتدار مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے، اور اس میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ مقتضیاتِ ایمان کے مطابق سیرت کی تشکیل کر سکے۔ در حقیقت نماز ہی ایک ایسا فعل ہے جس میں انسان قولاً وعملاً اسلام کے پورے عقیدے کا اعادہ کرتا ہے۔ تکبیر سے لے کر سلام تک جو کچھ ہے وہ اُسی عقیدے کی تکرار ہے۔ خدا پر ایمان، اس کے رسول پر ایمان، اس کی کتابوں پر ایمان، اس کے یوم الحساب پر ایمان، اس کو حاکم حقیقی سمجھنا، اس کی خوشنودی کا طلب گار ہونا، اس کے حساب سے ڈرنا، اس کو علیم و خبیر جاننا، یہ سب کچھ نماز میں آ جاتا ہے۔ شعورِ جلی میں نہ سہی، شعورِ خفی میں تو ضرور یہ سب اُمور ہر اُس شخص کے دل میں موجود ہوتے ہیں جو نماز کی پابندی کرتا ہے، کیونکہ اگر ذہن ان سے خالی ہو تو انسان نماز کی پابندی کر ہی نہیں سکتا۔

جب اس بار بار کی تکرار اور پیہم اعادے کی وجہ سے یہ عمل انسان کے ذہن میں اسلام کے عقیدے کو مستحکم کر دیتا ہے، اور اُسی کی متابعت میں جسم کو امتثالِ امر کا خوگر بنا دیتا ہے، تو اس سے لازمی طور پر انسان کو عملاً اطاعتِ احکام الہی کی مشق ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس میں فرض شناسی کا مادّہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں یہ قابلیت نشوونما پاتی ہے کہ اپنی زندگی کے معاملات میں اسلام کے ڈسپلن کی پابندی کر سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص روزانہ صبح کی نیند کا لطف چھوڑ کر نماز کے لیے اُٹھے گا، محض اس لیے کہ خدا نے اس کو نماز کا حکم دیا ہے۔ جو شخص ہر روز ظہر اور عصر کے اوقات میں اپنی کاروباری مصروفیتوں سے ہاتھ اُٹھا کر مسجد کی طرف دوڑے گا، محض اس لیے کہ اس کا اَن دیکھا خدا اُسے بلا رہا ہے، جو شخص ہمیشہ مغرب کے وقت اپنی شام کی تفریحوں اور دلچسپیوں کو چھوڑ چھاڑ کر نماز کے لیے کھڑا ہو گا محض اس لیے کہ خدا نے یہ فرض اس پر عائد کیا ہے، جو شخص ہر رات کو معصیت کے مواقع کی طرف جانے کے بجائے اپنے خدا کی طرف جائے گا، محض اس لیے کہ خدا کے حکم کی اطاعت کو وہ اپنا فرض جانتا ہے، اس سے یہ اُمید بھی کی جاسکتی ہے، اور اسی سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر جب وہ عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھے گا تو اُسی اَن دیکھے علیم و خبیر معبود کا خوف اس کو خفیہ اور علانیہ گناہوں سے روکے گا، اس کے ہاتھ کو ظلم وتعدّی کی طرف بڑھنے سے باز رکھے گا، اسے خدا کے احکام کی اطاعت اور اس کے قوانین کی پابندی اور اس کے قائم کردہ حدود کا لحاظ کرنے پر اُبھارے گا، اور اس میں اتنی قوت پیدا کر دے گا کہ نہ آسائش کا خیال اسے ادائے فرض سے روک سکے، نہ دُنیوی فوائد کی طمع اس کو حد سے تجاوز کرنے پر آمادہ کر سکے، اور نہ دنیا کی دلچسپیاں اس کو خدا سے غافل کر سکیں۔ بالفرض اگر نماز سے اُس کی اخلاقی تربیت اتنی مکمل نہ بھی ہو سکے تو کم از کم اُس کی فرض شناسی اور اطاعت کیشی اور خدا ترسی اُس شخص سے تو زیادہ ہی ہوگی جو خدا کی پکار سنتا ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ یا جس کو کبھی یہ عادت ہی نہیں پڑی کہ جب خدا اور خلق کے تقاضے اُسے مخالف سمتوں میں کھینچیں تو وہ خلق سے کٹ کر خدا کی طرف جائے۔

نماز اگر حضورِ قلب اور کامل توجّہ کے ساتھ ہو تو اس کے رُوحانی فوائد کا پوچھنا ہی کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مصلحتِ عُظمیٰ کے لیے اس چیز کو فرض کیا ہے، وہ تو یکسوئی کے بغیر بھی اوقاتِ مقررہ پر نماز کے ارکان ادا کرلینے سے حاصل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں یک سوئی اور حضورِ قلب پر زور دینے کے بجائے اوقات کی پابندی پر زیادہ زور دیا گیا ہے، اور رات کے وقت سکون واطمینان کی حالت میں جو نماز ادا کی جاتی ہے اس کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی اُس کو دی گئی ہے جو دُنیوی کاروبار کے انہماک سے اُٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔ ارشاد ہے کہ <<حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی>> (البقرہ 238:2) صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد عموماً عصر کا وقت لیا گیا ہے اور احادیث بھی زیادہ تر اسی کی تائید میں ہیں۔ تمام نمازوں سے الگ اس نماز کی پابندی پر خاص طور سے زور دینے کی وجہ یہی ہے کہ اس نماز کا وقت ایسا ہے جس میں عام طور پر لوگ زیادہ مشغول ہوتے ہیں۔ یہ تخصیص صاف بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمھاری توجہ اتنی پسندیدہ نہیں ہے، جتنی یہ ادا پسندیدہ ہے کہ جب اس کی پکار تمھارے کان میں پہنچے تو تم اپنے مشاغل، اپنی دلچسپیاں، اپنے فوائد و منافع ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی طرف لپکو اور اس کے حکم کی بجا آوری کو ہر اُس چیز پر ترجیح دو جو تمھیں عزیز ہو۔ اسی لیے نمازِ جمعہ کا حکم اِن الفاظ میں دیا گیا ہے کہ <<اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ O فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ>> (الجمعہ 10:62-9) ”جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارے جاؤ تو یادِ خدا کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو، پھر جب نماز ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اپنے کاروبار میں خدا کا فضل تلاش کرو“۔

آپ کہتے ہیں کہ دُنیوی مشاغل کے اوقات میں نماز بے دلی سے ہوتی ہے۔ دل اپنے کاروبار یا کھیل کود میں پڑا رہتا ہے۔ خدا کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ بغیر سمجھے بوجھے محض رٹے ہوئے الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہیں اور بلا ارادہ چند جسمانی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی نماز بڑی قیمت رکھتی ہے۔ جو شخص اپنے کاروبار یا اپنی تفریح سے اتنی دلچسپی رکھتا ہے کہ اُس سے ہٹنے کے بعد بھی اُس کا دل وہیں پڑا رہتا ہے وہ تو اپنے خدا کے لیے بڑی قربانی کرتا ہے کہ اپنی ایسی دلچسپی میں بھی اس کا حکم یاد کرتا ہے اور اس کے فرمان کی بجا آوری کے لیے مسجد کی طرف دوڑ جاتا ہے۔ کیسا اچھا بندہ ہے وہ کہ اپنی توجہ اپنی پسند خاطر چیز سے ہٹا کر خدا کی طرف پھیر دیتا ہے اور بادلِ ناخواستہ ہی سہی مگر دل پر جبر کر کے خدا کا ذکر کرتا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک اس ایثار، اس اطاعتِ امر، اور اس فرض شناسی کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟ کیا یہ شخص اپنے خدا کی آزمائش میں پورا نہیں اترا؟ کیا اس نے ضبطِ نفس اور خدا ترسی کا ثبوت نہیں دیا؟ کیا اس نے اپنے عمل سے ثابت نہیں کر دیا کہ اس میں فرض کی خاطر اپنے مرغوبات کو قربان کر دینے کی قوت موجود ہے؟ اگر وہ ان ایمانی اور اخلاقی صفات کا مالک نہ تھا تو کیا چیز تھی جو اس کو فائدہ بخش یا دل پسند کام سے ہٹا کر نماز کی طرف کھینچ لائی؟ یہاں بجز اطاعتِ امر اور خوفِ خدا کے اور کیا صفت یا دلچسپی ہے؟

افسوس ہے کہ اسلام کے ایسے ایسے اہم مسائل اور احکام پر آج وہ لوگ اپنے اجتہاد کی قینچیاں چلا رہے ہیں جن میں نہ اتنی علمی و عقلی استعداد ہے کہ اسرارِ دین تو درکنار، اس کے مبادی ہی کو سمجھ سکیں، نہ اتنا خوفِ خدا ہے کہ مہماتِ دینی میں اپنے سطحی اور جاہلانہ اجتہادات کی اشاعت سے ہزاروں مسلمانوں کے اعتقاد و عمل کو خراب کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے ڈریں، نہ اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ علم و فہم کا جھوٹا پندار چھوڑ کر جو کچھ نہ جانتے ہوں اس کے جاننے والوں سے پوچھیں اور جو کچھ نہ سمجھتے ہوں، اس کو سمجھنے والوں سے سمجھیں۔ مسلمانوں کی کیسی شامت ہے کہ آج اس حیثیت کے لوگ دین و دنیا میں ان کی رہنمائی کرنے کے لیے اُٹھنے کی جرأت کر رہے ہیں۔

ترجمان القرآن

(ربیع الثانی و جمادی الاولیٰ ۱۳۵۴ھ جولائی و اگست ۱۹۳۵ء)