تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
صحیح مسلک
ان تمام اختلافات میں جو مسلک سب سے زیادہ صحیح ہے، وہ یہ ہے کہ اہل کتاب سے مراد صرف یہود و نصاریٰ ہیں، عام اس سے کہ وہ اسرائیلی ہوں یا غیر اسرائیلی۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کا لفظ انھی دونوں گروہوں کے لیے آیا ہے۔ اور ایک جگہ تو تصریح کر دی گئی ہے کہ یہی دو گروہ اہل کتاب ہیں۔ <<وَ ھٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوْہُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ o اَنْ تَقُوْلُوْا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا>> (الانعام 6 : 156) ان دو گروہوں کے علاوہ جن دوسری قوموں کے پاس کتابیں بھیجی گئی تھیں، انھوں نے چونکہ اپنی کتابوں کو بالکل ضائع کر دیا اور ان کے اعتقاد و عمل میں کوئی چیز بھی تعلیماتِ انبیا پر باقی نہیں رہی، اس لیے اُن پر لفظ اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبیؐ نے مجوسیوں کو اہل کتاب قرار نہیں دیا، حالانکہ وہ زردشت کو مانتے ہیں جس پر نبی ہونے کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔ ہجر کے مجوسیوں سے جب معاملہ پیش آیا تو حضورؐ نے فرمایا کہ <<سنوابھم سنۃ اھل الکتب>> ”ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرو“۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں۔ پھر جو نامۂ مبارک آپؐ نے مجوسِ ہجر کو لکھا تھا، اس میں صراحت کے ساتھ یہ تحریر فرما دیا تھا کہ:
<<فأن اسلمتم فلكم مالنا وعليكم ما علينا ومن ابى فعليه الجزية غير اكل ذبائحهم ولا نكاح نساءهم۔>>
اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمھارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اور تم پر وہی واجبات ہوں گے جو ہم پر ہیں۔ اور جو لوگ تم میں سے انکار کریں گے، اُن پر جزیہ عائد کر دیا جائے گا، مگر نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے گا اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔
اس تصریح کے بعد یہ شبہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ غیر یہود و نصاریٰ کو بھی اکلِ ذبائح اور نکاح محصنات کی اغراض کے لیے اہل کتاب میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
رہی اسرائیلیّت کی قید جو امام شافعیؒ نے لگائی ہے تو وہ بھی درست نہیں۔ بلاشبہ دعوتِ موسوی و عیسوی کے مخاطب صرف بنی اسرائیل تھے، مگر جن غیر اسرائیلی قوموں نے نصرانیت کو قبول کیا، انھیں بھی تو اللہ اور رسول نے اہل کتاب ہی میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ نبیؐ نے جو نامۂ مبارک قیصرِ روم کے نام لکھا تھا، اس میں یہ آیت نقل فرمائی تھی کہ <<یٰاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ>> (آل عمران 64:3) دیکھیے، یہاں رومیوں کو اے اہل کتاب کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے، اور ظاہر ہے کہ رومی اسرائیلی نہ تھے۔
پھر جن لوگوں نے محصنات کا ترجمہ عفیفہ یا حرّہ کیا ہے اور عفت یا حریت کو نکاحِ کتابیہ کے لیے شرط قرار دیا ہے، اُن کا مسلک بھی درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس میں شک نہیں کہ احصان کے مفہوم میں عفت و شرافت دونوں داخل ہیں اور مُحصنہ سے مراد ایسی ہی عورت ہے جو پاک دامن بھی ہو اور شریف و معزز بھی، لیکن شارع کا مقصود ان دونوں چیزوں کو نکاح کے لیے شرط قرار دینا نہیں ہے بلکہ محض افضلیت اور اوّلیت کا اظہار مقصود ہے۔ شارع دراصل یہ بتانا چاہتا ہے کہ تم نکاح کرنے کو تو ہر مؤمن اور کتابی عورت سے کر سکتے ہو، مگر اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ وہ عورت مُحصنہ، یعنی شریف اور پاک دامن ہو۔ قرآنی احکام میں اس قسم کی قیود بکثرت لگائی گئی ہیں جو ثبوتِ حکم کے لیے شرط کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ کسی فعلِ جائز کے افضل پہلو یا فعلِ ناجائز کے ارذل پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے بطور ایک قیدِ زائد کے رکھ دی گئی ہیں تاکہ اہلِ ایمان افضل کے اختیار اور ارذل سے اجتناب کا اہتمام کریں۔ بعینہٖ یہی مسلک ہے جو اس باب میں سیدنا عمرؓ نے اختیار فرمایا ہے۔ حضرت حذیفہؓ بن الیمان نے ایک یہودیہ سے نکاح کیا۔ حضرت عمرؓ کو اطلاع پہنچی تو آپ نے لکھا کہ اسے چھوڑ دو۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ حکم کس بنا پر ہے؟ کیا کتابیہ سے نکاح کرنا حرام ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ حرام نہیں ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں تم لوگ اہلِ کتاب کی آبرو باختہ عورتوں میں نہ پھنس جاؤ۔
پس تمام مسالک میں جو مسلک ہمارے نزدیک اصح ہے، وہ یہ ہے کہ اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کے شرعی جواز کو عام قرار دیا جائے خواہ وہ حربیہ ہوں یا ذمّیہ، عفیفہ ہوں یا نہ ہوں لونڈیاں ہوں یا آزاد۔