تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دیہات میں نمازِ جمعہ
پنجاب کے ایک دین دار بزرگ اپنے ایک عنایت نامے میں تحریر فرماتے ہیں:
”علمائے احناف جمعہ کے لیے شہر کی شرط ابھی تک لگائے جاتے ہیں۔ حالانکہ شہروں کی حالت اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہاں دیہاتی مسلمانوں کو (جو تمدّنِ جدید کے مکروہات سے ابھی بہت کچھ محفوظ ہیں) جانے سے جس قدر روکا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ میں ایک موضع کا مالک ہوں جس میں مسجد تعمیر کی ہے، اور ایک مکتب دینیات جاری کیا ہے۔ اردگرد کے دیہات میں تھوڑی تھوڑی اسلامی آبادی ہے۔ وہ جمعہ کے جمعہ یہاں نماز کو آجاتے ہیں اور قرآن شریف کا درس، جمعہ کا خطبہ اور کچھ وعظ سن جاتے ہیں۔ مدرس مکتب نماز یاد کراتا ہے اور جن کو صحیح یاد نہیں اُن کی نماز صحیح کراتا ہے۔ رمضان شریف میں مجمع بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر علما اس جگہ کے جمعہ کو جائز نہیں بتاتے۔ میں جمعہ کی نماز بند کردوں تو یہ لوگ ہرگز شہر کو نہ جائیں گے۔ اگر ان کو کہا جائے کہ یہاں جمعہ نہیں ہو سکتا، جمعہ کے روز یہاں آکر ظہر کی نماز پڑھ جایا کرو تو اسے کوئی نہیں مانتا۔ جمعہ کی عظمت اور ثواب ہی کا اثر ہے، جس کے باعث یہ لوگ آٹھویں روز نماز پڑھنے آ جاتے ہیں۔ مجھے فکر ہے کہ اگر یہاں جمعہ کی نماز نہ ہوئی تو دیہات کے لوگ اس تعلیم اور وعظ سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ یہاں سے قریب چند میل کے فاصلے پر ایک شہر ہے جہاں کئی مسجدوں میں جمعہ ہوتا ہے، مگر وہاں کوئی عالم صحیح خیالات کا نہیں جس سے کسی مفید تحریک کی اُمید ہو۔ اور شہر کے بازاروں میں سب کچھ وہی ہے جو آج سب جگہ ہے۔ اور کچھ نہیں تو جو دیہاتی وہاں جائے گا وہ کچھ نہ کچھ فضول خرچی تو کر ہی آئے گا۔ میری خواہش ہے کہ جناب اس کے متعلق ضرور کچھ نہ کچھ تحریر فرمائیں۔
دیہات میں نمازِ جمعہ قائم کرنے کا مسئلہ ایک سخت اختلافی مسئلہ ہے اور اس پر قدیم زمانے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ ایسے مسائل میں کوئی ایسی بحث تو نہیں کی جا سکتی جو اختلافات کو بالکل رفع کر دے۔ البتہ میں کوشش کروں گا کہ اس مسئلے میں میرے نزدیک جو مسلک درست ہے، اُسے واضح طور پر بیان کر دوں۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ جمعہ کی شرعی حیثیت، اور اقامتِ جمعہ سے شارع کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ میں اقامتِ جمعہ کے متعلق کیا ہدایات دی گئی ہیں اور ان ہدایات میں کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔ نیز اس امر کی تحقیق بھی کی جائے کہ ان ہدایات کی بنا پر اقامتِ جمعہ فی القریٰ کے جواز اور عدمِ جواز میں ائمہ مجتہدین کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ایک گروہ نے شارع کے پیشِ نظر مقاصد و مصالح کو کس حد تک ملحوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکے گی کہ اب انھی مقاصد و مصالح کا لحاظ کرتے ہوئے جواز و عدمِ جواز میں سے کون سا پہلو اختیار کرنا زیادہ صحیح اور مناسب ہوگا