تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قطع ید اور دوسرے شرعی حدود
(یہ مضمون عنوانِ بالا پر کوئی مستقل مضمون نہیں ہے بلکہ دراصل یہ ایک نوٹ ہے جو ترجمان القرآن میں ایک دوسرے صاحب کے مضمون پر لکھا گیا تھا)
(۱) تعزیرات کے باب میں سب سے پہلے اس قاعدۂ کلیہ کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا اور دوسری شرعی حدیں صرف اسی جگہ نافذ کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں، جہاں مملکت کا نظم و نسق اسلامی اصولوں پر ہو اور تمدّن و معاشرت کی ترتیب و تنظیم اُس طرز پر کی گئی ہو، جو اسلام نے تجویز کیا ہے۔ اسلام کے اصول اور قوانین ناقابلِ تجزیہ ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ بعض اصول اور قوانین تو نافذ کیے جائیں اور بعض کو چھوڑ دیا جائے۔
مثلاً زنا اور قذف[ قذف سے مراد کسی عورت یا مرد پر زنا کی تہمت لگانا ہے اور قاذف وہ شخص ہے جو ایسی تہمت لگاتا ہے۔] کی حدود کو لیجیے۔ نکاح و طلاق اور حجاب شرعی کے اسلامی قوانین اور اخلاقِ صنفی کے متعلق اسلام کی تعلیمات سے ان حدود کا نہایت گہرا ربط ہے، جسے منفک نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے زانی اور قاذف کے لیے ایسی سخت سزائیں مقرر ہی اُس سوسائٹی کے لیے فرمائی ہیں جس میں عورتیں بن سنور کر بے محابہ نہ پھرتی ہوں، جس میں برہنہ اور نیم برہنہ تصویریں اور عشق و محبت کے افسانے اور شہوانی جذبات کو دائماً متحرک کرنے والے تماشے رائج نہ ہوں، جس میں نکاح کے لیے پوری آسانیاں ہوں، اور فسخ و تفریق اور طلاق و خلع کے اسلامی احکام ٹھیک ٹھیک نافذ کیے جاتے ہوں۔ ایسی سوسائٹی اپنی عین فطرت کے اعتبار سے اس امر کی مقتضی ہوتی ہے کہ اس میں معاشرت کا جو معتدل نظام قائم کیا گیا ہے، اس کی حفاظت کے لیے سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ اور اتنی سخت سزائیں اُس حالت میں ہرگز نامنصفانہ نہیں ہیں جب کہ جائز ذرائع سے صنفی خواہشات کی تسکین آسان کر دی گئی ہو اور معاشرت کے ماحول کو بدکاری کی سہولتوں اور غیر معمولی اسبابِ تحریک سے پاک کر دیا گیا ہو۔ ان حالات میں صنفی جرائم کا ارتکاب صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو غایت درجہ کے بدطینت ہوں اور جن کے شر سے خلقِ اللہ کو محفوظ رکھنے کے لیے عبرت ناک سزاؤں کے بغیر چارہ نہ ہو۔
لیکن جہاں حالات اس سے مختلف ہوں، جہاں عورتوں اور مردوں کی سوسائٹی مخلوط رکھی گئی ہو، جہاں مدرسوں میں، دفتروں میں، کلبوں اور تفریح گاہوں میں، خلوت اور جلوت میں ہر جگہ جوان مردوں اور بنی ٹھنی عورتوں کو آزادانہ ملنے جلنے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملتا ہو، جہاں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہوں، جہاں معیارِ اخلاق بھی اتنا پست ہو کہ ناجائز تعلقات کو کچھ معیوب نہ سمجھا جاتا ہو، ایسی جگہ زنا اور قذف کی شرعی حد جاری کرنا بلاشبہ ظلم ہوگا، اس لیے کہ وہاں ایک معمولی قسم (normal type) کے معتدل مزاج اور سلیم الفطرت آدمی کا بھی زنا سے بچنا مشکل ہے، اور ایسے حالات میں کسی شخص کا مبتلائے گناہ ہونا یہ نتیجہ نکالنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ غیر معمولی قسم (abnormal type) کا اخلاقی مجرم ہے۔ رجم اور کوڑوں کی سزا درحقیقت ایسے گندے حالات کے لیے اللہ نے مقرر ہی نہیں کی ہے۔
اسی پر حدِّ سرقہ کو بھی قیاس کر لیجیے کہ وہ صرف اُس سوسائٹی کے لیے مقرر کی گئی ہے جس میں اسلام کے معاشی تصورات اور اصول اور قوانین پوری طرح نافذ ہوں۔ قطع ید اور اسلامی نظمِ معیشت میں ایسا رابطہ ہے جس کو منقطع نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں یہ نظمِ معیشت قائم ہو، وہاں قطع ید ہی عینِ انصاف اور عینِ مقتضائے فطرت ہے۔ اور جہاں یہ نظمِ معیشت نہ ہو، وہاں چور کا ہاتھ کاٹنا دوہرا ظلم ہے۔ حقیقت میں ہاتھ کاٹنے کی سزا اُس ظالم سوسائٹی کے لیے مقرر ہی نہیں کی گئی ہے جس میں سُود جائز ہو، زکوٰۃ متروک ہو، انصاف قیمتاً فروخت کیا جاتا ہو، ٹیکسوں کی بھرمار سے ضروریاتِ زندگی نہایت گراں ہو گئی ہوں اور تمام ٹیکس چند مخصوص طبقوں کے لیے سامانِ عیش فراہم کرنے پر صرف ہوتے ہوں۔ ایسی جگہ تو چوری کے لیے ہاتھ کاٹنا ہی نہیں بلکہ قید کی سزا بھی بعض حالات میں ظلم ہوگی۔
عام طور پر اسلامی قانونِ فوج داری کو سمجھنے میں لوگوں کو جو دقت پیش آتی ہے، اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے پیشِ نظر تو رکھتے ہیں سوسائٹی کے اس غلط نظام کو جو اس وقت دُنیا کے متمدن ممالک میں قائم ہے، اور پھر چوری، زنا، قذف اور شراب نوشی جیسے ’’علۃ الورود‘‘ جرائم کا موازنہ قطع ید، رجم اور کوڑوں کی سزاؤں سے کر کے رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس موازنے میں ان کو اسلام کی سزائیں سخت اور ہولناک ہی نظر آئیں گی۔ کیونکہ نیم شعوری طور پر وہ خود سمجھتے ہیں کہ جو حالات اس نظامِ حیات نے پیدا کر رکھے ہیں، اُن میں چوری ایک عام چیز ہونی ہی چاہیے، زنا میں بکثرت مردوں اور عورتوں بلکہ بچوں اور بوڑھوں تک کو مبتلا ہونا ہی چاہیے۔ آئے دن مُشتبہ طریقوں سے ملنے والے جوڑوں کے متعلق بُری خبریں مشہور ہونی ہی چاہییں، بُری صحبتوں میں نوخیز نسلوں کو بُری عادتیں پڑنی ہی چاہییں۔ لہٰذا اُن کا دل یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ اگر ان حالات میں اسلامی قانونِ فوجداری رائج کر دیا جائے تو شاید کوئی پیٹھ بھی کوڑوں سے نہ بچ سکے، ہزارہا آدمیوں کے ہاتھ روزانہ کٹنے لگیں، اور ہر روز سینکڑوں آدمی سنگسار کیے جائیں۔
بلاشبہ ان کا یہ خوف بالکل بجا ہے۔ اس بیہودہ سوسائٹی کے بیہودہ نظام کو باقی رکھ کر اسلام کے قوانین میں سے محض اُس کے قانونِ فوجداری کا نافذ کر دینا ہمارے نزدیک بھی ویسا ہی ظلم ہوگا جیسا وہ خیال کرتے ہیں، مگر جس غلطی کو وہ محسوس نہیں کرتے، وہ دراصل یہ ہے کہ اُنھوں نے سوسائٹی کے اس بیہودہ نظام کو، جس کی بے ہودگیوں سے وہ مانوس ہو چکے ہیں، ایک فطری حالت سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ یہ فطری حالت نہیں ہے بلکہ شیطنت کے غلبے نے اس غیر فطری حالت کو عالمِ انسانی پر مسلط کر دیا ہے، اور اس حالت کا باقی رہنا بجائے خود ایک ظلمِ عظیم ہے۔ آپ اسلام کے نظامِ اجتماعی کو من حیث الکل قبول کر کے اس ظلم کا انسداد کیجیے، پھر آپ پر خود روشن ہو جائے گا کہ زنا اور قذف اور چوری اور شراب نوشی انسان کے عام اور فطری مشاغل نہیں ہیں اور انسانوں کی کثیر تعداد کا ان میں مبتلا ہونا متوقع ہی نہیں ہے۔ جو اجتماعی حالات اسلام پیدا کرتا ہے، ان میں صرف غیر معمولی قسم کے چند افراد ہی ان افعالِ قبیحہ کا ارتکاب کر سکتے ہیں اور ان کے لیے صحیح تدارک رجم اور کوڑے اور قطع ید ہی ہو سکتے ہیں۔
(۲) دوسری بات جو اس سلسلے میں پیش نظر رکھنی ضروری ہے، وہ اسلام کی شانِ حکمت واعتدال ہے۔ حدود اور تعزیرات کے باب میں اسلام کے احکام کو وہ شخص سمجھ ہی نہیں سکتا جو اس مذہب کی ان خصوصیات سے واقف نہ ہو۔
یہاں ایک طرف ارتکاب جرائم کے اسباب ومحرکات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مٹایا جاتا ہے تاکہ کوئی بندۂ خدا ایسے حالات میں مبتلا ہی نہ ہونے پائے کہ اُسے اپنی طبعی خواہشات وضروریات کے لیے مجرمانہ طریقے استعمال کرنے پڑیں۔ اور دوسری طرف جرائم کے لیے ایسی سزائیں مقرر کی جاتی ہیں جو نہ صرف اعادۂ جرم سے اس خاص شخص کو روک دینے والی ہوں، بلکہ دوسرے تمام لوگوں کو بھی، جن میں مجرمانہ میلانات پائے جاتے ہوں، ہیبت زدہ کریں۔
ایک طرف اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ جہاں تک ممکن ہو، سزا سے بچائے جائیں۔ چنانچہ ثبوت جرم کے لیے شہادت کا معیار بہت سخت رکھا جاتا ہے۔ اجرائے حد سے پہلے کچھ مدت تحقیقات کے لیے معین کی جاتی ہے کہ شاید اس دوران میں گواہوں کی غلطی کھل جائے، قاضیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگوں کو حتی الامکان سزا سے بچاؤ۔ نبیؐ کا ارشاد ہے کہ <<ادرؤ الحدود ما استطعتم>> اپنے امکان بھر حد کو دفع کرو۔ <<فان الامام ان یخطی فی العفو خیر ان یخطئی فی العقوبۃ>>۔ امام کا معاف کرنے میں غلطی کرجانا، اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔
دوسری طرف جب جرم ثابت ہوجائے تو پھر مجرم پر ترس کھانا، یا اس کے حق میں کسی قسم کی سعی سفارش قبول کرنا، یا اس کے مرتبے اور خاندان وغیرہ کا لحاظ کرنا قطعاً ممنوع ہے۔ قرآن کہتا ہے: <<وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ>> (النور 2:24) اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں رحم اور شفقت کے جذبات تمھارے دامن گیر نہ ہونے چاہئیں۔ حدیث میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ بنی مخزوم کے معزز گھرانے کی ایک عورت فاطمہ لوگوں کے زیور اور سامان عاریتاً منگواتی اور پھر مُکر جایا کرتی تھی۔ رسول اللہؐ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا اور جرم ثابت ہو گیا۔ قریش میں کھلبلی مچ گئی کہ کہیں اس کا ہاتھ نہ کاٹ ڈالا جائے، مگر حضورؐ کے سامنے سفارش کی جرأت کسے تھی۔ آخر کار یہ مشورہ ہوا کہ اُسامہؓ سے جو حضورؐ کے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ کے بیٹے تھے، سفارش کرائی جائے، کیونکہ حضورؐ کو ان سے محبت تھی۔ اُسامہؓ نے حاضر ہو کر سفارش کی۔ سنتے ہی آپؐ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: ’’کیا تم حدود اللہ کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ اسامہؓ سہم گئے اور معافی مانگی۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: تم سے پہلے جو قومیں تباہ ہوئی ہیں، اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی ادنیٰ درجے کا آدمی جرم کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔ میں تو اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹے بغیر نہ چھوڑتا۔
(۳) ان دو باتوں کو سمجھ لینے کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی خود اسلام کی رُوح سے بھی غافل نہ ہو، کیونکہ وہی تمام اسلامی قوانین کی جان ہے۔ اسلام میں سزا کا تصور خیر خواہانہ ہے نہ کہ بدخواہانہ۔ اسلام کسی کو غصے اور طیش میں نہیں مارتا۔ دُشمنی کا جذبہ اس کے کسی قانون میں نہیں پایا جاتا۔ یہاں سزا کے اندر ’’تطہیر‘‘ کا داعیہ کارفرما ہے۔ یہاں آدمی کو اس لیے سزا دی جاتی ہے کہ ارتکابِ جرم سے اس کے نفس و روح کو جو نجاست لگ گئی ہے اسے دھو ڈالا جائے۔ اسے پاک کر دیا جائے تاکہ وہ آخرت کی سزا سے بچ جائے۔ خود مجرم کے اندر اسلام یہ اعتقاد پیدا کرتا ہے کہ اصلی حاکم خدا ہے جس سے تو اپنے کسی فعل کو نہیں چھپا سکتا۔ اور اصلی عدالت آخرت کی عدالت ہے جس میں بہرحال تجھے پیش ہونا ہی پڑے گا اور وہاں کی سزا بڑی رسوا کن ہو گی۔ اگر تو نے دنیا میں اپنا جرم چھپا لیا تو اسی گندگی کو لیے ہوئے تو خدا کی عدالت میں حاضر ہو گا، لیکن اگر تو نے یہاں خود اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کر دیا تو یہ سزا تجھے پاک کر دے گی اور تو اس طرح خدا کے ہاں پہنچے گا کہ گویا تو نے یہ جرم کیا ہی نہ تھا۔ [ اس مقام پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جو شخص خود اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کرے‘ اس کا یہ فعل خود توبہ اور شرم ساری کو مستلزم ہے۔ اسی لیے ایسا آدمی سزا پانے کے بعد دنیا اور دین دونوں میں گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ رہا وہ مجرم جو خود نہ آیا ہو بلکہ پکڑا ہوا آیا ہو‘ تو نبیؐ کا قاعدہ تھا کہ سزا نافذ کرنے کے بعد اسے توبہ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔]حدیث میں اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے:
<<ان من اصاب من هذا المعاصى شيئا فعوقب به فى الدنيا فهو كفارة له ومن اصاب منها شيئا فستره الله فهو الى الله ان شاء عفا عنه وانشاء عاقبه.>>
ان گناہوں میں سے کسی گناہ کی نجاست اگر کسی کو لگ گئی اور دنیا میں ہی اس کی سزا بھی اسے دے دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوجائے گی، لیکن اگر اللہ کی حکمت سے اس کا گناہ چھپا رہ گیا تو معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ چاہے گا تو معاف کردے گا ورنہ سزا دے گا۔
اس تعلیم نے حیرت انگیز اخلاقی احساس ہمارے ہی جیسے گوشت پوست سے بنے ہوئے انسانوں میں پیدا کر دیا۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ ان مثالوں میں آپ کو اسلامی عدل، اسلامی اخلاق اور اسلام کے عجیب و غریب انقلابی تصورات کی وہ شان نظر آئے گی کہ آپ شاید حیرت سے سوچنے لگیں گے کہ آدمی اتنا بلند بھی ہو سکتا ہے!
ایک مرتبہ ایک چور رسولؐ اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس نے ایک شملہ چرایا تھا۔ آپؐ نے اُسے دیکھ کر فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ اس نے چوری کی ہوگی۔ ملزم نے آگے بڑھ کر عرض کیا: نہیں! یا رسولؐ اللہ! میں نے چوری کی ہے۔ آپؐ نے اس کے اقرار کو قبول کر کے حکم دیا: جاؤ! اس کا ہاتھ کاٹو، پھر میرے پاس حاضر کرو۔ چنانچہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اُسے دوبارہ حاضر خدمت کیا گیا۔ حضورؐ نے فرمایا: ”اب اللہ سے توبہ کر“۔ اس نے کہا: ”میں نے توبہ کی“۔ آپؐ نے فرمایا: جا! اللہ نے تیری توبہ قبول کر لی۔
ایک اور موقع پر ایک شخص (عمروؓ بن سمرہ) نے حاضر ہو کر رسولؐ اللہ سے عرض کیا کہ میں نے فلاں قبیلے کا اونٹ چرا لیا ہے، آپ مجھے پاک کر دیں۔ حضورؐ نے اُس قبیلے میں آدمی بھیج کر حقیقتِ حال دریافت کرائی۔ معلوم ہوا کہ فی الواقع اونٹ غائب ہے۔ اس پر آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ جب سزا اس پر نافذ کی گئی تو اس نے کہا: شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے پاک کر دیا۔ پھر اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو مخاطب کر کے کہتا ہے: تو مجھے دوزخ میں لے جانا چاہتا تھا، اللہ نے مجھے تجھ سے بچا لیا“۔
اوپر بنی مخزوم کی جس عورت کا قصہ مذکور ہوا ہے۔ اس کے مقدمے کا جب حضورؐ نے فیصلہ سنایا تو اس کی قوم نے کہا: یا رسولؐ اللہ! ہم فدیہ دینے کو حاضر ہیں، آپؐ اسے چھوڑ دیں، مگر آپؐ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹو۔ انھوں نے عرض کیا: ہم پانچ سو دینار اس کے ہاتھ کے بدلے میں دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹو۔ جب ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو اس عورت نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! خدا کے ہاں بھی میرے بچنے کی کوئی صورت ہے؟ آپؐ نے جواب دیا: ہاں! اب تو اپنے گناہ سے اس طرح پاک ہوچکی ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہو۔
ماعز اسلمی کا مشہور واقعہ ہے کہ اُس نے مسجد میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں نے زنا کی ہے مجھے پاک کر دیجیے۔ آپؐ نے منہ پھیر کر فرمایا: جا! توبہ کر اور خدا سے مغفرت مانگ۔ وہ پھر سامنے آیا اور وہی بات عرض کی۔ آپؐ نے منہ پھیر لیا۔ اس نے پھر سامنے آ کر اپنی بات دہرائی۔ اس طرح جب چار مرتبہ وہ اقرار کر چکا تو آپؐ نے پوچھا: کیا تو دیوانہ ہے؟ اُس نے کہا: نہیں! پھر دریافت کیا: کیا تو نے شراب پی ہے؟ اُس نے کہا: نہیں! پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں! پھر آپؐ نے فرمایا کہ شاید تو نے صرف بوس و کنار کیا ہوگا؟ اس نے کہا: نہیں! آپؐ نے پوچھا: کیا تو ہم بستر ہوا؟ اس نے کہا: ہاں! پوچھا: کیا تو نے مباشرت کی؟ جواب دیا: ہاں! اس طرح مباشرت کے ہم معنی کئی الفاظ بول بول کر آپؐ پوچھتے رہے اور وہ اثبات میں جواب دیتا رہا۔ آخر آپؐ نے پوچھا: کیا تو جانتا ہے کہ زنا کسے کہتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں! میں نے اُس کے ساتھ حرام کے طور پر وہ کام کیا ہے جو شوہر حلال کے طور پر اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ آپؐ نے پوچھا: اس بیان سے تیری غرض کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: پاک ہونا چاہتا ہوں۔ تب آپؐ نے حکم دیا کہ جاؤ اس کو رجم کر دو۔ اس واقعے کے دو تین دن بعد رسول اللہؐ نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا: دعا مانگو ماعز ابن مالک کے لیے، اُس نے توبہ کی اور ایسی توبہ کی کہ اگر پوری قوم پر بانٹ دی جائے تو سب کی مغفرت کے لیے کافی ہو جائے۔
غامدیہ کا واقعہ بھی حدیث کے مشہور واقعات میں سے ہے۔ اس نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”یا رسولؐ اللہ! میں زنا کی مرتکب ہوئی ہوں، مجھے پاک کر دیجیے۔ آپؐ نے جواب دیا: جا! توبہ کر اور اللہ سے مغفرت مانگ!۔ اس نے عرض کیا: آپ مجھے بھی ماعز کی طرح پلٹانا چاہتے ہیں؟ میں عرض کرتی ہوں کہ مجھے زنا کا حمل ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جا! اور جب تک بچہ نہ پیدا ہو جائے، اُس وقت تک ٹھہر۔ جب زچگی ہو گئی تو وہ پھر حاضر ہوئی اور کہا کہ بچہ بھی پیدا ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا : اس کو دودھ پلا ، رضاعت ختم ہونے کے بعد دیکھا جائے گا۔ جب رضاعت کا زمانہ ختم ہو گیا وہ پھر بچے کو لیے ہوئے آئی اور عرض کیا کہ میں اس سے بھی فارغ ہو چکی ہوں۔ تب آپؐ نے بچے کو ایک مسلمان کے حوالے کیا کہ اس کی پرورش کرے اور اس عورت پر رجم کی حد جاری کی۔ اس واقعے کے بعد کہیں حضرت خالدؓ بن ولید کی زبان سے اس عورت کے حق میں بُرے الفاظ نکل گئے۔ حضورؐ نے سنا تو فرمایا : خبردار ! اے خالد ! اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اُس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو بخشا جائے ۔ پھر آپؐ نے خود اُس کی میت پر جنازے کی نماز پڑھائی۔
جنگِ قادسیہ کے موقع پر ابو محجن ثقفی شراب نوشی کے جرم میں محبوس تھے۔ جب ہنگامۂ جنگ برپا ہوا تو ابو محجن قید خانے میں تڑپنے لگے اور حضرت سعد بن ابی وقاص (اسلامی فوج کے جنرل ) کی بیوی سے انھوں نے درخواست کی کہ مجھے معرکے میں شریک ہونے کے لیے چھوڑ دو۔ اگر میں جنگ میں مارا گیا تو سزا کی حاجت ہی نہ رہے گی۔ اور اگر زندہ رہا تو خود آکر پاؤں میں بیڑیاں پہن لوں گا۔ ایک مسلمان خواہ وہ مجرم ہی کیوں نہ ہو، اس کا وعدہ اتنا وزن رکھتا تھا کہ حضرت سعدؓ کی بیگم صاحبہ کو اس پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہ آئی ، چنانچہ انھوں نے ابو محجن کو نہ صرف رہا کر دیا بلکہ سواری کے لیے حضرت سعد کی بہترین گھوڑی بھی دی۔ جنگ میں اُس شخص نے جس کی پیٹھ پر ۸۰ کوڑے لگنے کی سزا تجویز کی گئی تھی ، اسلام اور حکومتِ اسلامی کے لیے وہ جاں فشانی دکھائی کہ خود حضرت سعدؓ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ اور جب معرکہ ختم ہوا تو اُس اللہ کے بندے نے اپنے وعدے کے مطابق خود آکر بیڑیاں پہن لیں۔ حضرت سعدؓ نے ان کی اس مجاہدانہ سرفروشی کے صلے میں ان کو رہا کر دیا اور فرمایا کہ جو شخص خدا کی راہ میں ایسی جاں نثاری دکھاتا ہے، میں اس کی پیٹھ پر کوڑے نہیں برساؤں گا۔ ابو محجن نے جواب دیا کہ میں بھی اب شراب نہ پیوں گا کیونکہ اب تک تو یہ توقع تھی کہ تم حد جاری کر کے مجھے پاک کر دو گے مگر تم نے اس توقع کا خاتمہ کر دیا۔
یہ واقعات کسی تبصرے کے محتاج نہیں۔ ان سے آفتاب کی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ اسلام میں سزا کا تصور کیا ہے، اور اسلام کس طرح جرائم کا سدّ باب کرنے کے ساتھ ساتھ مجرموں کے اندر بلند ترین اخلاقی احساسات پیدا کرتا ہے، اور کس طرح اسلام میں مجرموں کو سزا دینے کے بعد از سر نو سوسائٹی کے ایک معزز رکن کی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ جو لوگ اس قانون کو وحشیانہ قانون کہتے ہیں، وہ خود وحشی ہیں۔ تہذیب نفس اور انسانیت فاضلہ کے جس بلند مرتبے پر اس قانون نے بنی آدم کو پہنچا دیا، اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہاں ملتی ہے؟
(۴) اقامتِ حدود میں وقت کے حالات اور ملزم کے حالات کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔ زمانہ جنگ میں حد موقوف رکھی جاتی ہے۔ قحط کے زمانے میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ ملزم کے حالات سے اگر ثابت ہو کہ حقیقت میں وہ چوری پر مجبور ہو گیا تھا، تب بھی اس کے ساتھ رعایت کی جاتی ہے۔ مثلاً حاطب بن ابی بلتعہ کے غلاموں کا قصہ آثار میں منقول ہوا ہے کہ انھوں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کا اونٹ چرا لیا تھا۔ مزنی نے آ کر حضرت عمرؓ سے شکایت کی۔ آپ نے مقدمے کی تحقیقات کے بعد حکم دے دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔ پھر دفعتاً آپ کو اُن غلاموں کے حالات کی طرف توجہ ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ تم نے ان غریبوں سے کام لیا مگر ان کو بھوکا مار دیا اور اس حال کو پہنچایا کہ اگر ان میں سے کوئی شخص حرام کھا لے تو اس کے لیے وہ جائز ہو۔ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے ان غلاموں کو چھوڑ دیا اور ان کے مالک حضرت حاطب سے اونٹ والے کو تاوان دلوایا۔
اس قسم کی اور متعدد مثالیں ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا قانون اندھا قانون نہیں ہے، بلکہ وہ فرق کرتا ہے اُس شخص میں جو حقیقتاً ارتکاب جرم پر مجبور ہو گیا ہو، اور اُس شخص میں جس نے حقیقی مجبوری کے بغیر جرم کیا ہو۔ اسی بنا پر غیر شادی شدہ زانی، اور شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کیا گیا ہے۔ اور اسی بنا پر قحط کے مارے ہوئے شخص اور کھاتے پیتے شخص کی چوری کو ایک مرتبے پر نہیں رکھا گیا۔
ترجمان القرآن
(محرم ۱۳۵۸ھ۔ مارچ ۱۹۳۹ء)
(نیز دیکھیے ترجمان القرآن، ج۴۵، عدد۳)