مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایک اور دلیل

خطبہٴ عربیہ کے لزوم پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ خدا کا کلام اور اسلام کے تمام احکام زبانِ عربی میں ہیں اور ہر مسلمان پر عربی سے واقف ہونا لازم ہے۔ اگر لوگ عربی کی تحصیل میں غفلت کرتے ہیں اور عربی نہیں سمجھتے تو یہ ان کا قصور ہے۔ ان کی خاطر خطبے کی زبان بدلنا کیا ضرور؟

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے عربی سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر انھیں اپنے دین کی سمجھ حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں گمراہیوں کے پھیلنے کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ علمِ دین کے اصل ماخذ تک ان کی رسائی نہیں۔ اسی لیے ہم نے خود بارہا اس ضرورت کا اظہار کیا ہے اور ہماری قطعی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی زبان کو لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے، لیکن ”ہے“ اور ”ہونا چاہیے“ میں بہت فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے کوشش کیجیے، مگر جو کچھ فی الواقع ہے اس سے آنکھیں بند نہ کر لیجیے اور واقعات کی پروا نہ کیجیے۔ آپ کے حالات تو یہ ہیں کہ آپ کے ہاں مسلمانوں کے لیے عربی تو درکنار دین کی ابتدائی تعلیم تک لازم نہیں ہے، اور اس پر آپ کے تحکّم کی کیفیت یہ ہے کہ مسلمان اگر عربی نہیں سمجھتے تو آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی پروا نہیں، ہم تو عربی میں خطبہ سنائیں گے۔ کیا عربی خطبے پر آپ کے اصرار کا یہ نتیجہ نکلنے کی کوئی امید ہے کہ مسلمان محض اس کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھنے پر مجبور ہو جائیں؟