مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

چند مقامات

یہ جو کچھ عرض کیا گیا ہے، اس سے چند باتیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں:

اوّل یہ کہ لغتِ عرب میں جن کے وہی معنی ہیں جو ہماری زبان میں ’’چھپے ہوئے‘‘ اور ’’پوشیدہ‘‘ کے ہیں، اس لفظ کو جب انواعِ مخلوقات میں سے کسی نوع کے لیے نام کے طور پر استعمال کیا جائے گا تو ضرور ہے کہ وہ کوئی ایسی نوع ہو جو عادتاً مخفی و مستور ہو، حتیٰ کہ اس کا ظاہر اور نمایاں ہونا خرقِ عادت میں سے شمار کیا جائے۔ نہ یہ کہ وہ عادتاً ظاہر اور نمایاں ہو جیسے انسان۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ لفظِ سیّال کا اطلاق کسی ایسی چیز پر کیا جائے گا جو عادتاً بہنے والی ہو، اور اگر کبھی وہ جامد پائی جائے تو اس کا جمود خلافِ معمول شمار کیا جائے گا، مثلاً پانی، لیکن اگر کوئی شخص لفظِ سیّال کا اطلاق کسی ایسی چیز پر کرے جو عادتاً جامد ہو (مثلاً پتھر) اور جس کا جامد ہونا نہیں بلکہ سیّال ہونا خلافِ معمول ہو تو آپ یقیناً حکم لگا دیں گے کہ وہ شخص لفظِ سیّال کے معنی سے ناواقف ہے اور لفظ کو اس کے غیر معنیِ موضوع لہ میں استعمال کر رہا ہے۔ اسی طرح اگر قرآن مجید میں لفظ جن (مخفی ومستور) کا اطلاق کسی ایسی مخلوق پر کیا جاتا جو عادتاً مخفی و مستور نہیں ہے بلکہ اپنی فطرت کے اعتبار سے مرئی ومحسوس ہے (مثلاً انسان) تو نعوذ باللہ یہ اس بات کی دلیل ہوتی کہ اس کتاب کو پیش کرنے والا یا تو مجنون ہے یا لفظ جن کے معنی سے ناواقف ہے۔ یقین مانیے کہ ایسی صورت میں خواہ تمام عجم قرآن پر ایمان لے آتا مگر کوئی عرب تو کبھی اس پر ایمان نہ لاتا۔ کیونکہ وہ جن کا بطور معجزہ و خرق عادت مرئی ومحسوس بن جانا تو مان سکتا ہے مگر یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ مرئی ومحسوس انسان کو جن کے لفظ سے تعبیر کیا جائے۔ جس وقت کفارِ عرب نے کہا تھا کہ محمدؐ کو کوئی عجمی شخص قرآن سکھاتا ہے تو اپنے اس دعوے کی تائید میں وہ کوئی دلیل پیش نہ کر سکے، اور جب قرآن نے اس الزام کا یہ جواب دیا کہ <<لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَّ ھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ>> (النحل 103:16) جس شخص کو یہ سکھانے والا بتاتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے حالانکہ قرآن جس زبان میں ہے وہ عربی مبین ہے۔ تو اس جواب کو سن کر تمام عرب کی زبانیں بند ہوگئی تھیں، لیکن اگر کہیں اس وقت کفارِ عرب کو ایک مثال بھی قرآن میں ایسی مل گئی ہوتی جس میں لفظ ’جن‘ کا اطلاق انسان پر کیا گیا ہو تو وہ پلٹ کر جواب دیتے کہ یہ کہاں کی لسانِ عربی مبین ہے، جس میں ’جن‘ کا اطلاق انسان پر کیا جا رہا ہے۔

دوم یہ کہ عرب میں پہلے سے ’جن‘ کا نام ایک ایسی فوق الطبیعی غیر جسمانی مخلوق کے لیے موضوع اور شائع ومتعارف تھا جو عادتاً محسوس نہ ہوتی تھی، جس کو کبھی کبھی وہ ’سعالی‘ اور ’غول‘ وغیرہ کی شکل میں دیکھتے تھے، اور جس کے متعلق ان کا اعتقاد تھا کہ وہ فوق الطبیعی انداز سے ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پس جب قرآن نے اس شائع شدہ لفظ کو استعمال کیا تو لامحالہ اس کے معنی وہی لیے جائیں گے جن کے لیے وہ پہلے سے وضع کیا ہوا تھا اور شائع تھا۔ قرآن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ عربی میں اتارا گیا ہے تاکہ عرب، جو اس کے اوّلین مخاطب ہیں، اس کو سمجھ سکیں۔ <<اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ>> (یوسف 2:12) یہ دعویٰ اسی صورت میں سچا ہو سکتا تھا جبکہ قرآن میں وہی الفاظ اور اصطلاحات اور اندازِ بیان استعمال کیے جاتے جو عرب میں رائج و معروف تھے، یا اگر اہلِ عرب کی زبان کے کسی لفظ کو معلوم و متعارف معنی کے سوا کسی خاص معنی میں استعمال کیا جاتا تو وہ اصل لغت کے خلاف نہ ہوتا اور اس خاص معنی کی تشریح کر دی جاتی تاکہ عرب اس کو سمجھ سکتے، لیکن آپ لفظ ’جن‘ کے جو معنی بیان کرتے ہیں، نہ کلام عرب میں معلوم و متعارف ہیں اور نہ اُن کی کوئی ایسی تشریح ہی قرآن میں ملتی ہے جس سے واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ اس نام کا وہ مسمیٰ مراد نہیں ہے جو اہل عرب نزولِ قرآن کے زمانے میں عموماً اس سے مراد لیا کرتے تھے۔ اب اگر آپ کی بات مان لی جائے تو قرآن کا اپنا یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ وہ عام فہم عربی میں اترا ہے۔

سوم یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ عربوں کے اس اعتقادِ باطل کا ذکر کیا گیا کہ وہ جنّ اور ملائکہ کو خدائی میں شریک ٹھیراتے تھے، خدا سے اُن کا نسب جوڑتے تھے، اُن سے پناہ مانگتے اور اُن کی عبادت کرتے تھے۔ پھر اس اعتقاد کا ابطال اس طرح کیا گیا ہے کہ جنّ خدا کے شریک نہیں ہیں، نہ اس کی اولاد ہیں، بلکہ وہ بھی اسی طرح خدا کی ایک مخلوق ہیں جس طرح انسان اُس کی مخلوق ہے۔ فرق یہ ہے کہ انسان مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا ہے اور ’جن‘ آگ کی پھونک سے، مگر احکامِ خداوندی کے مخاطب دونوں ہیں۔ خدا کے سامنے جواب دہ ہونے میں دونوں برابر کے شریک ہیں اور نافرمانی کی سزا دونوں کے لیے یکساں ہے۔ پس انسان کا اُن کی عبادت کرنا محض ایک جاہلانہ فعل ہے بلکہ اس میں انسان کے لیے ذلت بھی ہے، اس لیے کہ انسان ایک بالاتر نوع ہے۔ جنوں کے نمائندے ’ابلیس‘ کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور انکار کرنے پر وہ راندۂ درگاہ کیا گیا۔ انسان کو خلافت اور رسالت کے بلند مناصب پر سرفراز کیا گیا اور جنوں کو اس کی اطاعت اور پیروی کا حکم دیا گیا، جیسا کہ سورۂ احقاف کے آخری اور سورۂ جنّ کے پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ پھر انسانوں ہی میں سے ایک برگزیدہ ہستی حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ شرف عطا ہوا کہ جن اُن کے تابع کیے گئے۔ یہ تمام باتیں جو قرآن میں عربوں کے اعتقاداتِ باطلہ کی تردید کے لیے کہی گئی تھیں، اُسی صورت میں بامعنی ہو سکتی تھیں جبکہ اُن میں ’جن‘ سے مراد وہی مخلوق ہوتی جس کو اہل عرب خدائی میں شریک اور عبادت میں خدا کا ساجھی بناتے تھے۔ ورنہ اگر ان میں ’جن‘ سے مراد انسان ہی ہوتے تو پھر یہ کسی طرح بھی عربوں کے اوہام کا ا بطال کرنے والی نہ ہوتیں اور عربوں کے وہ اعتقادات اپنی جگہ رہ جاتے جو وہ اپنے تصور میں جنوں کے متعلق رکھتے تھے۔

چہارم یہ کہ اگر جنوں کے ذکر سے کسی خاص مقام یا بعض مخصوص مقامات پر قرآن کا مقصود دراصل انسانوں یا ان کے کسی خاص گروہ ہی کا ذکر کرنا تھا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کو لفظ ’جن‘ سے تعبیر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ کیوں نہ ان کو لفظ انسان ہی سے تعبیر کیا گیا؟ خواہ مخواہ ایسے الفاظ استعمال کرنے کی کیا حاجت پیش آئی تھی، جن سے ناری جن اور خاکی جن کے درمیان التباس واقع ہوتا؟ اس طرح کی تاویلات کے بارے میں یہ ایک اہم اصولی سوال ہے جس کو ہمارے زمانے کے اکثر نرالی تاویلیں کرنے والے حضرات قرآنی الفاظ کے معنی بیان کرتے وقت نظر انداز کر جاتے ہیں۔ وہ اس پہلو پر کبھی غور نہیں کرتے کہ جب کسی خاص معنی کو بیان کرنے کے لیے معروف اور شائع الفاظ عربی زبان میں موجود ہیں اور خود قرآن نے بھی اس معنی کو بیان کرنے کے لیے حسب موقع وہی الفاظ استعمال کیے ہیں، تو آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ کسی خاص مقام پر اس معنی کو بیان کرنے کے لیے (اگر واقع میں اس کا مقصود وہاں وہی معنی بیان کرنا ہو) بعض دوسرے الفاظ استعمال کرتا درآں حالیکہ وہ الفاظ اس معنی کے لیے شائع اور متعارف نہ تھے اور نہ ہیں؟ مثال کے طور پر اگر واقع یہی تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو مصر سے یا دوسرے مقامات سے اعلیٰ درجے کے غواص، ظروف ساز، معمار اور سنگ تراش آدمی فراہم کر دیے گئے تھے تو یہی کہہ دینے میں کون سا امر مانع تھا کہ ہم نے سلیمان علیہ السلام کو ایسے اور ایسے آدمی فراہم کر دیئے تھے۔ کیا اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس الفاظ کا کافی ذخیرہ موجود نہ تھا کہ مجبوراً اس کو ’جن‘ اور ’شیاطین‘ کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی؟[ملاحظہ ہو: سورۂ سبأ رکوع: ۲۔ سورۂ ص رکوع: ۳] کیا خود اللہ تعالیٰ نے آدمیوں کا ذکر کرنے کے مواقع پر اُن کو انسان یا بنی آدم کے الفاظ سے تعبیر نہیں کیا ہے؟ اور اگر خاص آدمیوں میں کوئی خصوصیت ایسی تھی کہ ان کو ’جن‘ اور ’شیاطین‘ کے استعاروں میں ادا کرنا ضروری تھا، تب بھی اس تصریح میں کیا چیز مانع تھی کہ یہ ’جن‘ بنی آدم سے تھے؟۔