مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

آیت کا صحیح مفہوم

اب ذرا آیت کے الفاظ پر پھر غور کیجیے! اگر سمجھنا اور معانی کی طرف ملتفت ہونا ہی صحتِ نماز کے لیے ضروری تھا اور اسی بنا پر حالتِ سکر میں نماز سے دور رہنے کا حکم دیا گیا تھا، تو پھر سکر ہی میں کون سی خصوصیت تھی؟ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جب تم متفکر ہو تو نماز سے دور رہو۔ جب تمھیں رنج یا پریشانی یا کسی اور قسم کی ذہنی مشغولیت لاحق ہو، تب بھی نماز کے پاس نہ جاؤ۔ جب تمھیں محسوس ہو کہ دورانِ نماز میں تمھارے خیالات کسی اور طرف بھٹک گئے ہیں، تب بھی نماز توڑ دو اور پھر سے شروع کرو، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کوئی قید بھی نہیں لگائی بلکہ صرف حالتِ سکر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس حالت میں تم کو علم نہیں ہوتا کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ سکر میں کسی اور قسم کی بے خبری ہوتی ہے جو عدمِ فہم اور عدمِ التفات سے مختلف ہے۔ اس حالت میں انسان کو یہ بھی شعور نہیں ہوتا کہ وہ عبادت کے لیے کھڑا ہو رہا ہے یا کسی اور کام کے لیے، قرآن پڑھ رہا ہے یا کچھ اور، قبلہ رُخ بھی ہے یا نہیں۔ اس پر کچھ ایسی مدہوشی طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپے میں نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے کوئی شعر گانے لگے۔ یا خدا کا ذکر کرتے کرتے کچھ اُول فول بک جائے۔ یا قبلہ رُخ کھڑے کھڑے کسی دوسری طرف ڈھلک پڑے۔ یا نماز پڑھتے پڑھتے بھول جائے کہ نماز پڑھ رہا ہے اور ادھوری نماز چھوڑ کر کسی سے باتیں کرنے لگے۔ یا مصلے پر سے کہیں چل کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ سے دراصل ایسی ہی بے شعوری کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تم اپنی حماقت سے اپنے اوپر ایسی حالت طاری کر لو جس میں تم کو اپنی زبان اور اپنے دل و دماغ پر قابو نہ رہتا ہو تو ہمارے دربار میں حاضر ہونے کی جرأت نہ کرو۔

اس تشریح سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آیت مذکورہ الصدر کا کوئی تعلق نماز کی زبان کے مسئلے میں نہیں ہے۔ اور اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ نماز اُس زبان میں پڑھنا ضروری ہے جسے مُصَلّی اچھی طرح سمجھتا ہو۔