تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ایمان بالکتاب کا مقتضیٰ
اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کوئی ایسی قوی دلیل موجود نہیں ہے جس کی بنا پر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے قصے میں، یا کسی دوسرے مقام پر، لفظ ’’جنّ‘‘ کے معنی متعین کرنے میں اس معنی سے انحراف کرنا جائز ہو، جس کی تصریح خود قرآن مجید متعدد مواقع پر کر چکا ہے، اور جب اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے تو کسی شخص کے لیے، جو قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے پر ایمان رکھتا ہو، یہ جائز نہیں ہے کہ جس کو خدا نے ’’جنّ‘‘ کہا ہے اور آدمی نہیں کہا، اُس کو وہ اپنے قیاس سے آدمی کہہ دے۔ ایسا قیاس کرنے کے لیے اگر کوئی سبب داعی ہو سکتا ہے تو صرف یہ ہے کہ عادتِ جاریہ، جس کا مشاہدہ اور ادراک کرنے کے ہم خوگر ہیں، اُن واقعات کے خلاف ہے جو بعض مواقع پر قرآن مجید میں جنوں کی طرف منسوب کیے گئے ہیں، لیکن اسی طرح آگ کا ایک خاص شخص کے لیے سرد ہو جانا، لکڑی کا ایک خاص موقع پر اژدھا بن جانا، دریا کا ایک خاص وقت میں پھٹ کر راستہ دے دینا، ایک شخص کا مٹی کے پرند بنا کر ان میں جان ڈال دینا اور مُردوں کو زندہ کر دینا، چند آدمیوں کا ایک غار میں تین سو برس تک سوتے پڑے رہنا اور پھر بھی زندہ رہنا، ایک شخص کا مرنے کے سو برس بعد جی اُٹھنا اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کا جوں کا توں بالکل تازہ حالت میں پانا، ایک شخص کا ساڑھے نو سو برس تک زندہ رہنا اور وہ بھی یوگ کی مشقوں سے نہیں بلکہ ایک منکر قوم کے مقابلے میں تبلیغ دین کی تھکا دینے والی مشقوں کے ساتھ، یہ اور ایسے ہی متعدد واقعات ہیں جو قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں اور سب اُس عادتِ جاریہ کے خلاف ہیں جس کو دیکھنے کے ہم خوگر رہے ہیں۔
اگر ہم قرآن کو خدائے علیم و خبیر اور قادر و توانا کا کلام نہ مانیں تو سرے سے ان واقعات کی تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ محض اس بنیاد پر ان سب کو جھٹلا دیا جا سکتا ہے کہ ایسا ہوتے ہم نے کبھی نہیں سنا اور نہ دیکھا۔ اور اگر ہم یہ مان لیں کہ قرآن اُس خدا کا کلام ہے جو ازل سے ابد تک عالمِ وجود کے ہر چھوٹے بڑے واقعہ کا حقیقی علم رکھتا ہے اور خدا وہ خدا ہے جس کے معجزے ہم کو سورج اور سیاروں اور زمین اور خود اپنے وجود میں ہر آن نظر آ رہے ہیں، تو ہمیں کسی غیر معمولی اور خلافِ عادت واقعہ کو بعینہٖ اُسی طرح تسلیم کرنے میں تامل نہیں ہو سکتا جس طرح وہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ یہ واقعات تو کیا چیز ہیں، اگر قرآن میں کہا گیا ہوتا کہ ایک وقت میں چاند کو ماؤنٹ ایورسٹ پر لا کر رکھ دیا گیا تھا، اور کسی وقت خدا نے سورج کو مشرق کے بجائے مغرب سے نکالا تھا، تب بھی ایک مومنِ صادق کو اس بیان کی صداقت میں ایک لمحے کے لیے شک نہ ہو سکتا تھا، اور نہ کسی طرح تاویل کر کے اس کو عادتِ جاریہ کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی تھی، اس لیے کہ یہ کائنات، جس کی وسعت کا تصور کرنے سے ہمارا دماغ تھک جاتا ہے اور اس کائنات کی ہر شے، حتیٰ کہ گھاس کا ایک تنکا اور کسی جانور کے جسم کا ایک بال بھی اپنی پیدائش میں درحقیقت اتنا ہی حیرت انگیز معجزہ ہے جتنا چاند کا ایورسٹ پر آ جانا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ فرق اگر کچھ ہے تو صرف یہ کہ ایک قسم کے واقعات کو دیکھنے کی ہمیں عادت ہوگئی ہے، اس لیے ہم کو ان کے معجزہ ہونے کا شعور نہیں ہوتا ، اور دوسری قسم کے واقعات شاذ ہیں اس لیے اُن کی خبر جب ہم کو دی جاتی ہے تو ہمیں اچنبھا ہوتا ہے اور ہماری عقل جو صرف مشاہدات و تجربات پر اعتماد کرنے کی خوگر ہو گئی ہے، اُن کو باور کرنے میں جھجکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے واقعات کے متعلق جب ہم کو کوئی خبر دی جائے تو ہمیں حق ہے کہ ان کے وقوع کے متعلق قابلِ وثوق شہادت طلب کریں ، لیکن ایک مومن کے لیے قرآن سے بڑھ کر قابلِ وثوق شہادت اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وہ دل سے یقین رکھتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے، اور خدا کے فعل پر خود خدا ہی کی شہادت سب سے زیادہ معتبر ہے۔ البتہ جو شخص قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے میں شک رکھتا ہو، اس کو حق ہے کہ قرآن کے ہر بیان میں شک کرے، خواہ وہ عادتِ جاریہ کے موافق ہو یا مخالف۔
ترجمان القرآن
(شوال ۱۳۵۳ھ۔ جنوری ۱۹۳۵ء)