ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تعمیرِ نو اور دوبارہ تباہی کا خدشہ
بین الاقوامی برادری بحالی کے لیے مالی امداد کے وعدے کرنے میں تو جلدی میں تھی، چنانچہ جنوری/فروری ۲۰۲۴ء میں منعقدہ پیرس کانفرنس میں، عطیہ دہندگان نے فوری انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے لیے ۷؍ارب ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا۔ یورپی یونین اور خلیجی ممالک اور دیگر نے بڑی رقمیں شامل کیں، لہٰذا فنڈز نظریاتی طور پر تو موجود ہیں لیکن درحقیقت وعدوں سے عمل درآمد (from pledge to pavement) تک کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔
مارشل پلان کا سراب:ان وعدوں میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کے مارشل پلان سے موازنے دہرائے جاتے ہیں، لیکن یہ سب موازنے بے کار ہیں، کیونکہ مارشل پلان کا انتظام ایک غالب طاقت، یعنی امریکا نے مستحکم قومی ریاستوں کے لیے کیا تھا، اگرچہ وہ جنگوں سے گزرے تھے، جن کے پاس مؤثر بیوروکریسی تھی۔ جبکہ غزہ ایک بے ریاست علاقہ ہے، اور اس کے پاس کوئی مستحکم حکومت نہیں ہے جسے اہم عطیہ دہندگان (key donors) تسلیم کرتے ہوں۔ غزہ ایک سخت محاصرے میں ہے، اس کے لیے ایک حقیقی مارشل پلان کا اطلاق ایک بنیادی سیاسی حل کے بغیر ناممکن ہے۔ کوئی بھی عرب یا اتحادی عرب حکومت تعمیرِ نو کے لیے فنڈ نہیں دے گی اگر اس عمل کو حماس کی حکومت کے لیے حمایت سمجھا جاتا ہے۔ قابض جنگ کا بنیادی مقصد اس تحریک کو تباہ کرنا ہے اور حماس کی قیادت میں تعمیرِ نو اس بین الاقوامی اتحاد کے نقطۂ نظر میں شامل نہیں ہے جو اس کی فنڈنگ کے لیے درکار ہے۔
تعمیرِنو کے لیے امریکی فنڈنگ کا مسئلہ:پیرس کانفرنس کی بنیاد پر جو جنوری ۲۰۲۴ء میں منعقد ہوئی، امریکی کانگریس نے صہیونی نظام اور علاقے کے لیے ۹ء۲ بلین ڈالر کی امداد کی منظوری دی، جس میں بڑی انسانی امداد بھی شامل ہے۔
امریکا فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا انفرادی عطیہ دہندہ رہا ہے۔ تاہم، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈنگ واشنگٹن میں ایک کانٹے دار سیاسی میدان ہے، کیونکہ ٹیلر فورس ایکٹ جیسی قانون سازی، جو امریکی اقتصادی امداد کو براہِ راست فلسطینی اتھارٹی کو فراہم کرنے سے روکتی ہے۔ اگر وہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو تنخواہیں (شہداء کے لیے معاوضے) جاری رکھتی ہے،تو یہ قانون سازی اس کو سختی سے محدود کرتی ہے۔ مزید برآں، غزہ کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی انتظامیہ کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں حماس کو فائدہ پہنچانے والی کسی بھی امداد کے خلاف دونوں جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
خلیجی ریاستیں اور اسٹرے ٹیجک فلاحی کام:خلیجی طاقتوں کا کردار مرکزی ہے لیکن ہے پیچیدہ۔مثال کے طور پر، قطر ایک بڑا عطیہ دہندہ رہا ہے، جو اکثر فنڈز کو براہِ راست سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور انسانی منصوبوں کے لیے بھیجتا ہے۔ تاہم، اس کے دیگر علاقائی ممالک، مثلاً مصر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات، جو حماس اور اس کے حامی ممالک خود قطر اور ترکی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک متحد نقطۂ نظر تک پہنچنے کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
سعودی عرب غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے معاہدے کے حصے کے طور پر ہی تیار ہوسکتا ہے کہ جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے مقابلے میں ہی صہیونی نظام کو رعایتیں شامل ہوں۔ یہ ایک ایسا امکان ہے، جس کی قابض اسرائیلی حکومت سختی سے مخالفت کرتی ہے۔
متحدہ عرب امارات بڑی رقم کی صورت میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر ایک وسیع تر سیاسی تصفیے کے حصے کے طور پر، جو ایرانی اثر و رسوخ کے مقابلے میں خطے کے بارے میں ان کے وژن سے ہم آہنگ ہو۔ اور ان کی سرمایہ کاری حماس کو گورننس سے دُور رکھنے کے ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سخت شرائط کے ساتھ ہی آئے گی۔
یہ سارا عمل دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو محض ایک سراب ہے، یاوعدوں کی خوش نما جھلک، جس کا حقیقت میں ڈھلنا شاید ہی ممکن ہو۔