ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اطاعت سے منہ موڑنے کے نقصانات
اطاعت سے منہ موڑنا فرد کے ساتھ تحریک کے لیے درج ذیل خطرات کا باعث بن سکتا ہے:
مقاصد میں ناکامی اور کمزوری: اطاعتِ نظم کے فقدان سے جماعت میں انتشار اور گروہ بندی پیدا ہوتی ہے۔ کوئی بھی تحریک بغیر نظم و ضبط کے اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکتی۔قیادت ایک طرف دیکھ رہی ہو اور کارکن دوسری طرف، تو منزل کبھی نہیں ملتی۔ فوج اگر اپنے کمانڈر کے منصوبے کے مطابق نہ چلے اور ہردستہ اپنے اپنے اہداف طے کر لے تو اس کا نتیجہ سوائے ناکامی کے کچھ نہیں نکلتا۔ ادارے اپنے طے شدہ اصولوں پر نہ چلیں اور منیجر کی بات نہ مانی جائے تو ایسے ادارے تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔فرمانِ الٰہی ہے: <<وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ (الانفال۸:۴۶)>> ’’آپس میں تنازعہ نہ کرو ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘۔ جب جماعت کے اندر اختلاف اور نافرمانی ہو تو دشمن آسانی سے وار کر لیتا ہے۔ تاریخ میں کئی تحریکیں اس وجہ سے بکھر گئیں کہ کارکن نظم کے پابند نہ رہے۔
فرد کی اپنی روحانی تباہی اور اعتماد کا خاتمہ: ایک کارکن جب نظم کی طے شدہ ہدایات کو باربار نظرانداز کرتا رہتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کا ایمان کمزور ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ بالآخر تحریک سے کٹ جاتا ہے۔ بعض حالات میں اس کی آخرت تباہ بھی ہو سکتی ہے جیسے کہ ہم اوپر جبلہ بن الایہم غسانی کا واقعہ پڑھ چکے ہیں۔ لہٰذا اگر کارکن اطاعت نہ کریں تو باہمی اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ قیادت کارکن پر بھروسا نہیں کر پاتی اور کارکن قیادت سے دُور ہو جاتے ہیں۔ قرآن و سنت میں وارد معروف میں امیر کی نافرمانی (اطاعت سے انحراف) پر وعیدیں اس سلسلے میں خبردار کرتی ہیں: فرمانِ ربانی ہے: <<وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا۳۶ (الاحزاب ۳۳:۳۶)>> ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا‘‘۔ معروف میں امیر کی اطاعت بھی دراصل اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اطاعت سے رُوگردانی کو منافقین کی صفت بھی قرار دیا: <<يَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ۰ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ۰ۭ (النساء۴:۸۱)>> ’’وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کریں گے لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو آپ کی باتوں کے خلاف سازشیں کرتا ہے‘‘۔
یہ بڑی اہم آیت ہے۔ اس دور میں منافقین یہ کام کرتے تھے۔ آج کے دور میں بعض ارکان جماعت کے اندر بھی یہ امراض پائے جاتے ہیں۔ قائد تحریک کے خلاف گفتگو، نجویٰ، نجی محفلوں میں تنقید اور تحقیر ، جماعت کی پالیسیوں کے خلاف تبصرے، یہ سب تحریک کو کمزور کرنے والی چیزیں ہیں۔ سورئہ مجادلہ میں واضح الفاظ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے:
<<يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۰ۭ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ۹ (المجادلہ۵۸:۹)>> اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کر و تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہوجس کے حضور تمھیں حشر میں پیش ہونا ہے۔
غور طلب بات ہے کہ اطاعت بھی نہ کرنا اور پھر نجی محفلوں میں تنقید و تبصرے بھی کرنا دراصل کبروغرور کی علامت ہے اور قرآن مجید اس کو نفاق کی علامت بھی قرار دیتا ہے۔نیز جب کارکنانِ تحریک، مقاصدِ تحریک سے دُور ہوجاتے ہیں تو تعلق باللہ میں بھی کمزور ہوجاتے ہیں، پھر ان سے کمزوریوں کا صدور ہوتا ہے۔ اس پر قیادت اور کارکنان سب کو تفکر و تدبر اور تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی قیادت کو سمجھنی چاہیے کہ جب ارکان کی رائے کو مطلوبہ اہمیت نہ دی جائے تو اس سے بھی اضطراب اور نجویٰ جنم لیتے ہیں۔