ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اجتماعی نظمِ زکوٰۃ: فراموش شدہ حقیقت
قرآن وسنت میں زکوٰۃ کا تصور انفرادی خیرات کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور ریاستی نظام کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی صفات میں فرمایا:
<<اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۰ۚ (البقرۃ۲: ۲۷۷)>> بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے صالح اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہو گا۔
کلام اللہ کی صراحتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم کا مسلمان قرار پانا کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد بھی دو باتوں پر موقوف ہے: ایک یہ کہ وہ نماز قائم کرے، دوسرے یہ کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔
<<فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ (التوبۃ۹: ۱۱)>> سواگر یہ لوگ توبہ کر لیں، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اب وہ تمھارے دینی بھائی ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:’’ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی‘‘۔ (المعجم الکبیر طبرانی، ۱۰۰۹۵، مجمع الزوائد ۴۳۲۹)
اسی لیے جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانۂ خلافت میں کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، تو آپؓ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور فرمایا: <<وَ اللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ (مسلم، جلد اول، کتاب الایمان، ص ۲۰، بخاری، حدیث: ۱۳۹۹)>> ’’بخدا! میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا، جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرتے ہیں‘‘۔
علامہ یوسف القرضاویؒ لکھتے ہیں:’’حضرت ابوبکرؓ کا مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کرنا غالباً اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی حکومت و ریاست معاشرے کے کمزور افراد اور فقراء ومساکین کے حقوق انھیں دلانے کے لیے آمادۂ جنگ ہوئی‘‘۔ (علامہ یوسف القرضاوی، فقہ الزکوٰۃ، ص ۱۱۵)