ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ہمارا اسلام
سنو میرے بھائی! ہماری دعوت کی اگر کوئی جامع تعبیر ہوسکتی ہے تو بس یہ کہ وہ ایک ’اسلامی دعوت‘ ہے۔ البتہ یہ لفظ ہم اس تنگ مفہوم میں نہیں بولتے، جس سے عام ذہن مانوس ہیں، کیوں کہ اسلام کا مفہوم تو بہت وسیع ہے۔
اسلام تو ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے، جو زندگی کے سارے پہلوئوں پر حاوی ہے۔ وہ تو زندگی کے ایک ایک معاملے میں راہ نمائی کرتا اور اس کے لیے انتہائی گہرا، مربوط اور محکم نظام پیش کرتا ہے۔ وہ مسائل کے سامنے بے دست و پا نہیں ہوجاتا اور نہ ایسے اصول دینے سے عاجز رہتا ہے، جواصلاح کے لیے ناگزیر ہوں۔ کس قدر غلط فہمی میں ہیں وہ لوگ جن کا گمان ہے کہ اسلام تو بس چند عبادتوں یا روحانیت کی کچھ شکلوں کا نام ہے۔ اور اس طرح وہ ناقص فہم کے تنگ دائروں میں محصور ہیں۔ اسلام تو ایک ایسا وسیع اور ہمہ گیر نظام ہے، جو دُنیا و آخرت کے تمام مسائل سے بحث کرتا ہے۔
ہمہ گیری کا یہ تصور خود اپنی اختراع نہیں، بلکہ کتاب اللہ اور اسوئہ سلف سے ہم نے یہی سمجھا ہے۔ اب اگر قاری کو محض لفظ ’اسلامی‘ سے تسکین نہ ہو تو وہ پہلے اپنے نفس کو خواہشات و اغراض سے پاک کرے۔پھر قرآن کھول کر دیکھے۔ اس کو اس میں اخوان کی دعوت نظر آجائے گی۔
ہاں، ہماری دعوت’ اسلامی‘ ہے اور ان سارے مفاہیم کے ساتھ اسلامی ہے ، جن کی اس لفظ میں گنجائش ہے۔ اب آپ اس کے اندر جتنی چاہیں، معنی آفرینی کرلیں۔ البتہ اس معنی آفرینی میں آپ کتاب اللہ اور اسوئہ سلف کے پابند ہوں گے، کیوں کہ کتاب اللہ ہی اسلام کی اساس ہے۔ سنت ِ رسولؐ اس کی شارح و ترجمان ہے اور سلف صالحین ہی اس کی فوج و سپاہ اور اس کی تعلیمات کے علَم بردار تھے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ وہی ان تعلیمات کا عملی نمونہ اور ان احکام کی سچی تصویر تھے۔