مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

سمع و طاعت کہاں تک ؟

نعیم صدیقی تحریکی شعور میں لکھتے ہیں: اسلامی نظامِ سمع و طاعت کے متعلق متعدد ہم معنی احادیث میں سے صرف ایک کو یہاں نقل کرتا ہوں:’’روایت جنادہ بن امیہ کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامتؓ کے پاس گئے جو حالت مرض میں تھے، پھر ان سے ہم نے کہا کہ اللہ آپ کو شفا دے، ہم سے کوئی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تاکہ اللہ اسے ہمارے لیے باعثِ افادہ اور آپ کے لیے باعثِ صحت بنا د ہے ۔ انھوں نے (جواباً) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بیعت کی) دعوت دی۔ اور ہم نے (رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر) بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو اقرار لیا ( اور جس پر ہم نے بیعت کی) وہ یہ بات تھی کہ ہم سمع و طاعت کے پابند رہیں ، پسندیدہ صورتوں میں بھی اور ناپسندیدہ صورتوں میں بھی ، آسانی کی حالت میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی۔ اور اس صورت میں بھی کہ ہم دباؤ میں ہوں اور یہ کہ ہم اختیار کے معاملے میں اہل اختیار سے نزاع نہ کریں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اضافہ فرمایا: ’’اِلاّ یہ کہ تم صریح و نمایاں کفر ( کے صدور) کو دیکھو، جس کے متعلق تمھارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو‘‘۔ (صحیح مسلم)

فرمانِ نبویؐ سے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ایک صحیح اسلامی اجتماعیت کا معاملہ عام سیاسی پارٹیوں کی طرح کا نہیں ہوتا، جو چیز چاہی مان لی ، جس معاملے میں چاہا اختلاف کر کے الگ بیٹھ رہے، اور دوسروں میں اپنا اختلافی نقطۂ نظر پھیلانا شروع کردیا اور اس سے بھی تسکین نہ ہو تو معاملہ کو پریس میں لاکر <<الْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃَ>> کی تعلیم کو پامال کردیا۔ یہ حقیقت بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اسلامی اجتماعیت کے نظامِ امر اور نظامِ مشاورت اور حدودِ اختلاف کی خلاف ورزی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی ہے جس کے سرزد ہونے کے بعد توبہ کے علاوہ کوئی راہِ نجات نہیں۔

مندرجہ بالا فرمانِ نبویؐ کی رُو سے جماعتی فیصلوں کے مخالف دلائل سامنے لانے، براءت کا اظہار کرنے یا بگڑجانے کے لیے صرف ایک ہی حتمی بنیاد ہے، اور وہ یہ کہ اصحابِ امر یا اربابِ مشاورت کی طرف سے کھلے کھلے کفر کا ارتکاب ہو ، اور کھلے کفر کا فیصلہ محض جذبات سے نہیں کیا جائے گا، بلکہ آدمی کے پاس اللہ کی طرف سے صاف صریح دلیل ہونی چاہیے۔ یہ ہے کسی اسلامی نظامِ جماعت میں طاعت کی آخری حد۔ اگر لوگ اس آخری حد کے آنے سے پہلے ہی ہراختلاف پر منہ پھیر لیں تو نتیجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ ’’ایک تیز رو ندی جو چٹانوں کو ریلتی جاتی ہو، کئی دھاروں میں تقسیم ہو جائے اور چھوٹے چھوٹے دھارے اس قابل بھی نہ ہوں کہ راستے میں جمع ہوجانے والے انبارِ خس و خاشاک کو بہا لے جاسکیں ۔اختلاف جب اپنی حدود کا پابند نہ رہے تو پھر اجتماعیت کا قائم رہنا ممکن نہیں رہتا ۔ سمع وطاعت کے اسلامی اصولوں اور دیرینہ عملی روایات کو اگر توڑا جانے لگے تو اور پھر کسی فرد کی بھی سربراہی اور کسی مجلس کی مشاورت کی قوت کام نہ کر سکے گی‘‘۔ (تحریکی شعور،ص ۳۱۴-۳۱۷)

اطاعت صرف معروف میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کو بھی اطاعت فی المعروف کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے: <<وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ (الممتحنہ ۶۰:۱۲)>> ’’اور یہ کہ وہ کسی امر معروف میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی ‘‘۔ حالانکہ آپؐ کی طرف سے کسی معصیت کا حکم صادر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے‘‘۔مزید فرمایا: ’’ایک مسلمان پر اپنے امیر کی سمع و طاعت فرض ہے خواہ اس کا حکم اسے پسند ہو یا نا پسند، تا وقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ۔ اور جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت نہیں‘‘۔ (بخاری ، کتاب الاحکام)

یہ مضمون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت ارشادات میں مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔

امیرالمومنین ابوبکرؓ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے معاملات میں سے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا اور پھر اس نے لوگوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق کام نہ کیا اس پر اللہ کی لعنت‘‘۔اسی بنا پر خلیفہ مقرر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ ’’میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں اور جب میں اللہ اور اس کے رسول ؐکی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے‘‘۔ (کنز العمال)