ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خلفائے راشدین کا سنہرا دور
حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کا یہ واقعہ نظامِ زکوٰۃ کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ نے یمن سے زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ بھیجا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تمھیں زکوٰۃ وصول کرنے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اغنیاء سے لے کر وہیں کے فقراء میں تقسیم کرنے بھیجا تھا۔ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ وہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملا۔ تیسرے سال حضرت معاذؓ نے زکوٰۃ کا سارا مال بھیج دیا اور فرمایا: ’’یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا ہی نہیں ہے‘‘۔
یہی صورت حال حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں پیدا ہوگئی کہ معاشرے میں تمام لوگ مال دار ہو گئے اور غربت و افلاس کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ (ابو عبید: کتاب الاموال)
غریب اور ضرورت مند افراد کا خیال رکھنا مسلم معاشرے کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی ترقی کی طرف عدم توجہ ہے۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی لکھتے ہیں: ’’تعجب کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک نہیں چلی، جس نے عام مسلمانوں کو للکارا ہو کہ محنت کرو، دولت پیدا کرو، کماؤ اور اپنی کمائی کا ایک حصہ بچا کر نفع آور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو۔ پورے ملک کی سطح پر مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے، ان کی معاشی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے کوئی تحریک نہیں چلی‘‘۔ (معاش، اسلام اور مسلمان، ص ۳۶)