ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فنائیت
ہماری قوم کو جاننا چاہیے کہ اس دعوت کے لیے وہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں، جو اس کی راہ میں فنا ہوجائیں، اور اسی کو اپنی آرزوئوں اور تمنائوں کا مرکز سمجھیں۔ دعوت جس چیز کا مطالبہ کرے اس کے لیے ہروقت تیار رہیں، تن من دھن سے اس کے لیے حاضر رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
<<قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۲۴(التوبۃ ۹:۲۴)>> اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی، اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب، اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیزتر ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی راہ نمائی نہیں کیا کرتا۔
یاد رہے! یہ دعوت قربانی و سرفروشی کی دعوت ہے، اسے تردّد اور تذبذب سے بے انتہا نفرت ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی اس کے لیے یکسو ہوتا ہے ، تو وہ دعوت کا ہوگا اور دعوت اس کی ہوگی۔ لیکن اگر طبیعت اس کے لیے آمادہ نہیں، تو وہ اللہ کی راہ پر چلنے والوں کے ثواب سے محروم ہوگا، اور اسے نکمّوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہنا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی دعوت کے لیے کوئی اور قوم برپا کرے گا، جو مومنین کے لیے ریشم کی طرح نرم اور کفّار کے لیے فولاد ہوگی۔ وہ راہِ خدا میں جہاد کرے گی اور ملامت گروں کی ملامت سے بے پروا ہوگی۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے اسے نوازتا ہے: <<اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۰ۡيُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ۰ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۰ۭ (المائدہ۵:۵۴)>> ’’جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے‘‘۔
ہم لوگوں کو ایک ’عقیدے‘ کی دعوت دیتے ہیں۔ ایک ایسے عقیدے کی، جو بالکل واضح، متعین اور سب کا دل پسند ہے۔ جو سب کا جانا پہچانا عقیدہ ہے۔ جو سب کی عقیدتوں کا مرکز اور محبتوں کا محور ہے۔ جس کی برتری و بہتری کے سب قائل ہیں۔ جس پر سب کا یقین ہے کہ نجات و کامرانی اور خوش بختی کی کلید یہی ہے، جس کی موزونیت تجربے سے ثابت ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہ ہر دور کے لیے سازگار ہے،خواہ کوئی بھی دور ہو۔ انسانیت کی اصلاح اس کے بغیر ناممکن ہے۔