ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جنگ جُو طبیعتیں
اور اگر کوئی ہم سے بدگمان ہے۔ وہ ہم سے متنفر اور بے زار ہے۔ وہ ہمیشہ سیاہ عینک سے ہمیں دیکھتا ہے اور جب بھی زبان کھولتا ہے تو فتنہ انگیزی کی باتیں کرتا ہے۔ وہ اپنے فریب خوردہ ہی رہنے پر نازاں ہے، اور شکوک سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہے، تو ہم اللہ سے دُعا کریں گے کہ وہ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے دُور رہنے کا شعور عطا کرے۔ اور ہم دونوں کے دلوں میں پاکیزہ جذبات اور اچھے خیالات کا الہام کرے۔ نیز ہم اسے بھی پکاریں گے اگر وہ پکار کو سنے اور اسے بھی آواز دیں گے اگر وہ آواز پر کان دھرے، اور اس کے لیے برابر خدا سے دُعائیں بھی کریں گے کہ حقیقت میں اُمیدیں اور توقعات تو اسی سے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
<<اِنَّكَ لَا تَہْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۰ۚ (القصص ۲۸:۵۶)>> اے نبیؐ، تم جسے چاہو، اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
ہماری محبتیں برابر اس کے ساتھ ہوں گی اور ہم کبھی اس سے مایوس نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے تو ہمارا وہی انداز ہوگا جو اس سے پہلے محسن عالمؐ کا رہا ہے کہ آپؐ اپنی قوم کے لیے دُعا فرماتے: <<اَللّٰھُمَّ اَغْفِرْلِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ>> ’’خدایا! میری قوم کو بخش دے، کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں‘‘۔
آج لوگوں کی انھی چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مومن اپنی غایت کو پہچانے اور اپنی سمت ِسفر طے کرے، پھر اسی سمت کی طرف بڑھنے اور منزل تک پہنچنے کے لیے کوشاں رہے۔ رہی یہ غفلت کی بدمستی اور خیالات کی آوارگی، یہ دلوں کی بےحسی، اور یہ آنکھیں موند کے ہر آواز پہ دوڑنا اور ہر پکارنے والے کے ساتھ ہوجانا، تو یہ تو مومنین کا شیوہ نہیں۔