ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مضاربہ سود سے پاک مکمل طرزِ تجارت
۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Muhammad, The World Changer کے مصنف محمد جی بارا لکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد مکہ کے کم سرمایہ والے افراد کے لیے روزگار کا بندوبست کیا تھا۔ حضرت صہیبؓ رومی غلام تھے مگر زیورات بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ حضرت زیدؓ کو آپؐ نے خود آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح کے اور لوگوں کا سرمایہ اکٹھا کر کے ایک مشترکہ کمپنی (Joint Company) کے طرز پر کاروبار شروع کروایا تھا جو مضاربہ اور مشارکہ پر مشتمل تھا۔ سب لوگوں نے اپنا اپنا سرمایہ اکٹھا کر کے زیورات بنانے کا کاکام شروع کیا۔ اس کاروبارکے انچارنج حضرت صہیبؓ رومی تھے اور حساب کتاب کا کام حضرت زیدؓ کے پاس تھا۔ کاروبار کا منافع طے شدہ طریقے سے پورے گروپ میں تقسیم کرلیا جاتا۔
مضاربہ کی اقسام اور کاروبار کے طے شدہ اصولوں کے باعث اسے بہت سی شکلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ کاروبار عام یا مخصوص طرح کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی خاص کاروبار کا تعین کردے گا تو مضارب صرف وہی تجارت کرے گا۔ اگر مضارب کو اپنی مرضی سے کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی تو یہ عام مضاربہ کہلائے گا۔
اسی طرح مضاربہ مشروط اور غیرمشروط نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ شرائط کام کی نوعیت، کاروبار کی جگہ یا کاروبار کی نوعیت وغیرہ کے بارے میں ہوسکتی ہیں۔ مضارب کے لیے لازم ہے کہ ربّ المال کی تمام شرائط اور ہدایات پر عمل کرے۔ کسی شرط یا ہدایت کی عدم تعمیل کی صورت میں مضارب سرمایہ میں نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ مضاربہ معاہدہ میں مضارب دیئے گئے سرمایہ پر امین اور ضامن ہوتاہے۔ عام کاروباری صورت میں مضارب نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا لیکن غفلت اور بدعہدی کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے۔ دراصل مضاربہ تجارت میں فروغ اور ایمانداری لے کر آتا ہے۔ایک بے احتیاط اور بے عہد مضارب جلد ہی کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، جب کہ ایماندار اور محتاط مضارب کو کئی اور رب المال تجارت میں شامل کرلیتے ہیں۔