مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اللہ کی مدد شاملِ حال ہونا

مذکورہ بالا حدیث کا یہ پیغام بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ جو شخص رضائے الٰہی کا طلب گار ہوتا ہے اور ہر بات اور کام میں اللہ کی رضا ہی کو پیشِ نظر رکھتا ہے، اس پر اللہ ربّ العزت کا خصوصی کرم یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی کفایت فرماتا ہے، اس کے مسائل حل فرما تا ہے ،اس کی مشکل کو آسان بنادیتا ہے اور اسے لوگوں کی ایذارسانی سے محفوظ رکھتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کی کارسازی فرمائے، اور وہ جسے اپنی نصرت سے نوازے،کون اس کا بال بیکا کرسکتا ہے اور کون اسے نقصان پہنچا سکتا ہے؟ قرآن کریم میں بار بار انسان کو اس نکتہ کی جانب متوجہ کیا گیا ہے اور بالخصوص حق وصداقت کی راہ اختیار کرنے اور اس راہ میں طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کر نے والوں کی تسلی و تسکین کی خاطر یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ قادرِ مطلق ان کامولیٰ، ولی، حامی و ناصر، سرپرست و محافظ،کارساز و مشکل کُشا ہے۔

ارشادِ الٰہی ہے: <<وَكَفٰى بِاللہِ وَلِيًّا۝۰ۤۡ وَّكَفٰى بِاللہِ نَصِيْرًا۝۴۵( النساء۴:۴۵) ’’ اللہ ہی تمھارا ولی ، حامی و مددگار ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝۰ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا۝۳ (الاحزاب ۳۳:۳)>> ’’اور اللہ پر بھروسا کرو ،وہ تمھارا کارساز ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ <<وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۝۰ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۝۰ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۝۷۸ۧ (الحج۲۲:۷۸)>> ’’اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلو، وہی تمھارا حقیقی مولیٰ و سرپرست ہے،کیا ہی خوب مولیٰ ہے وہ اور کیا ہی خوب مدد گار ہے وہ‘‘۔

منقولہ بالا سورۂ احزاب کی آیت ۳ کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجا نا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے۔اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے،بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیلِ ارشاد کرنی چاہیے۔اللہ اس کے لیے کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے۔وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنما ئی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائجِ بد سے دوچار نہ ہو‘‘۔ (تفہیم القرآن،ج۴، ص۶۹،حاشیہ نمبر ۴)

مفسرین کی تشریح کے مطابق مذکورہ آیت کے خاص مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپؐ کے توسط سے پوری امت ِ مسلمہ اس آیت کی مخاطب ہے، او راُس کا پیغام بالکل عام ہے، اور وہ یہ کہ اللہ قادرِ مطلق جس کا سرپرست، محافظ و حامی ہو، پروردگارِ عالم جس کی حفاظت و نصرت کا وعدہ فرما ئے اور مختارِکُل جس کو اپنے کارساز و مشکل کشا ہونے کا یقین دلائے، تو اسے طمانیت و سکینت کی بیش بہا نعمت میسّر آنا لازمی امر ہے، پھر اسے کس بات کا رنج و غم ہو گا،یا اسے کس چیز کی فکر ہوسکتی ہے؟ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اس آیت سے قبل کی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ قرآن کی پیروی کی جائے جو اللہ علیم و خبیر کا نازل کردہ ہے،یعنی روز مرّہ زندگی ہدایاتِ الٰہی کے مطابق بسر کی جائے اور پھر توکل علی اللہ کیا جائے، تو اللہ تمھاری مد د فرمائے گا، اپنی کارسازی کے کرشمے دکھائے گا اور تمھارے مشکل سے مشکل مسائل حل فرما ئے گا اور تمھیں پریشانیوں سے نجات دے گا۔

سورۂ آل عمران کی آیت ۷۳ا <<(وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۝۱۷۳ )>> کی تفسیر کے ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ قیمتی نکتہ اجاگر کیا ہے : ’’بہترین ہستی جس کو بندہ اپنا معاملہ سپرد کر سکتا ہے،وہ اللہ ہی کی ہستی ہے،تو جس نے اللہ کو اپنا وکیل و معتمدبنایا اب اُس کے لیے کسی خوف و ہراس کی گنجائش کہاں باقی رہی:

کیا غم ہے، اگر ساری خدائی ہو مخالف

کافی ہے، اگر ایک خدا میرے لیے ہے

( تدبّر ِ قرآن، ج۲،ص ۲۱۷)