ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تعمیرِ نو کے منصوبوں میں مختلف موقف
غزہ کا جاری بحران صرف انسانی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ واضح طور پر سیاسی بحران ہے۔ حماس ۲۰۰۷ء سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹوں کے مطابق شفاف ترین انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر غزہ کے حکومتی معاملات چلا رہی ہے، جس کو بنیاد بناکر تعمیرِ نو کی کوششوں کوپیچیدہ بنایا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل حماس کی حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
یہ موضوع سیاسی میدان میں ایک کانٹے دار مسئلہ ہے، کیونکہ تعمیرِ نو کا گہرا تعلق سیاسی رسہ کشی سے ہے جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ہر فریق کے پاس جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے ایک الگ وژن ہے، جو باہم متضاد ہے، جس سے ملبہ ہٹانے کا عمل مستقبل میں ایک ’پراکسی جنگ‘ میں بدل جاتا ہے۔
رام اللہ، القدس، واشنگٹن، برسلز، دوحہ اور قاہرہ کے ایوانوں میں جو سوال گونج رہا ہے وہ یہ نہیں کہ کیا غزہ دوبارہ تعمیر ہوگا؟ بلکہ یہ ہے کہ یہ کیسے دوبارہ تعمیر ہوگا؟ اور کون اسے دوبارہ تعمیر کرے گا؟ اور کس کے اختیار کے تحت یہ تعمیر ہوگا ؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ غزہ کو کس مقصد کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا؟ غزہ کی تعمیرِ نو محض انجینئرنگ یا انسانی چیلنج نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینی عوام کے مستقبل اور قابض فلسطینی اتھارٹی کی کش مکش کے بارے میں ایک ہائی اسٹیکس بات چیت ہے۔
مابعد جنگ کی حقیقت (post-war reality) میں یہ تعین کرنا کہ غزہ میں کس کی حکومت ہوگی، کسی بھی تعمیرِ نو کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل امر ہے۔ عطیہ دینے والے ممالک ضمانتیں چاہتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری دوبارہ تنازع کی وجہ سے تباہ نہ ہو ۔ سرمایہ کاری کے لیے حکمرانی میں استحکام (governance stability) اور حکمرانی کی قانونی حیثیت (governance legitimacy)کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ حکمرانی کی قانونی حیثیت اور اس کا کنٹرول ابھی تک حل طلب ہے۔ حماس سے منسلک کئی سرکاری ملازمین اس ماحول میں بھی عملی کام کر رہے ہیں اگرچہ اسے متنازع قرار دیا جاتا ہے ۔
قابض طاقت کا موقف:قابض اسرائیل غزہ پر فلسطینی اتھارٹی کی دوبارہ حکومت کے سخت خلاف ہے ۔ اسرائیل اسے دہشت گردی کا سہولت کار گردانتا ہے ۔ نیتن یاہو کے حکومتی اتحادی، خصوصاً دائیں بازو کے شدت پسند وزرا کا مطالبہ ہے کہ غزہ کو غیر معینہ مدت کے لیے امن فورس کی حکمرانی میں دے دیا جائے۔ جس میں دوبارہ سے زمینی قبضے اور فلسطینی باشندوں کی بہت بڑی تعداد کو منتشر کرنا ممکن ہو سکے۔ صہیونی حکومت کا اصرار ہے کہ ہر طرح کی تعمیرِ نو کا عمل غزہ کو بے ہتھیار اور غیرعسکری کرنے سے مشروط ہونا چاہیے ، ساتھ ہی حماس کی حکومتی اور عسکری طاقت کو توڑنا بھی ضروری ٹھیرایا جاتا ہے ۔ یہ ایسی شرط ہے جس کا عملی طور پر پورا کیا جانا بہت مشکل اور سیاسی انارکی کو بڑھانے کا سبب بھی ہوگا ۔ اسی طرح قابض یہودیوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو ہونے ہی نہ پائے۔
حماس کا موقف:حماس کو صہیونی ریاست، امریکا، یورپی یونین، اور بین الاقوامی برادری کا ایک بڑا حصہ دہشت گرد تنظیم (terrorist) سمجھتا ہے جو حکومت کرنے کی اہل نہیں ہے، جب کہ شدید فوجی ضربوں کے باوجود، حماس غزہ میں ایک فعال سیاسی اور سماجی قوت کے طور پر موجود ہے اور ہراس کوشش کو ایک وجودی خطرہ سمجھتی ہے جو اسے تعمیرِ نو کے عمل سے باہر کرنا چاہتی ہے یا اس کے حکومتی ڈھانچے کو توڑنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس بات کا امکان موجودہے کہ حماس فلسطینی اتھارٹی کے زیرقیادت یا باہر سے مسلط کی گئی کسی بھی انتظامیہ کے خلاف مزاحمت کرے، اور ان تمام کوششوں میں رکاوٹ ڈالے جنھیں وہ اپنے اختیار کو کمزور کرنے کا سبب سمجھتی ہو ۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ وہ وسائل کو موڑ کر تعمیرِ نو کے عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی طاقت سے کام لینے کی کوشش کرے گی۔ دوسرا یہ کہ غزہ میں اسلامی ریاست کا قیام اس کا وژن ہے، اگرچہ موجودہ حالات میں یہ بہت بعید ہے اور بین الاقوامی مطالبات سے بنیادی طور پر متصادم (at odds) ہے۔
فلسطینی اتھارٹی (PA) کا موقف:فلسطینی اتھارٹی کو موجودہ ریاستی مشنری اس کی ساکھ اور صلاحیت، اور غزہ کے اندر عوامی حمایت کی کمی کے باعث مسترد کرتی ہے۔ غزہ کے بہت سے باشندے اسے محاصرے کا ذمہ دار ٹھیراتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ دشمن کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔
رام اللہ میں کمزور فلسطینی اتھارٹی، جو مغربی کنارے میں بھی قانونی عوامی حیثیت سے محروم ہے، جنگ کے بعد کے مرحلے کو دونوں علاقوں میں فلسطینی عوام کے واحد جائز نمائندے کے طور پر اپنے کردار کی دوبارہ تصدیق کا ایک ممکنہ ذریعہ دیکھتی ہے، اگرچہ اس کا مشن خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ صدر عباس اور ان کے حکومتی عہدے داروں نے ایک’نو تشکیل شدہ‘ (revitalized) فلسطینی اتھارٹی کی تجویز دی ہے جو غزہ میں حکومت سنبھالے، جس میں بین الاقوامی امن فورس بھی موجود ہو تاکہ استحکام بھی ممکن ہو سکے اور یہودی ریاست بھی مطمئن ہوجائے ۔ اس کے باوجود، فلسطینی اتھارٹی کو زبردست چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس کی سیکیورٹی فورسز کمزور ہیں، غزہ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد اس کے اداروں کو بدعنوان اور غیر مؤثر سمجھتی ہے، اور تباہ شدہ پٹی میں مؤثر حکومت کے لیے مالی وسائل اور ضروری عرب سیاسی حمایت سے بھی یہ محروم ہے۔ سیکیورٹی خدمات فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت پر بھی بڑے شکوک و شبہات ہیں۔
امریکا کا موقف:امریکا ایران کے خلاف ’پراکسی جنگ‘ لڑ رہا ہے۔ واشنگٹن اس ’اسرائیل- فلسطین‘ لڑائی کو ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ ایران کے بازو حماس کو توڑنا اور ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو تہران کے ’مزاحمتی محور‘ کو کمزور کرے۔ اس کے برعکس، ایران کے نزدیک امریکا کی اتحادی حکومت کے تحت ایک مستحکم اور خوش حال غزہ میں کوئی مفاد نہیں ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کو نظر انداز کرنے والے کسی بھی انتظام کو سبوتاژ کرنے کے لیے کام کرے گا، شاید باقی ماندہ مسلح گروہوں کی مالی معاونت اور انھیں مسلح کر کے بھی۔
ٹرمپ حکومت اور اس سے قبل بائیڈن حکومت نے ’فلسطینی اتھارٹی کی بحالی‘ کے ماڈل کا ’دو ریاستی حل‘ کے طور پر کھلے عام دفاع کیا ہے۔ اس وژن کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے اور تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد کے وعدے حاصل کرنے کے لیے بڑی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود، امریکی پالیسی سب سے پہلے کانگریس سے جڑی ہوئی ہے، اور دوسری بات یہ کہ صہیونیت نواز لابیوں کے ذریعے اپنے اندرونی سیاسی دباؤ کے تابع ہو کر، صہیونی ریاست کے سیکیورٹی مطالبات کی غیرمتزلزل حمایت سے بھی وابستہ ہے، اور تیسری بات یہ کہ امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے لیے اپنی حمایت کو متوازن بنانے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے تاکہ حماس کو مضبوط کیے بغیر شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، جو کہ تقریباً ناممکن ہے۔
عالمی برادری کا موقف: صہیونی افواہوں کی بنیاد پر، کئی بڑے ڈونرز نے UNRWA (اونروا) کو فنڈنگ روک دی ہے، جس سے بدترین انسانی صورتِ حال میں اس کے آپریشنز مفلوج ہوگئے ہیں۔ وسیع تر عالمی برادری، جس کی نمائندگی یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر کرتے ہیں، عام طور پر دو ریاستی حل اور فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی کی حمایت کرتی ہے، لیکن قابض طاقت کی پابندیوں اور فلسطینی انتشار (Palestinian disunity) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے ایک واضح اور قابل عمل منصوبے کی عدم موجودگی کے سبب مایوس بھی ہے۔
عرب علاقائی قوتوں کا موقف:یہاں جن ممالک کا تذکرہ مقصود ہے وہ مصر، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہیں۔ غزہ کے ساتھ سرحد رکھنے والا مصر عدم استحکام کے پھیلنے اور اس کے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشے پر شدید تشویش محسوس کرتا ہے۔ مصرنے بڑی تعداد میں فلسطینی آبادی کی میزبانی کرتے ہوئے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
جہاں تک قطر کا تعلق ہے، یہ کئی برسوں سے غزہ کے لیے ایک بڑا فنڈ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، جو اکثر حماس کو تنخواہوں اور ایندھن کی ادائیگی کے لیے براہ راست رقم بھیجتا رہا ہے، جس سے یہ ایک فیصلہ کن لیکن متنازع فریق بن جاتا ہے۔
امریکا حالیہ لڑائی سے پہلے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک تاریخی معاہدے میں ثالثی کر رہا تھا۔ اگرچہ جنگ نے ان مذاکرات کو روک دیا، لیکن اس نے ایک نیا تعلق بھی پیدا کیا۔ سعودی عرب نے اب تعلقات کے ایک قابل اعتماد راستے کو فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادی شرط بنا دیا ہے، جس سے ریاض کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات انسانی امداد فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ ’ابراہیم معاہدوں‘ کے ذریعے قابض اسرائیل کے ساتھ اپنے معمول کے معاہدوں پر تیزی سے توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں غزہ کو فنڈ دینے کے لیے کم ہی مائل ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے وژن کے لیے ان کی حمایت اکثر غیر فعال اور مشروط ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کا موقف:اقوام متحدہ، اپنی ایجنسیوں جیسے UNRWA (اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں) کے ذریعے، زمین پر بنیادی انسانی ہمدردی کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود، UNRWA خود جارح قابض اسرائیل اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جانب سے شدید سیاسی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ ان الزامات میں UNRWA کے کچھ ملازمین کا ۷؍ اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونا شامل ہے، تاہم یہ الزامات ابھی تک تحقیق طلب ہیں۔