مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی تہذیب کا زوال

بارھویں صدی سے اسلامی حکومت کا زوال شروع ہوا جو بتدریج بڑھتا چلا گیا۔ اس تنزلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان یکسر اپنے معاشی ورثہ سے بے خبر ہوگئے۔ ۱۲۵۸ء میں ہلاکوخان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی نے اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ آنے والے وقتوں میں تین بڑی اسلامی حکومتیں ترکیہ، ایران اور ہندوستان میں قائم ہوئیں مگر اسلامی معاشی نظام کی دریافت نہ ہوسکی۔ اسی اثناء میں یورپ میں سود کا کاروبار بڑی تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ ترکیہ نے سود کے کاروبار کو روکنے کے لیے اسلامی طرزِ تجارت مرابحہ کا استعمال کیا۔ مرابحہ میں خریدار کو اشیاء کی لاگت اور اس پر لیا جانے والا منافع بتاناضروری ہوتا ہے۔ مورات سی ذاکا کے مطابق ترکیہ حکومت لاگت پر لیے جانے والے منافع کا اعلان کرتی اور تاجر اسی کے مطابق اشیاء مرابحہ پر فروخت کرتے تھے۔ ہندوستان اور ایران میں اسلامی طرزِ تجارت (مضاربہ اور مرابحہ) فروغ نہ پاسکا اورساری تجارت مقامی طور طریقوں کے مطابق تھی جس میں سود کا کاروبار بھی شامل تھا۔

یکم جولائی ۱۹۴۸ء میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بانی ٔپاکستان محمد علی جناح ؒنے مغربی معاشی نظام کو رَد کرتے ہوئے مساوات اور عدل پر مبنی اسلامی معاشی نظام کی بات کی تھی مگر اس پر کام نہ ہوسکا۔ یہی سمجھا گیا کہ یہ صرف اسٹیٹ بنک کی ہی ذمہ داری ہے۔ کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم سرمایہ داری نظام پر مشتمل رہی اور مذہبی جماعتوں کے تبلیغی پروگرام اور دوسرے اجتماعات بھی اسلامی طرزِ تجارت سے دُور رہے۔ ۱۹۸۵ء سے پاکستان میں اسلامی بنکاری کا آغاز ہوا تو لوگ مشارکہ ، مضاربہ اور مرابحہ کے ناموں سے واقف ہوئے مگر حقیقی تجارتی شعبہ میں تاجروں اور کاروباری لوگوں نے اسلامی طرزِ تجارت کو نہیں اپنایا۔ کیونکہ ہمارا سارا جوش و جذبہ اسلامی بنکاری کے بارے میں تھا۔