ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اللہ کی ناراضی سے بچنا
دوسری جانب جو لوگ کسی انسان یا اپنے گھر والوں اور قریبی لوگوں کو خوش کرنے کی خاطر اللہ کی ناراضی مول لیتے ہیں،یعنی نا حق بات کہتے ہیں اور اللہ کی نافرمانی کے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ یقینا اس کے بدترین انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے مطابق اللہ انھیں لوگوں کے حوالے کردیتا ہے، یعنی جن کو وہ خوش کرنے کی فکر میں ہوتا ہے، پھر وہ لوگ انھیں تکلیف دینے کے درپہ ہوجاتے ہیں،انھیں ایذا رسانی کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کے لیے طرح طرح کے مشکل مسائل کھڑے کرتے ہیں ( اللہ ہمیں نا حق باتوں اور گناہ کے کاموں سے بچنے کی توفیق عنایت فرما ئے اور اپنی رضا نصیب کر ے )۔ ہمیں یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں بار بار انسان کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے اور اللہ کی نافرمانی کے کاموں سے اپنے کو دُور رکھے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نیکی کی ر اہ میں تگ و دو کرے۔ کسی انسان کو خوش رکھنے کے لیے یا اس کی ناراضی کے ڈر سے وہ غلط حرکتوں و بُرے اعمال میں ہرگز ملوث نہ ہو جو ربِّ کریم کو نارا ض کرنے والے ہیں،اور اسی کے ساتھ یہ نکتہ بھی ہمیں اچھی طرح اپنے ذہن میں بٹھالینا چاہیے کہ اللہ سب سے زیادہ اس کا حق دار ہے کہ اس کا تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی اطاعت کی ر ا ہ اختیار کر کے اس کی رضا حاصل کرنے میں ہمہ تن مصروف رہا جائے۔
ارشاد ربّانی ہے: <<فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ( المائدۃ۵:۴۴)>>’’پس لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو‘‘۔ <<فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۱۳ (التوبۃ ۹:۱۳)>> ’’پس اللہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ تم لوگ اس سے ڈرو، اگر تم (سچے )مومن ہو‘‘۔ یہاں یہ واضح رہے کہ یہ اور اِس نوع کی دیگر آیات خاص طور سے اِس پس منظر میں آئی ہیں جس میں لوگ کسی شخص یا لوگوں کو خوش کرنے یا ان کی خفگی سے بچنے کی خاطر ایسے کام کرتے تھے جو اللہ کی ناراضی کاباعث بنتے تھے۔
اسی ضمن میں یہ اضافہ بھی مفید معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ آل عمران کی آیت۱۷۵( جس میں اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ شیطان دین کی خاطر جان و مال کی قربانی کے موقع پر اپنے انسانی دوستو ں یا ہم نوائوں سے ڈراتا ہے، پس تم لوگ ان سے نہ ڈرو،مجھ سے ڈرو ) کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے خوفِ الٰہی سے متعلق یہ قیمتی نکتہ واشگاف کیا ہے کہ ’’ خوفِ خدا رونے اور آنسو پونچھنے کا نام نہیں،بلکہ اللہ سے ڈرنے والا وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس پر اللہ کی طرف سے عذاب کا خطرہ ہو‘‘ (معارف القرآن،ج۲، ص۲۴۴ )
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ درحقیقت اللہ سے ڈرنا اسی وقت ہوگا جب اس کے ثمرہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچا جائے یا گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ معصیت اور گناہ کے کام اللہ کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں، تو پھر جو بندئہ مومن اللہ کی گرفت یا اس کے عذاب سے ڈرے گا تو وہ اس کے اثر سے نیکی کمانے میں تگ ودو کر ے گا اور بُرے اعمال یا گناہ کے کاموں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اس لیے اللہ کی رضا (جو اس کا مقصودِ اصلی ہے) کی طلب کے لیے اللہ کی اطاعت میں مصروف رہنا اور گناہ یعنی اللہ کی ہرقسم کی نافرمانی سے دُور رہنا ضروری ہے ۔ یہ نکتہ کہ ایک مومن کی زندگی میں خوفِ الٰہی کا اصل نتیجہ اللہ تعا لیٰ کی اطاعت میں سبقت لے جانااور گناہ سے پرہیز کرنا ہے، اُن آیات سے واضح ہوتا ہے جن میں مومنین و صالحین کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ روز مرّہ زندگی میں احکامِ الٰہی پر کاربند رہتے ہیں اور روزِ جزا اللہ کے حضور حاضری اور محاسبۂ اعمال سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (التوبۃ ۹:۱۸، الرعد ۱۳:۲۰-۲۱، المؤمنون ۲۳: ۵۷-۶۰، النّٰزعٰت۷۹: ۴۰-۴۱، الرحمٰن۵۵:۴۶ )
اُن آیات سے اس نکتہ کی مزید وضاحت ہو تی ہے جن میں صالحین یا نیکو کاروں کو جنت نصیب ہونے اور اس میں نہایت سکون وفرحت بخش سکونت میسر آنے کی بشار ت دی گئی ہے، اُن کی دُنیوی زندگی کے احوال میں خاص طور سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک کام کرنے کی ہمہ تن کوشش میں حد درجہ محتاط زندگی گزارتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اُن سے اللہ کی نافرمانی نہ سر زد ہوجائے اور اِس فکر و کوشش میںلگے رہتے تھے کہ اُن سے جان بوجھ کر گناہ کا کوئی کام نہ صادر ہونے پا ئے۔ (قٓ۵۰:۳۱-۳۴،الطّور۵۲:۵۲۔۲۸؛ الدھر۷۶:۶-۱۱)
مختصراً یہ کہ قرآن و حدیث کا بہت ہی واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مومن کی زندگی کا مقصودِ اصلی ہے۔یہ مقصود اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی دل ودماغ میں پوری طرح نقش ہو جائے،بعث بعد الموت پر ایمان کو تازہ رکھا جائے،اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور محاسبہ کی گھڑی کو ہردم یاد رکھا جائے اور ربِّ ذی الجلال کی خشیت سے دل کو معمور رکھا جائے۔ اس کی نافرمانی اور گنا ہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے اور ربِّ کریم کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کی خاطر ہر شعبۂ حیات میں اس کے رسول محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ یہی طرزِ عمل اختیار کرنے پر ہم سب کو اللہ ربّ العالمین کی خوشنودی نصیب ہو گی، اور اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے مسائل حل ہوں گے اورہماری دُنیا و آخرت کی مشکلات دُور ہوں گی۔ ہم خود بھی یاد رکھیں اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے رہیں کہ عظیم ترین کتابِ ہدایت نے کئی مقام پر انسان کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور ہرانسان کے ذہن میں یہ نکتہ جاگزیں کرنا چاہاہے کہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے ،اور وہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اُن لوگوں کا طرزِ عمل نہ اختیار کیا جا ئے جو اللہ سے زیادہ کسی انسان سے یا لوگوں سے ڈرتے ہیں۔واقعہ یہ کہ اگر ہر بات اور ہر کام کے وقت ان نکات کو ہم اچھی طرح یاد رکھیں تو ہم قرآن و سنت کے مطابق شب و روز بسر کرنے والے بن سکیں گے، ربِّ کریم کے نیک و فرماں بردار بندوں میں شامل ہوسکیں گے، نیکی کی طرف سبقت کر نا اور برائی یا گناہ سے بچتے رہنا ہمارا معمول بن سکے گا۔ اللہ کرے ہمیں اس کی توفیق نصیب ہو اور اس کے صلہ میں ہماری دنیوی زندگی خوش گوار ہو جائے اور آخرت میں ہم سب حقیقی فوز وفلاح سے ہم کنار ہوں۔