مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اطاعت کا مفہوم

اطاعت، لغت میں فرماںبرداری اور حکم بجا لانے کو کہتے ہیں۔ لفظ ’اطاعت‘ کا اصل مادہ ط-و-ع ہے (طوع ، اطاع ، یطیع ، أطاعۃً وھو مطیع وغیرہ)۔ یہ عربی زبان کا نہایت بامعنی مادہ ہے جس میں اطاعت، رضا، نرمی، خوشی سے ماننا اور آسانی سے قبول کرنا جیسے مفاہیم پائے جاتے ہیں:

<<ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَہِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْہًا۝۰ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۝۱۱ (حم السجدۃ۴۱:۱۱)>> پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا:’’ وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو‘‘۔ دونوں نے کہا:’’ ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح‘‘۔

<< اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ۝۰ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِہِمَا۝۰ۭ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا۝۰ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ۝۱۵۸(البقرہ ۲:۱۵۸)>>یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے یہ گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کرےاور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔

گویا اطاعت کے معنی خوش دلی، رضا اور اختیار کے ساتھ کسی حکم کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اطاعت کا مفہوم، اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ضمن میں اُولی الامر یا جماعتی نظم و قیادت کے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرکے ان کی اطاعت کرنا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی تحریک، چاہے وہ دینی ہو یا دنیوی، اپنے مقصد کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی، جب تک اس کے کارکنان میں نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم نہ ہو۔ اگر ایک فوج کے سپاہی اپنی مرضی کرنے لگیں، یا ایک کارخانے کے مزدور نظم کو توڑ دیں، تو نتیجہ تباہی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ پھر بھلا اقامت ِدین کی عظیم تحریک بغیر نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم کے کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟فرمانِ الٰہی ہے:

<<وَاذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَہُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِہٖٓ۝۰ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۡ (المائدہ۵:۷)>> یاد کرو اللہ کے اس انعام کو اور اس پختہ عہد کو جس کو تم نے پختگی سے باندھتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

یہ <<سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا>> محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ ایک ایمانی رویہ ہے۔ ایک میثاق، یعنی پختہ عہد ہے، ایک طرزِ زندگی ہے اور یہی اطاعتِ نظم کی اساس ہے۔ قرآن مجید نے بار بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عملی عہد ہے۔ <<سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا>> دراصل مؤمن کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ ایمان والے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سن کر اپنے اختیار کو اللہ کی اطاعت کے تابع کر دیتے ہیں۔ یہاں سَمِعْنَا صرف سماعت نہیں بلکہ قبولیت کا اعلان ہے، اور اَطَعْنَا صرف رسمی اطاعت نہیں بلکہ دل کی رضامندی اور عملی پیروی ہے۔ گویا یہ ایمان کے حقیقی تقاضے اور بندگی کی علامت ہیں۔