مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بے روزگاری کا خاتمہ بذریعہ ’مضاربہ‘

[محمد منیر احمد | جنوری ۲۰۲۶ | نظامِ حیات] عام طور پر ہم اس حقیقت سے بڑی حد تک بے خبر ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں معاشی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نئی مارکیٹ بنائی تھی۔ اس وقت مدینہ میں یہودیوں کے چار بازار تھے جن میں تجارت، دھوکا دہی اور لوٹ کھسوٹ عام تھی۔ ہجرت کے وقت مدینہ کےانصار اور مکّہ سے آنے والے مہاجر مسلمان اس حالت میں نہیں تھے کہ یہودیوں کے چار مستحکم بازاروں کے مقابلے میں نئی مارکیٹ قائم کرسکیں مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نئی مارکیٹ ایک بڑے خیمہ کے نیچے لگائی اور فلاح پر مبنی تجارت کا آغاز کیا۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ خیمہ والی مارکیٹ نے تھوڑے ہی عرصہ میں کامیابی حاصل کرلی اور تاجر اور خریدار پہلے سے قائم شدہ بازاروں سے نقل مکانی کرکے خیمہ والی مارکیٹ میں آگئے۔

حضرت عمرؓ کے دور میں ایرانی اور رومی حکومت کی شکست کے بعد اسلامی ریاست مستحکم ہوئی تو اٹلی، اسپین اور فرانس سے تاجر مکہ اور مدینہ آئے۔ یورپ کے تاجر اسلامی طرزِ تجارت سے بہت مرعوب ہوئے، خاص طور پر صرف عرب میں رائج مضاربہ کے تحت تجارت شروع کر دی جو کچھ عرصہ کے بعد سارے یورپ میں پھیل گئی۔ تاریخی شواہد تو یہاںتک بتاتے ہیں کہ بارھویں، تیرھویں صدی میں یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا بڑا ہاتھ تھا۔

درج ذیل مضمون میں ہم مضاربہ کی حقیقت قارئین کی نذر کریں گے اور پاکستانی تجارت میں مضاربہ کی ممکنہ بحالی کا جائزہ لیں گے۔