مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اطاعت امیر اور صحابہ کرام ؓ

صحابہ کرامؓ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی تھی اور وہ نہ صرف اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کی اطاعت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ معروف میں امیر کی بھی پوری طرح اطاعت کرتے تھے۔ چند واقعات تو انتہائی متاثر کن ہیں، مثلاً غزوۂ تبوک میں صرف سُستی کی بناپر پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کا واقعہ پوری جماعت صحابہؓ کی اطاعت ِ نظم کی حیرت انگیز مثال ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے: <<وَّعَلَي الثَّلٰثَۃِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّآ اِلَيْہِ۝۰ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ لِيَتُوْبُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝۱۱۸ (التوبہ۹:۱۱۸)>> ’’اور اُن تینوں کو بھی اُس نے معاف کیا جن کے معاملے کو ملتوی کر دیا گیا تھا ۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجوداُن پر تنگ ہوگئی اور اُن کی اپنی جانیں بھی اُن پر بار ہو نے لگیں اور انھوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامنِ رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے اُن کی طرف پلٹا تاکہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں ، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: یہ تینوں صاحب کَعب بن مالک ، ہلال بن اُمیّہ اور مُرارہ بن رُبیع رضی اللہ عنہم تھے۔ تینوں سچے مومن تھے۔ اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخرالذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے جن کی صداقتِ ایمانی ہرشبہ سے بالاتر تھی۔ اور اول الذکر بزرگ اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بد رکے سوا ہرغزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود اس نازک موقع پر، جب کہ تمام قابلِ جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لیے نکل آنے کا حکم دیاگیا تھا ، جو سُستی ان حضرات نے دکھائی اُس پر سخت گرفت کی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپس تشریف لاکر مسلمانوں کو حکم دیا کہ کوئی ان سے سلام کلام نہ کرے ۔ ۴۰ دن کے بعدان کی بیویوں کو بھی ان سے الگ رہنے کی تاکید کردی گئی۔ فی الواقع مدینہ کی بستی میں ان کا وہی حال ہو گیا تھاجس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے۔ آخرکار جب ان کے مقاطعہ کو ۵۰ دن ہو گئے تب معانی کا حکم نازل ہوا…

جماعت کو دیکھیے تو اس کے ڈسپلن اور اس کی صالح اخلاقی اسپرٹ پر انسان عش عش کر جاتا ہے۔ ڈسپلن کا یہ حال کہ اُدھر لیڈر کی زبان سے بائیکاٹ کا حکم نکلا اِدھر پوری جماعت نے معتوب سے نگاہیں پھیر لیں ۔ جلوت تو در کنار خلوت تک میں کوئی قریب سے قریب رشتہ دار اور کوئی گہرے سے گہرا دوست بھی اس سے بات نہیں کرتا۔ بیوی تک اس سے الگ ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ کا واسطہ دے دے کر پوچھتا ہے کہ میرے خلوص میں تو تم کو شبہ نہیں ہے، مگر وہ لوگ بھی جو مدت العمر سے اس کو مخلص جانتے تھے، صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے نہیں، اللہ اوراس کے رسولؐ سے اپنے خلوص کی سند حاصل کرو ۔ دوسری طرف اخلاقی اسپرٹ اتنی بلند اور پاکیزہ کہ ایک شخص کی چڑھی ہوئی کمان اُترتے ہی مُردار خوروں کا کوئی گروہ اس کا گوشت نوچنےاور اسے پھاڑ کھانے کےلیے نہیں لپکتا، بلکہ اس پورے زمانۂ عتاب میں جماعت کا ایک ایک فرد اپنے اس معتوب بھائی کی مصیبت پر رنجیدہ اوراس کو پھرسے اٹھا کر گلے لگانے کےلیے بے تاب رہتا ہے اور معافی کاا علان ہوتے ہی لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ جلدی سے جلدی پہنچ کر اس سے ملیں اور اسے خوش خبری پہنچائیں۔ یہ نمونہ ہےاُس صالح جماعت کا جسے قرآن دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے ۔ (تفہیم القرآن، دوم، سیّد مودودی، حاشیہ ۱۱۹)

یعنی زیرِعتاب فرد نے بھی دل سے اطاعت کی اور پوری جماعت نے بھی ڈسپلن کی مکمل پابندی کی۔ مشکل ترین حالات میں بھی ایمان اور باہمی محبت قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ ایمان و باہمی محبت اور ہمدردی کی اس فضا میں غیبت، نجویٰ اور بددلی کی بُو تک نہ پائی گئی۔