ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلام سے پہلے عربوں کی معاشی زندگی
عرب میں تجارت اپنی تمام تر اشکال میں موجود تھی۔ سود پر رقم اُدھار دینے کے ساتھ ساتھ نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت (Partnership) کے بھی کئی طریقے موجود تھے۔ مضاربہ ایک ایسی ہی شراکت پر مبنی کاروبار تھا جو دُنیائے عرب کے علاوہ کہیں بھی موجود نہ تھا۔ یہ تجارت ایسے دوافراد کے درمیان ہوتی جن میں ایک کے پاس سرمایہ ہوتا اور دوسرے کے پاس محنت اور ہنر۔ سادہ الفاظ میں یہ سرمائے اور محنت کا خوب صورت امتزاج تھا جو معاشی جدوجہد کو جنم دیتا۔ تجارت کا نفع پہلے سے طے شدہ فارمولا کے مطابق تقسیم کرلیا جاتا، جب کہ نقصان سرمایہ فراہم کرنے والا شخص (جسے ربّ المال کہتے تھے) برداشت کرتا کیونکہ محنت کرنے والا ساتھی (مضارب) تو پہلے ہی سرمایہ کے بغیر تھا۔ تجارت میں سچائی کے فروغ کے لیے مضاربہ بہت ہی کارآمد تجارتی طریقہ تھا۔ غیرذمہ داری اور بددیانتی سے کام کرنے والا مضارب سرمایہ فراہم کرنے والے (Capital Provider) لوگوں کا اعتماد کھو کر مزید کاروباری مواقعوں سے محروم ہوجاتا۔ اس کے برعکس بار بار منافع کمانے والا سچّا مضارب ایسے اشخاص کی توجہ کا مرکز بن جاتا جن کے پاس سرمایہ تو ہوتا مگر وہ کسی وجہ کی بناپر خودتجارت کرنے سے قاصر ہوتے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی کاروباری زندگی کا آغاز کیا تو حضرت خدیجہؓ نے اپنا مالِ تجارت مضاربہ کے تحت فروخت کرنے کے لیے آپؐ کو دیا کیونکہ اس وقت مکہ میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے جانے جاتے تھے۔اس طریقۂ کاروبار کے باعث مکہ کے تقریباً تمام باشندے بین الاقوامی تجارتی قافلوں میں حصہ لیتے اور نفع کماتے۔ جنگ ِ بدر کے لیے قریش کی بلاپس و پیش آمادگی کی ایک بڑی وجہ ایسے ہی تجارتی قافلے کو مسلمانوں کے روکنے کی خبر تھی جس میں اہل مکہ کا مال لگا ہوا تھا۔
مضاربہ کے علاوہ ایسے سودوں کی بھی مثالیں ملتی ہیں جنھیں ہم آج کی زبان میں Forward Sale/Purchase کہتے ہیں۔ اُونٹنی کے پیٹ میں موجود unborn child کو بنیاد بناکر عرب ایسا سودا کرلیتے جس کی ادائیگی مستقبل میں کی جاتی، مثلاً یہ طے کر لیا جاتا کہ اس سودے (deal) کی ادائیگی اُونٹنی کے بچّے کی پیدائش کے بعد اسے بیچ کر کی جائے گی۔
عربی زبان میں ایسے لین دین کو ’حبل الحبلہ‘ کہتے ہیں۔ دورِحاضر میں یہ تجارت Asset Backed Securities (ABS) کی مانند ہے جس میں ایک غیرسیال (Non-Liquid Assest) اثاثے کو بنیاد بنا کر ایک کاروبار کیا جاتا ہے۔ اسلام کے ظہور کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تجارت سے منع کر دیا کیونکہ اس میں بہت زیادہ رسک (Risk) اور غیر یقینی صورت ہوسکتی ہے۔
بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ۱۴۰۰ برس قبل مکّہ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز تھا۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لیے آنے والے زائرین اور حاجی مذہبی رسومات کے علاوہ چھوٹی موٹی تجارت بھی کرلیتے۔ عکاظ ایک ایسی ہی بڑی مارکیٹ تھی جس میں ہروقت تاجروں کا ہجوم رہتا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مارکیٹ میں دو مقاصد کے لیے گئے: نبوت سے پہلے تجارت کی خاطر اور نبوت کے بعد تبلیغ کے لیے۔ کیونکہ عرب کے دُور دراز علاقوں کے لوگ یہاں موجود رہتے۔ یہ مکّہ کی گھریلو تجارت تھی۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے بڑے بڑے قافلے تیار کیے جاتے جن میں اُونٹوں کی تعداد ۲۵۰۰ تک بیان کی جاتی ہے جو مختلف اشیاء سے لدے ہوتے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ایسے کاروان میں شرکت کرتے اور مختلف قسم کے فرائض سرانجام دیتے، مثلاً حساب کتاب، جانوروں اور انسانوں کی خوراک کا انتظام اور دوسرے انتظامی اُمور۔ سفر کے دوران قیام کے مقام طے تھے۔ پڑائو کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا جو آبادی کے نزدیک ہوں اور پانی و خوراک کی دستیابی آسان ہو۔ قافلے کے قیام سے وہ جگہ عارضی منڈی یا میلے کی سی شکل اختیار کرلیتی۔