ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
غزوۂ ذات السلاسل – اطاعتِ نظم کا سبق
ایمان، قربانی اور اطاعتِ نظم کا حسین امتزاج پوری طرح جگمگاتا اس واقعے میں نظر آتا ہے۔ غزوہ ذات السلاسل، ۸ ہجری میں پیش آیا۔شام کی سرحدوں پر قبیلہ قضاعہ اور دیگر دشمن قبائل مسلمانوں کے خلاف لشکر تیار کر رہے تھے۔ مدینہ کے امن کو خطرہ لاحق تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جواں سال صحابی عمرو بن العاصؓ کو تین سو جانبازوں کے ساتھ ان کی سرکوبی کے لیےبھیجا۔ اس لشکر میں ابوبکر صدیق، عمربن الخطاب، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اصحاب بھی شامل تھے۔ یہ عمرو بن العاصؓ کی پہلی بڑی سپہ سالاری تھی۔ دشمن قریب آیا تو اندازہ ہوا کہ وہ کثیر تعداد میں ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کمک کی درخواست کی۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور لشکر بھیجا جس کی قیادت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے سپرد کی۔ جب یہ لشکر عمرو بن العاصؓ کے ساتھ جاملا تو سوال کھڑا ہوا: اب امیر کون ہوگا؟ کیونکہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسے کہنہ مشق کمانڈر ِلشکر بھی موجود تھے، لیکن رسولؐ اللہ کا فرمان تھا کہ جب لشکر ملے تو عمروؓ ہی امیررہیں گے۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کوئی تردّد نہ کیا، فوراً عمرو بن العاصؓ کی اطاعت قبول کی اور نظم کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بنے۔
میدان میں پڑاؤ ڈالا گیا۔ سخت سردی تھی۔ صحابہؓ نے کہا: ’’آگ جلائی جائے تاکہ کھانے پکیں اور گرمی حاصل ہو‘‘۔ لیکن عمرو بن العاصؓ نے کسی کو آگ جلانے کی اجازت نہیں دی ۔ کئی صحابہؓ کے دل میں یہ فیصلہ سخت ناگوار گزرا۔ مگر حکمِ امیر کے سامنے سب نے صبر کیا۔ رات اندھیرے اور سردی میں کٹ گئی( امیرلشکر عمرو بن العاص ؓ جانتے تھے کہ اگر آگ جلائی گئی تو دشمن ہماری کم تعداد دیکھ لے گا اور حملہ کر دے گا۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر مشکل تھا، لیکن دراصل یہ لشکر کو بچانے کی حکمت عملی تھی)۔
غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں خود عمرو بن العاصؓ کو احتلام ہو گیا اور وہ تیمم کر کے فجر پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ بعض صحابہؓ اس پر بہت جزبز ہوئے لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کمانڈر میں ہوں، لہٰذا امامت میں ہی کراؤں گا۔ جنگ ہوئی، مسلمانوں کے قلیل لشکر نے فتح پائی، دشمن کے قبائل بکھر گئے۔ کچھ صحابہؓ نے کہا کہ دشمن کا پیچھا کریں لیکن عمرو بن العاصؓ نے یہ رائے تسلیم نہ کی اور لشکر کو واپس جانے کا حکم دیا ۔ کچھ صحابہؓ نے یہ فیصلہ بھی ناپسند کیا، مگر اطاعت کی۔
جب لشکر واپس آیا تو کچھ صحابہؓ نے ان فیصلوں کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی صورت میں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاصؓ سے وضاحت طلب کی۔ انھوں نے وضاحت پیش کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام تدابیر کو درست قرار دیا اور فرمایا کہ امیر کی اطاعت ضروری ہے۔ خاص طور پر تیمم اور نماز پڑھانے کے واقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو ! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا : ’’میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ <<وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًـا۲۹ (النساء ۴:۲۹)>> ’’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے‘‘۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور عمر بن العاصؓ کو کچھ نہیں کہا۔ (ابوداؤد :۳۳۴)
یہ واقعہ ہمیں تین روشن سبق دیتا ہے:
امیر کی اطاعت: اگر عمر اور مرتبے میں بڑے اصحاب کی موجودگی میں ایک کم عمر کو امیر بنا دیا جائے تو تب بھی اطاعت واجب ہے۔ بلکہ نبی کریم ؐ کا فرمان تو یہاں تک ہے کہ ’’سنو اور اطاعت کرو چاہے تمھارے اوپر کوئی حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے اور اس کا سر منقیٰ کی مانند ہو‘‘۔ (صحیح البخاری)
فیصلوں کی حکمت: بعض اوقات قیادت کے فیصلے افراد کی سمجھ میں نہیں آتے، لیکن وہی جماعت کی مضبوطی اور حفاظت کا سبب بنتے ہیں۔ اگر کبھی فیصلوں کی حکمت اس لیے سمجھ میں نہ آئے تب بھی اطاعت ضروری ہے۔
نظم کا تحفظ: اطاعتِ نظم کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ قوت ہے جو ایک چھوٹے لشکر کو بڑے دشمن پر غالب کر دیتی ہے۔ یہی وہ اطاعت ہے جو جماعت کو کامیاب کرتی ہے، یہی وہ نظم ہے جو کمزور کو طاقت ور بناتا ہے، اور یہی وہ راز ہے جو امت کو عروج بخشتا ہے۔
آج کے اس دورِ پُرفتن میں امتِ مسلمہ ایک ہمہ گیر یلغار کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف عالمی فوجی قوتوں نے ہمارے ملکوں کو کمزور کر دیا ہے۔ دوسری طرف تہذیبی اور فکری حملوں نے ہماری نئی نسل کے ایمان اور اخلاق کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ہماری صفیں کمزور ہوں، اور ہم منتشر اور بے نظم ہوں، تو ہم دشمن کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکیں گے۔
اسلامی تحریکات میں جب بعض اوقات کارکنان کی اطاعت میں کمزوری سامنے آتی ہے، تو یہ تحریک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔