ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے
غزہ کی تعمیرِ نو اور اس کی مستقبل کی حکمرانی کے لیے مختلف بین الاقوامی تجاویز اور منصوبے ہیں، جن میں سب سے پرانا متنازعہ ’دی گریٹ ٹرسٹ پلان‘ ہے جو امریکی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک ہے، اور پھر اب اس میں سرفہرست ۲۱ نکات پر مشتمل امریکا کا منصوبہ اور مربوط بحالی کی کوششیں ہیں جو عرب لیگ، بین الاقوامی برادری اور کثیر جہتی تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔
عظیم اعتماد منصوبہ (Great Trust Plan):یہ سب سے پرانا اور سب سے زیادہ بنیاد پرست منصوبہ ہے اور اس کی جڑیں ٹرمپ انتظامیہ اور قابض صہیونی ریاست کے بعض سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی تجاویز میں موجود ہیں۔ اس منصوبے نے بنیادی ڈھانچے پر اپنے مختلف نقطۂ نظر کی وجہ سے سنگین تنازع کھڑا کیا ہے۔یعنی :
براہ راست دس سالہ امریکی حکمرانی: جس کا مزعومہ ہدف جامع ترقیاتی منصوبوں اور شہری علاقوں کی تعمیرِ نو کو نافذ کرنا ہے۔
آبادی کی منتقلی (Population relocation): اس منصوبے میں، متنازع طور پر، غزہ کے رہائشیوں کی رضاکارانہ منتقلی کے بعد نئے شہروں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جسے ناقدین جبری نقل مکانی جتنا ہی خطرناک سمجھتے ہیں۔
اقتصادی تنظیم نو: جامع بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو غزہ کے ایک خصوصی علاقے کے وژن کے ساتھ جوڑتی ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے زیرِ اثر ہو ۔
ناقدین ’عظیم اعتماد منصوبے‘ کو حقیقی تعمیرِ نو کے بجائے آبادی کو بے دخل کرنے کا ایک خاکہ سمجھتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ یہ فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرے گا، اور ترقی اور سلامتی کے پردے میں انسانی بحرانوں کو جنم دے گا۔ مقامی مخالفت اور جغرافیائی سیاسی پیچیدگیاں اس کی عملیت اور اخلاقی بنیادوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔
۲۱ نکاتی امریکی منصوبہ:یہ مزعومہ سیاسی اصلاحات کے ساتھ تعمیرِ نو کا ایک وژن ہے۔ اس منصوبے کو غزہ کے مستقبل کے لیے سب سے زیادہ تفصیلی فریم ورک میں سے ایک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ کئی اہم اصولوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے:
کوئی جبری نقل مکانی نہیں: غزہ کے جو باشندے جانا چاہتے ہیں وہ ایسا کرسکتے ہیں، لیکن ان کی واپسی کا حق بھی یقینی ہے، اور یہ عمدہ توازن ہے جو انفرادی انتخاب اور اجتماعی حقوق کا احترام کرتا ہے۔
حماس کو حکومت سے ہٹانا: اس منصوبے میں غزہ کی قیادت کے لیے امن اور بقائے باہمی کے عزم کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جو حماس کو اقتدار سے خارج کرتا ہے۔
عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (Temporary International Stabilization Force): یہ فورس فلسطینی پولیس کی تربیت کی نگرانی کرے گی اور غزہ میں عبوری مرحلے کے دوران سلامتی اور استحکام فراہم کرے گی۔
اسرائیل کا تدریجی انخلا (Gradual Withdrawal): اس منصوبے میں قابض اسرائیل کے زیرکنٹرول غزہ کے علاقوں کو بتدریج واپس کرنے کا تصور دیا گیا ہے۔
اقتصادی بحالی (Economic revitalization): پائیدار ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے کم کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز کا قیام۔
فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ (Pathway to statehood): ضروری ہے کہ یہ منصوبہ تعمیرِ نو کو بالآخر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم کے طور پر پیش کرے، اسی طرح سیاسی اصلاحات اور سیکورٹی ضمانتیں بھی فراہم کرے۔
یہ منصوبہ امریکی انتظامیہ کے سیکورٹی خدشات اور انسانی و سیاسی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا عکاس ہے۔ تاہم، غزہ کے رہائشیوں اور عالمی برادری کے درمیان اعتماد سازی اب بھی ایک مشکل کام ہے۔
عرب لیگ اور مربوط بحالی کی کوششیں: اس کے علاوہ، عرب لیگ اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے مربوط منصوبے پیش کیے ہیں جو چیلنجوں کے پیش نظر تعاون کے فریم ورک میں بحالی (recovery)، سیاسی اصلاحات اور انسانی امداد پر توجہ مرکوز کرتے ہیں:
محاصرہ اٹھانا: عرب ممالک تعمیر نو میں آسانی کے لیے امداد جمع کرنے کے لیے اسرائیلی پابندیوں میں نرمی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
سیاسی اصلاحات: کئی عرب تجاویز غزہ میں نیا حکومتی ڈھانچہ بنانے کا مطالبہ کرتی ہیں جو فلسطینی خودمختاری اور استحکام پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
کثیرجہتی فنڈنگ: اقوام متحدہ، عالمی ایجنسیوں اور عرب ممالک کے درمیان رابطہ کاری کا مقصد بحالی کے لیے ضروری وسائل جمع کرنا ہے۔
چیلنجز: ان کوششوں کو تشدد کا جاری رہنا، سیاسی تقسیم، عطیہ دہندگان کی تھکاوٹ (donor fatigue)، اور بنیادی ڈھانچے کی وقتاً فوقتاً تباہی جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
عربوں کی ساکھ کی بحالی: ان رکاوٹوں کے باوجود، عرب لیگ کا وژن غزہ کی تعمیر نو پر ایک ایسے طریقے سے توجہ مرکوز کرتا ہے جو اس کے باشندوں کے حقوق اور امنگوں کا احترام کرتا ہو، اور ان کی عزت اور معمول کی زندگی کی بحالی کے لیے کوشاں رہے۔