ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مومن کی زندگی کا نصب العین
[ڈاکٹر ظفرالاسلام اصلاحی | جنوری ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت] خاتم المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم کی تورات میں نازل شدہ صفات کو بیان فرماتے ہوئے ا للہ ربّ العزت کا ارشاد ہے: <<تَرٰىہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا۰ۡ (الفتح ۴۸:۲۹)>> ’’تم انھیں دیکھو گے رکوع و سجدہ کرتے ہوئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے‘‘۔
اِس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تحریر کیا :’’ یہ اُن (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متبعین) کی توجہ الی اللہ،ان کی شب بیداری اور ان کی تہجد گزاری کی تصویر ہے۔ مطلب یہ کہ جو بھی ان کو دیکھے گا،اس پر پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ دنیا کے عام انسانوں سے بالکل مختلف ایسے قدسی صفت لوگوں کی ایک جماعت ہے جن کی زندگی کا اصل نصب العین اللہ کی رضا طلبی ہے۔ چنانچہ کبھی وہ ان کو رکوع میں پائے گا اورکبھی سجود میں۔اس آیت کے اس سے ماقبل حصہ میں ان کا وہ پہلو (<<رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ>>: آپس میں ر حم دل ہیں) سامنے آیا ہے جس کا تعلق خَلق سے ہے۔اس ٹکڑے میں اُن کی زندگی کے اُس پہلو کی طرف اشارہ ہے جس کا تعلق خالق سے ہے‘‘۔ (تدبّرِ قرآن، ج ۷، ص ۴۷۲)
اُمّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: <<مَنْ اِلتْمَسَ رِضَا اللّٰہِ بسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مَؤْنَۃَ النَّاسِ وَ مَنْ الْتَمِسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَکَلَّہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ (جامع ترمذی،ابواب الزہد ،باب عاقبۃ من التمس رضی النّاس بسخط اللہ وکّلہ اللہ الی النّاس)>> ’’جو شخص اللہ کی رضا کی طلب میں لوگوں کی ناخوشی کی پرواہ نہیں کرے گا، اللہ اسے لوگوں کی فکر سے مستغنی (بے نیاز) کردے گا ،اور جو شخص انسانوں کی رضا حاصل کرنے میں اللہ کی ناخوشی کی پروا نہیں کرے گا تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کردے گا‘‘۔
اس حدیث کی تشریح میں شارحِ حدیث مولانا محمد فاروق خاں تحریر کرتے ہیں:’’آپؐ کے (اس) ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کو اصل فکر اس کی ہونی چاہیے کہ اسے دنیا وآخرت میں اللہ کی خوشنودی و رضا حاصل ہو۔ اُسے ایسے کام میںدل کھول کر حصہ لینا چاہیے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔اگر اس سے لوگ نا خوش ہو تے ہیں تو ہُو اکریں۔ ایسے موقع پر، جب کہ لوگوں کی خوشی اللہ کی خوشی سے ٹکرارہی ہو، آدمی کو اللہ کی خوشی کا لحاظ رکھنا چاہیے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں سے مستغنی کرد ے گا اوراس کی ضرورتوں اور حاجتوں کی خود کفالت کرے گا ، اس کی ضروریات اس طرح پوری کرے گا کہ وہ پہلے سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔لیکن اگر اسے اللہ کی ر ضا اور خوش نودی کی فکر نہیں ہے،بلکہ وہ بندوں کو راضی کرنے میں اپنی کامیابی سمجھ رہا ہے ، توایسے شخص کا ذمہ دار اللہ نہیں ہے۔وہ اس کو لوگوں ہی کے حوالے کرد یتا ہے اور وہ ان کی غلامی سے کبھی نجا ت نہیں پاسکتا۔اللہ کی سرپرستی سے محروم ہوکر وہ ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اسی کی طرح کمزور و بے بس ہوتے ہیں‘‘ (کلام نبوت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۱۴ء،ج۱،ص ۲۲۴-۲۲۵)